Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
كَذَٰلِكَ مَآ أَتَى ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِهِم مِّن رَّسُولٍ إِلَّا قَالُواْ سَاحِرٌ أَوۡ مَجۡنُونٌ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
یونہی ہوتا رہا ہے، اِن سے پہلے کی قوموں کے پاس بھی کوئی رسول ایسا نہیں آیا جسے انہوں نے یہ نہ کہا ہو کہ یہ ساحر ہے یا مجنون
English (Sahih International)
Similarly, there came not to those before them any messenger except that they said, “A magician or a madman
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 52{ کَذٰلِکَ مَآ اَتَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا قَالُوْا سَاحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌ۔ } ”اسی طرح ہوتا آیا ہے کہ نہیں آیا تھا ان سے پہلے لوگوں کے پاس کوئی رسول مگر انہوں نے یہی کہا تھا کہ یہ ساحر ہے یا مجنون ہے۔“
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 52 to 55.
ایک سنجیدہ آدمی اگر کسی بات کی دلیل مانگے تو دلیل سامنے آنے کے بعد وہ اس کو مان لیتا ہے۔ مگر جو لوگ سرکشی کا مزاج رکھتے ہوں انہیں کسی بھی دلیل سے چپ نہیں کیا جاسکتا۔ وہ ہر دلیل کو نہ ماننے کے لیے دوبارہ کچھ نئے الفاظ پا لیں گے۔ حتی کہ اگر ان کے سامنے ایسی دلیل پیش کردی جائے جس کا توڑ ممکن نہ ہو تو وہ یہ کہہ کر اسے نظر انداز کردیں گے کہ یہ تو جادو ہے۔
یہ ان لوگوں کا حال ہے جن کو قوم کے اندر بڑائی کا درجہ مل گیا ہو۔ ایسے لوگوں کے لیے ان کی بڑائی کا احساس اس میں رکاوٹ بن جاتا ہے کہ وہ کسی دوسرے شخص کی زبان سے جاری ہونے والی سچائی کو مان لیں۔ ایسے لوگ اگر دعوت حق کو نہ مانیں تو داعی کو مایوس نہ ہونا چاہيے۔ وہ ان دوسرے لوگوں میں اپنے حامی پا لے گا جو جھوٹی بڑائی کے احساس میں مبتلا ہونے سے بچے ہوئے ہوں۔