Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 52:30 Prev 52:28


Arabic

فَذَكِّرۡ فَمَآ أَنتَ بِنِعۡمَتِ رَبِّكَ بِكَاهِنٖ وَلَا مَجۡنُونٍ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

پس اے نبیؐ، تم نصیحت کیے جاؤ، اپنے رب کے فضل سے نہ تم کاہن ہو اور نہ مجنون


English (Sahih International)

So remind [O Muhammad], for you are not, by the favor of your Lord, a soothsayer or a madman


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 29{ فَذَکِّرْ فَمَآ اَنْتَ بِنِعْمَتِ رَبِّکَ بِکَاہِنٍ وَّلَا مَجْنُوْنٍ۔ } ”تو اے نبی ﷺ ! آپ تذکیر کرتے رہیے ‘ پس آپ اپنے رب کے فضل سے نہ کاہن ہیں اور نہ مجنون۔“ یہ خطاب اگرچہ حضور ﷺ سے ہے لیکن اصل میں سنانا ان لوگوں کو مقصود ہے جو آپ ﷺ کے ایسے نام رکھتے تھے۔ ان لوگوں کو نظر انداز کر کے حضور ﷺ کو مخاطب کر کے فرمایا جا رہا ہے کہ آپ ﷺ ان کی فضول باتوں پر بالکل توجہ نہ دیں اور لوگوں کو مسلسل تذکیر اور یاد دہانی کرتے رہیں۔ اس سے ملتا جلتا مضمون قبل ازیں گزشتہ سورت الذاریات میں بھی آچکا ہے۔ وہاں فرمایا گیا تھا : { فَتَوَلَّ عَنْہُمْ فَمَآ اَنْتَ بِمَلُوْمٍ - وَّذَکِّرْ فَاِنَّ الذِّکْرٰی تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِیْنَ۔ } ”پس اے نبی ﷺ ! آپ ان سے رخ پھیر لیں ‘ آپ پر کوئی ملامت نہیں ہے۔ اور آپ تذکیر کرتے رہیے ‘ کیونکہ یہ تذکیر اہل ایمان کے لیے بہت فائدہ مند ہے۔“ آپ ﷺ تذکیر و تبلیغ کا عمل مسلسل جاری رکھیے۔ کیا خبر کسی دل میں ایمان کی کوئی کلی کھلنے والی ہو ‘ کیا خبر آپ ﷺ کے کسی دشمن کا دل بھی موم ہونے والا ہو۔ حضرت عمر فاروق رض کے ایمان لانے کا واقعہ اس حقیقت کا گواہ ہے کہ تذکیر آہستہ آہستہ دلوں کو متاثر کرتی رہتی ہے اور پھر کسی وقت اچانک وہ گھڑی آپہنچتی ہے جب دل میں ایمان کی کلی کھل اٹھتی ہے۔ حضرت عمر رض اگرچہ حضور ﷺ کی مخالفت میں ہر وقت پیش پیش رہتے تھے لیکن چونکہ سخن شناس تھے اس لیے کلام الٰہی سننے کے لیے متجسس ّبھی رہتے تھے۔ روایات میں آتا ہے کہ حضور ﷺ رات کو صحن ِکعبہ میں قیام اللیل کے دوران قرآن مجید کی تلاوت فرمایا کرتے تو کبھی کبھی حضرت عمر رض چھپ کر حضور ﷺ کی زبان مبارک سے تلاوت سنتے اور کلام الٰہی کی تاثیر کو اپنی روح کی گہرائیوں میں محسوس کرتے تھے۔ گویا حضور ﷺ کی تذکیر اور قرآن کی تاثیر تدریجاً ان کے دل میں گھر کر رہی تھی۔ اسی تدریجی عمل کے باعث آپ رض کے خیالات و جذبات میں اندر ہی اندر ایک مثبت تبدیلی آنا شروع ہوئی۔ اس کے بعد مشیت الٰہی سے وہ واقعہ رونما ہوا جس کے باعث اس خاموش تبدیلی کو اظہار کا موقع ملا اور آپ رض کو ایمان کی دولت نصیب ہوگئی۔ اس دن تو آپ رض گھر سے حضور ﷺ کو قتل کرنے کی نیت سے نکلے تھے۔ راستے میں اپنی بہن فاطمہ رض بنت خطاب اور اپنے بہنوئی حضرت سعید رض بن زید سے الجھ پڑے۔ آپ رض کے تشدد کا سامنا کرتے ہوئے بہن نے جب ڈٹ کر کہا کہ عمر تم جو چاہے کرلو ‘ اب ہم اپنے دین کو چھوڑنے والے نہیں ! تو آپ رض اپنی بہن کے اس غیر معمولی عزم اور حوصلے کے سامنے ڈھیر ہوگئے۔ پھر کیا تھا ‘ آپ رض کے دل کا ”بند“ یکدم کھل گیا اور آپ رض نے حق کو اعلانیہ قبول کرلیا۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 29 to 34.

جب آدمی ایک دعوت کے مقابلہ میں اپنے آپ کو بے دلیل پائے، اس کے باوجود وہ اس کو ماننا نہ چاہے تو وہ یہ کرتا ہے کہ داعی کی ذات میں عیب لگانا شروع کردیتا ہے۔ وہ کلام کے بجائے متکلم کو اپنا نشانہ بناتا ہے۔ یہی وہ نفسیات تھی جس کے تحت پیغمبر کے مخاطبین نے آپ کو شاعر اور مجنون کہنا شروع کیا۔ وہ آپ کی دعوت کو دلیل سے رد نہیں کرسکتے تھے۔ اس لیے وہ آپ کے بارے میں ایسی باتیں کہنے لگے جن سے آپ کی شخصیت مشتبہ ہوجائے۔

مگر پیغمبر خدا سے لے کر بولتا ہے۔ اور جو انسان خدا سے لے کر بولے اس کا کلام اتنا ممتاز طور پر دوسروں کے کلام سے مختلف ہوتا ہے کہ اس کے مثل کلام پیش کرنا کسی کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔ اور یہ واقعہ اس بات کا سب سے بڑا ثبوت ہوتا ہے کہ اس کا کلام خدائی کلام ہے، وہ عام معنوں میں محض انسانی کلام نہیں۔


Connections

  • Previous: 52_28
  • Next: 52_30
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes