Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 50:33 Prev 50:31


Arabic

هَٰذَا مَا تُوعَدُونَ لِكُلِّ أَوَّابٍ حَفِيظٖ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

ارشاد ہوگا “یہ ہے وہ چیز جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا، ہر اُس شخص کے لیے جو بہت رجوع کرنے والا اور بڑی نگہداشت کرنے والا تھا


English (Sahih International)

[It will be said], “This is what you were promised - for every returner [to Allah] and keeper [of His covenant]


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 32 { ہٰذَا مَا تُوْعَدُوْنَ } ”ان سے کہا جائے گا یہ ہے جس کا وعدہ تم لوگوں سے کیا جاتا تھا“ { لِکُلِّ اَوَّابٍ حَفِیْظٍ۔ } ”ہر اس شخص کے لیے جو اللہ کی طرف رجوع کرنے والا اور حفاظت کرنے والا ہو۔“ یعنی اس امانت کی حفاظت کرنے والا جو ہم نے اس کے سپرد کی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے انسان میں جو روح پھونکی ہے وہ اس کے پاس اللہ کی امانت ہے ‘ جیسا کہ سورة الاحزاب کی اس آیت سے واضح ہوتا ہے : { اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَۃَ عَلَی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَالْجِبَالِ فَاَبَیْنَ اَنْ یَّحْمِلْنَہَا وَاَشْفَقْنَ مِنْہَا وَحَمَلَہَا الْاِنْسَانُط } آیت 72 ”ہم نے اس امانت کو پیش کیا آسمانوں پر اور زمین پر اور پہاڑوں پر تو ان سب نے انکار کردیا اس کو اٹھانے سے اور وہ اس سے ڈر گئے اور انسان نے اسے اٹھا لیا“۔ چناچہ ”حَفِیْظ“ سے ایسا شخص مراد ہے جس نے اس امانت کا حق ادا کیا اور اپنی روح کو گناہ کی آلودگی سے محفوظ رکھا۔ سورة الشعراء میں ایسی محفوظ اور پاکیزہ روح کو ”قلب سلیم“ کا نام دیا گیا ہے : { یَوْمَ لَا یَنْفَعُ مَالٌ وَّلَا بَنُوْنَ۔ اِلَّا مَنْ اَتَی اللّٰہَ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍ۔ } ”جس دن نہ مال کام آئے گا اور نہ بیٹے۔ سوائے اس کے جو آئے اللہ کے پاس قلب ِسلیم لے کر“۔ اس مضمون کی مزید وضاحت کے لیے ملاحظہ ہو سورة الاحزاب کی آیت 72 کی تشریح۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

The commentary on this ayah is given with ayah 50:30.


Connections

  • Previous: 50_31
  • Next: 50_33
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes