Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 51:21 Prev 51:19


Arabic

وَفِي ٱلۡأَرۡضِ ءَايَٰتٞ لِّلۡمُوقِنِينَ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

زمین میں بہت سی نشانیاں ہیں یقین لانے والوں کے لیے


English (Sahih International)

And on the earth are signs for the certain [in faith]


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 20{ وَفِی الْاَرْضِ اٰیٰتٌ لِّلْمُوْقِنِیْنَ۔ } ”اور زمین میں ہر چہارطرف نشانیاں ہیں یقین کرنے والوں کے لیے۔“ سورة البقرۃ ‘ آیت 164 آیت الآیات میں اللہ تعالیٰ کی ان نشانیوں کا ذکر تفصیل کے ساتھ ہوا ہے۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 20 to 23.

اللہ تعالیٰ نے دنیا کو اس طرح بنایا ہے کہ موجودہ معلوم دنیا بعد کو آنے والی نامعلوم دنیا کی نشانی بن گئی ہے۔ زمین میں پھیلے ہوئے مادی واقعات اور انسان کے اندر چھپے ہوئے احساسات دونوں بالواسطہ انداز میں اس واقعہ کی پیشگی خبر دے رہے ہیں، جو موت کے بعد براہ راست انداز میں انسان کے سامنے آنے والا ہے۔ انہیں نشانیوں میں سے ایک نشانی نطق (بولنا) ہے۔

حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ آخرت میں جو کچھ ملے گا وہ خود آدمی کے اپنے اعمال ہوں گے جو اس کی طرف لوٹا دیے جائیں گے (إِنَّمَا هِيَ أَعْمَالُكُمْ تُرَدُّ إِلَيْكُمْ) حلية الأولياء، جلد5، صفحہ

125

۔گویا آخرت کی دنیا موجودہ دنیا ہی کا مثنی (counterpart) ہے۔ آدمی کا نطق اسی امکان کا ایک جزئی مظاہرہ ہے۔ آدمی کی آواز ٹیپ پر ریکارڈ کردی جائے اور پھر ٹیپ کو بجایا جائے تو عین وہی آواز اس سے نکلتی ہے جو انسان کی آواز تھی۔ ٹیپ کی آواز انسان کی اصل آواز کا مثنی (counterpart) ہے۔ اس طرح آواز جزئی سطح پر اس واقعہ کا تجربہ کرا رہی ہے جو کلی سطح پر آخرت میں ظاہر ہونے والا ہے۔

’’وہ یقینی ہے تمہارے نطق کی طرح‘‘ یعنی جب تمہارے نطق کی تکرار ممکن ہے تو تمہارے وجود کی تکرار کیوں ممکن نہیں۔ انسانی ہستی کے ایک جزء کی کامل تکرار کا مشاہدہ اسی دنیا میں ہو رہا ہے، اسی سے قیاس کیا جاسکتا ہے کہ انسانی ہستی کے کامل مجموعہ کی تکرار بھی ہوسکتی ہے۔


Connections

  • Previous: 51_19
  • Next: 51_21
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes