Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 52:22 Prev 52:20


Arabic

وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَٱتَّبَعَتۡهُمۡ ذُرِّيَّتُهُم بِإِيمَٰنٍ أَلۡحَقۡنَا بِهِمۡ ذُرِّيَّتَهُمۡ وَمَآ أَلَتۡنَٰهُم مِّنۡ عَمَلِهِم مِّن شَيۡءٖۚ كُلُّ ٱمۡرِيِٕۭ بِمَا كَسَبَ رَهِينٞ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

جو لوگ ایمان لائے ہیں اور اُن کی اولاد بھی کسی درجہ ایمان میں ان کے نقش قدم پر چلی ہے ان کی اُس اولاد کو بھی ہم (جنت میں) اُن کے ساتھ ملا دیں گے اور اُن کے عمل میں کوئی گھاٹا ان کو نہ دیں گے ہر شخص اپنے کسب کے عوض رہن ہے


English (Sahih International)

And those who believed and whose descendants followed them in faith - We will join with them their descendants, and We will not deprive them of anything of their deeds. Every person, for what he earned, is retained


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 21{ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَاتَّبَعَتْہُمْ ذُرِّیَّتُہُمْ بِاِیْمَانٍ اَلْحَقْنَا بِہِمْ ذُرِّیَّـتَہُمْ } ”اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور ان کی اولاد نے بھی ان کی پیروی کی ایمان کے ساتھ ‘ ہم ملا دیں گے ان کے ساتھ ان کی اس اولاد کو“ قبل ازیں اس مضمون کا ذکر سورة المومن میں حاملین عرش اور ان کے ساتھی فرشتوں کی دعا کے ضمن میں بھی آچکا ہے۔ وہ اللہ کے حضور مومنین کے لیے یوں دعا کر رہے ہوں گے : { رَبَّـنَا وَاَدْخِلْہُمْ جَنّٰتِ عَدْنِ نِ الَّتِیْ وَعَدْتَّہُمْ وَمَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَـآئِ ہِمْ وَاَزْوَاجِہِمْ وَذُرِّیّٰتِہِمْط اِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ۔ } ”اے ہمارے پروردگار ! انہیں داخل فرما ناان رہنے والے باغات میں جن کا تو نے ان سے وعدہ کیا ہے اور ان کو بھی جو نیک ہوں ان کے آباء و اَجداد ‘ ان کی بیویوں اور ان کی اولاد میں سے۔ تو یقینا زبردست ہے ‘ کمالِ حکمت والا ہے“۔ اب زیرمطالعہ آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے اس کریمانہ فیصلے کا خود اعلان فرما رہے ہیں کہ ہم اہل جنت کی اولاد کو ان کے ساتھ ملا دیں گے۔ یعنی نچلے درجے کی جنت کے مستحق افراد کو بھی ان کے والدین کے برابر لے آئیں گے جو اعلیٰ درجات کی جنتوں میں متمکن ہوں گے۔ { وَمَآ اَلَتْنٰہُمْ مِّنْ عَمَلِہِمْ مِّنْ شَیْئٍ ط } ”اور ہم ان کے عمل میں سے کوئی کمی نہیں کریں گے۔“ یعنی اگر کوئی شخص اعلیٰ درجے کی جنت میں ہے اور اس کے اہل و عیال نسبتاً نچلے درجے میں ہیں تو یہ نہیں ہوگا کہ اس شخص کو اس کے اہل و عیال کے پاس نچلے درجے میں بھیج دیا جائے بلکہ اس کے اہل و عیال کے درجات بلند کر کے اس کے برابر کردیا جائے گا۔ گویا اہل جنت کے اکرام کے لیے یہ اللہ تعالیٰ کا خصوصی فضل ہوگا کہ ان کے رشتے داروں میں سے جو کوئی کم سے کم درجے کی جنت کا بھی مستحق ہوجائے گا اسے ترقی دے کر ان کے اعلیٰ جنتوں والے رشتے داروں سے ملا دیا جائے گا تاکہ انہیں آنکھوں کی ٹھنڈک نصیب ہو۔ { کُلُّ امْرِیٍٔ م بِمَا کَسَبَ رَہِیْنٌ۔ } ”ہر انسان اپنی کمائی کے عوض رہن ہوگا۔“


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 21 to 28.

آخرت میں ایسا نہیں ہوگا کہ ایک شخص کا گناہ دوسرے شخص کے اوپر ڈال دیا جائے۔ اور نہ کوئی شخص ایمان و عمل کے بغیر جنت میں داخلہ پا سکے گا۔ البتہ اہل جنت کے ساتھ ایک خاص فضل کا معاملہ یہ ہوگا کہ والدین اگر جنت کے بلند درجہ میں ہوں اور ان کی اولاد کسی اور درجے میں تو اولاد کو بھی ان کے والدین کے ساتھ ملا دیا جائے گا۔ تاکہ انہیں مزید خوشی حاصل ہوسکے۔

جنت کی لطیف دنیا میں داخلہ کا مستحق صرف وہ شخص ہوگا جس کا حال یہ تھا کہ اپنے بیوی بچوں کے درمیان رہتے ہوئے بھی اس کو اللہ کا خوف تڑپائے ہوئے تھا، اور جس نے اپنی امیدوں اور اپنے اندیشوں کو صرف ایک اللہ کے ساتھ وابستہ کر رکھا تھا۔


Connections

  • Previous: 52_20
  • Next: 52_22
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes