Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 50:37 Prev 50:35


Arabic

وَكَمۡ أَهۡلَكۡنَا قَبۡلَهُم مِّن قَرۡنٍ هُمۡ أَشَدُّ مِنۡهُم بَطۡشٗا فَنَقَّبُواْ فِي ٱلۡبِلَٰدِ هَلۡ مِن مَّحِيصٍ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

ہم ان سے پہلے بہت سی قوموں کو ہلاک کر چکے ہیں جو ان سے بہت زیادہ طاقتور تھیں اور دنیا کے ملکوں کو انہوں نے چھان مارا تھا پھر کیا وہ کوئی جائے پناہ پا سکے؟


English (Sahih International)

And how many a generation before them did We destroy who were greater than them in [striking] power and had explored throughout the lands. Is there any place of escape


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 36 { وَکَمْ اَہْلَکْنَا قَـبْلَہُمْ مِّنْ قَرْنٍ ہُمْ اَشَدُّ مِنْہُمْ بَطْشًا فَنَقَّــبُوْا فِی الْبِلَادِ ط ہَلْ مِنْ مَّحِیْصٍ۔ } ”اور کتنی ہی قوموں کو ہم نے ان سے پہلے ہلاک کیا ہے جو قوت میں ان سے بڑھ کر تھیں ‘ سو انہوں نے ملکوں کے ملک فتح کیے ! پھر کیا وہ کوئی جائے فرار پا سکے ؟“ نَقَبَ کا معنی ہے نقب لگانا ‘ یعنی دیوار میں سوراخ کرنا ‘ جبکہ نَقَّبَ فِی الْاَرْضِ باب تفعیل کا مفہوم ہے : بھاگ دوڑ کرتے ہوئے کسی ملک میں جا گھسنا ‘ یعنی کسی علاقے کو فتح کرلینا۔ وہ لوگ اتنے زور آور تھے کہ اپنی فتوحات کا دائرہ وسیع کرنے کے لیے مختلف علاقوں میں گھستے چلے گئے اور ملکوں پر ملک فتح کرتے چلے گئے ‘ لیکن جب اللہ کی پکڑ آئی تو انہیں بھاگنے کو جگہ نہ ملی۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 36 and 37.

قومیں ابھرتی ہیں اور عروج کو پہنچ جاتی ہیں مگر جب وہ اپنی بد اعمالی کے نتیجہ میں خدا کی زد میں آتی ہیں تو ان کا حال یہ ہوتا ہے کہ زمین میں کہیں کوئی جگہ نہیں ہوتی جہاں وہ بھاگ کر پناہ لے سکیں۔ تاریخ کے ان واقعات میں زبردست نصیحت ہے۔ مگر نصیحت وہ شخص لے گا جس کے اندر یا تو سوچنے کی صلاحیت زندہ ہو کہ وہ خود واقعات کے خاموش پیغام کو اخذ کرسکے۔ یا اس کے اندر سننے کی صلاحیت زندہ ہو کہ جب اس کو بتایا جائے تو وہ اس کے اندرون تک بلا روک ٹوک پہنچے۔


Connections

  • Previous: 50_35
  • Next: 50_37
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes