Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 5:73 Prev 5:71


Arabic

لَقَدۡ كَفَرَ ٱلَّذِينَ قَالُوٓاْ إِنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلۡمَسِيحُ ٱبۡنُ مَرۡيَمَۖ وَقَالَ ٱلۡمَسِيحُ يَٰبَنِيٓ إِسۡرَـٰٓءِيلَ ٱعۡبُدُواْ ٱللَّهَ رَبِّي وَرَبَّكُمۡۖ إِنَّهُۥ مَن يُشۡرِكۡ بِٱللَّهِ فَقَدۡ حَرَّمَ ٱللَّهُ عَلَيۡهِ ٱلۡجَنَّةَ وَمَأۡوَىٰهُ ٱلنَّارُۖ وَمَا لِلظَّـٰلِمِينَ مِنۡ أَنصَارٖ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

یقیناً کفر کیا اُن لوگوں نے جنہوں نے کہا کہ اللہ مسیح ابن مریم ہی ہے حالانکہ مسیح نے کہا تھا کہ “اے بنی اسرائیل! اللہ کی بندگی کرو جو میرا رب بھی ہے اور تمہارا رب بھی” جس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھیرایا اُس پر اللہ نے جنت حرام کر دی اور اُس کا ٹھکانا جہنم ہے اور ایسے ظالموں کا کوئی مدد گار نہیں


English (Sahih International)

They have certainly disbelieved who say, “Allah is the Messiah, the son of Mary” while the Messiah has said, “O Children of Israel, worship Allah, my Lord and your Lord.” Indeed, he who associates others with Allah - Allah has forbidden him Paradise, and his refuge is the Fire. And there are not for the wrongdoers any helpers


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

This commentary covers ayaat 72 to 74.

آیت 72 لَقَدْ کَفَرَ الَّذِیْنَ قَا لُوْٓا اِنَّ اللّٰہَ ھُوَ الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَم ط یہ وہی بات ہے جو اس سے پہلے اسی سورة کی آیت 17 میں آچکی ہے ‘ یعنی اللہ ہی نے مسیح علیہ السلام کی شخصیت کا لبادہ اوڑھ لیا ہے۔ اِنَّہٗ مَنْ یُّشْرِکْ باللّٰہِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّٰہُ عَلَیْہِ الْجَنَّۃَ وَمَاْوٰٹہ النَّارُط وَمَا للظّٰلِمِیْنَ مِنْ اَنْصَارٍ اب عیسائیوں کے شرک کی ایک دوسری شکل کا ذکر ہو رہا ہے۔ ان کا ایک عقیدہ تو God incarnate کا تھا۔ یہ ان میں سے ایک فرقے Jacobites کا عقیدہ تھا کہ خود اللہ تعالیٰ ہی نے عیسیٰ علیہ السلام کی شکل میں انسانی روپ دھار لیا ہے۔ اوپر اسی عقیدے کا ذکر ہوا ہے ‘ لیکن عیسائیوں کے ہاں ایک عقیدہ تثلیث کا بھی ہے ‘ اور اس عقیدہ کی بھی ان کے ہاں دو شکلیں ہیں۔ ابتدا میں جو تثلیث تھی اس میں اللہ ‘ حضرت مریم اور حضرت مسیح شامل تھے۔ یعنی God the Father , God the Mother and God the Son. دراصل یہ تثلیث مصر میں فراعنہ کے زمانے سے چلی آرہی تھی۔ اسی کے اندر انہوں نے عیسائیت کو ڈھال دیا ‘ تاکہ مصر کے لوگ آسانی سے عیسائیت قبول کرلیں۔ اس کے بعد حضرت مریم کو اس تثلیث میں سے نکال دیا گیا اور Holy Ghost یا Holy Spirit روح القدس کو ان کی جگہ شامل کرلیا گیا اور اس طرح “God the father , God the Son and God the Holy Ghost” پر مشتمل تثلیث وجود میں آئی۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 72 to 76.

حضرت مسیح کو اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی معجزے ديے۔ یہ معجزے اس لیے تھے کہ لوگ آپ کے پیغمبر ہونے کو پہچانیں اور آپ پر ایمان لائیں۔ مگر معاملہ برعکس ہوا۔ عیسائیوں نے آپ کے معجزات کو دیکھ کر یہ عقیدہ قائم کیا کہ آپ خدا ہیں۔ آپ کے اندر خدا حلول كيے ہوئے ہے۔ یہود نے یہ کہہ کر آپ کو نظر انداز کردیا کہ یہ ایک شعبدہ باز اور جادو گر ہیں۔ حضرت مسیح اللہ کی طرف سے لوگوں کی ہدایت کے لیے آئے تھے۔ مگر ایک گروہ نے آپ سے شرک کی غذا لی اور دوسرے گروہ نے انکار کی۔

معبود وہی ہوسکتا ہے جو خود بے احتیاج ہو اور دوسرے کو نفع نقصان پہنچانے کی قدرت رکھے۔ کھانا آدمی کے محتاج ہونے کی آخری علامت ہے۔ جو کھانے کا محتاج ہے وہ ہر چیز کا محتاج ہے۔ جو شخص کھانا کھاتا ہو وہ مکمل طورپر ایک محتاج ہستی ہے۔ ایسی ہستی خدا کس طرح ہو سکتی ہے۔ یہی معاملہ نفع نقصان کا ہے۔ کسی کو نفع ملنا یا کسی کو نقصان پہنچنا ایسے واقعات ہیں جن کے ظہور میںآنے کے لیے پوری کائنات کی مساعدت درکار ہوتی ہے۔ کوئی بھی شخص اس قسم کے کائناتی اسباب فراہم کرنے پر قادر نہیں۔ اس لیے انسانوں میں سے کسی انسان کا یہ درجہ بھی نہیں ہوسکتا کہ اس کو معبود فرض کرلیا جائے۔

جب بھی آدمی خدا کے سوا کسی اور کو اپنی عقیدت ومحبت کا مرکز بناتا ہے تو اس کے پیچھے یہ چھپا ہوا جذبہ ہوتا ہے کہ اس کو خدا کی دنیا میں کوئی بڑا درجہ حاصل ہے۔ وہ خدا کے یہاں اس کا مددگار بن سکتا ہے۔ مگر اس قسم کی تمام امیدیں محض جھوٹی امیدیں ہیں۔ موجودہ امتحان کی دنیا میں خدا کے سوا دوسری چیزوں کا بے بس ہونا کھلا ہوا نہیں ہے۔ اس لیے یہاں آدمی غلط فہمی میں پڑا ہوا ہے۔ مگر آخرت میں جب تمام حقائق کھول ديے جائیں گے تو آدمی دیکھے گا کہ خدا کے سوا جن سہاروں پر وہ بھروسہ كيے ہوئے تھا وہ کس قدر بے قیمت تھے۔


Connections

  • Previous: 5_71
  • Next: 5_73
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes