Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
وَٱسۡتَمِعۡ يَوۡمَ يُنَادِ ٱلۡمُنَادِ مِن مَّكَانٖ قَرِيبٖ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
اور سنو، جس دن منادی کرنے والا (ہر شخص کے) قریب ہی سے پکارے گا
English (Sahih International)
And listen on the Day when the Caller will call out from a place that is near
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 41{ وَاسْتَمِعْ یَوْمَ یُـنَادِ الْمُنَادِ مِنْ مَّـکَانٍ قَرِیْبٍ۔ } ”اور کان لگائے رکھو جس دن پکارنے والا پکارے گا بہت قریب کی جگہ سے۔“ یعنی اس دن کے منتظررہو جب صور میں پھونکا جائے گا اور ہر شخص کو اس کی آواز بہت قریب سے آتی ہوئی محسوس ہوگی۔ صور کی آواز ایسی زوردار اور خوفناک ہوگی کہ اس سے ہر جان دار کی موت واقع ہوجائے گی۔ اس کے بعد سب انسانوں کو زندہ کر کے محشر میں جمع کرنے کے لیے پھر صور پھونکا جائے گا۔ یہاں اسی دوسرے صور کا ذکر ہے۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 41 to 44.
قیامت کی کوئی تاریخ مقرر نہیں۔ کسی بھی وقت اللہ تعالیٰ کا حکم ہوگا اور اسرافیل صور میں پھونک مار کر اس کی اچانک آمد کی اطلاع دے دیں گے۔
جو لوگ خدا سے غافل ہیں وہ قیامت کو دور کی چیز سمجھتے ہیں۔ مگر جو سچا مومن ہے وہ ہر آن اس اندیشہ میں رہتا ہے کہ کب صور پھونک دیا جائے اور کب قیامت آجائے۔ صور پھونکے جانے کے بعد زمین و آسمان کا نقشہ بدل چکا ہوگا اور تمام لوگ ایک نئی دنیا میں جمع کیے جائیں گے تاکہ اپنے اپنے عمل کے مطابق اپنا ابدی انجام پا سکیں۔