Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
۞يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَتَّخِذُواْ ٱلۡيَهُودَ وَٱلنَّصَٰرَىٰٓ أَوۡلِيَآءَۘ بَعۡضُهُمۡ أَوۡلِيَآءُ بَعۡضٖۚ وَمَن يَتَوَلَّهُم مِّنكُمۡ فَإِنَّهُۥ مِنۡهُمۡۗ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَهۡدِي ٱلۡقَوۡمَ ٱلظَّـٰلِمِينَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! یہودیوں اور عیسائیوں کو اپنا رفیق نہ بناؤ، یہ آپس ہی میں ایک دوسرے کے رفیق ہیں اور اگر تم میں سے کوئی ان کو اپنا رفیق بناتا ہے تو اس کا شمار بھی پھر انہی میں ہے، یقیناً اللہ ظالموں کو اپنی رہنمائی سے محروم کر دیتا ہے
English (Sahih International)
O you who have believed, do not take the Jews and the Christians as allies. They are [in fact] allies of one another. And whoever is an ally to them among you - then indeed, he is [one] of them. Indeed, Allah guides not the wrongdoing people
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 51 یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تَتَّخِذُوا الْیَہُوْدَ وَالنَّصٰرآی اَوْلِیَآءَ بَعْضُہُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ ط ان میں سے بعض بعض کے پشت پناہ اور مددگار ہیں۔ یہ درحقیقت ایک پیشین گوئی تھی جو اس دور میں آکر پوری ہوئی ہے۔ جب قرآن نازل ہوا تو صورت حال وہ تھی جو ہم قبل ازیں اس سورة کی آیت 14 میں پڑھ آئے ہیں : فَاَغْرَیْنَا بَیْنَہُمُ الْعَدَاوَۃَ وَالْبَغْضَآءَ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ ط پس ہم نے ان کے مابین عداوت اور بغض کی آگ بھڑکا دی روز قیامت تک کے لیے۔ چناچہ عیسائیوں اور یہودیوں کے مابین ہمیشہ شدید دشمنی رہی ہے اور آپس میں کشت و خون ہوتا رہا ہے ‘ لیکن زیر نظر الفاظ بَعضُھُمْ اَوْلیَاءُ بَعْضٍ میں جو پیشین گوئی تھی وہ بیسویں صدی میں آکر پوری ہوئی ہے۔ بالفور ڈیکلریشن 1917 ء کے بعد کی صورت حال میں ان کا باہمی گٹھ جوڑ شروع ہوا ‘ جس کے نتیجے میں برطانیہ اور امریکہ کے زیراثر اسرائیل کی حکومت قائم ہوئی ‘ اور اب بھی اگر وہ قائم ہے تو اصل میں انہی عیسائی ملکوں کی پشت پناہی کی وجہ سے قائم ہے۔ عیسائی اب یہودیوں کی اس لیے پشت پناہی کر رہے ہیں کہ ان کی ساری معیشت یہودی بینکاروں کے زیر تسلط ہے۔ عیسائیوں کی معیشت پر یہودیوں کے قبضہ کی وجہ سے یہود و نصاریٰ کا یہ گٹھ جوڑ اس درجہ مستحکم ہوچکا ہے کہ آج عیسائیوں کی پوری عسکری طاقت یہودیوں کی پشت پر ہے۔ وَمَنْ یَّتَوَلَّہُمْ مِّنْکُمْ فَاِنَّہٗ مِنْہُمْ ط۔یعنی جو کوئی ان سے دوستی کے معاہدے کرے گا ‘ ان سے نصرت و حمایت کا طلب گار ہوگا ‘ ہماری نگاہوں میں وہ یہودی یا نصرانی شمار ہوگا۔ اِنَّ اللّٰہَ لاَ یَہْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ آج ہمارے اکثر مسلمان ممالک کی پالیسیاں کیا ہیں اور اس سلسلے میں قرآن کا فتویٰ کیا ہے ‘ وہ آپ کے سامنے ہے۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 51 to 53.
عرب میں مسلمان ابھی ایک نئی طاقت کی حیثیت رکھتے تھے۔ مزید یہ کہ ان کے مخالفین ان کو اکھاڑنے کی کوشش میں رات دن لگے ہوئے تھے۔ دوسری طرف عرب کے یہودی اور عیسائی قبائل کا یہ حال تھا کہ وهاں کے بیشتر اقتصادی وسائل پر ان کا قبضہ تھا۔ صدیوں کی تاریخ نے ان کی عظمت لوگوں کے دلوںپر بٹھا رکھی تھی۔ لوگوں کو یقین نہیں تھا کہ ایسی طاقت کو ملک سے ختم کیا جاسکتا ہے۔ چنانچہ مسلمانوں کی جماعت میں جو کمزور لوگ تھے وہ چاہتے تھے کہ اسلام کی جدوجہد میں اس طرح شریک نہ ہوں کہ یہود ونصاریٰ کو اپنا دشمن بنالیں۔ تاکہ یہ کش مکش اگر مسلمانوں کی شکست پر ختم ہوتو یہود ونصاریٰ کی طرف سے انھیں کسی انتقامی کارروائی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ یہ لوگ مستقبل کے موہوم خطرہ سے بچنے کے لیے اپنے کو وقت کے یقینی خطرہ میں مبتلا کررہے تھے، اور وہ ان کی دہری وفاداری تھی۔ جو شخص بے ضرر معاملات میں حق پرست بنے اور ضرر کا اندیشہ ہوتو باطل پرستوں کا ساتھ دینے لگے، اس کا انجام خدا کے یہاں انھیں لوگوں میں ہوگا جن کا اس نے خطرہ کے مواقع پر ساتھ دیا۔
کسی کی زندگی میں وہ وقت بڑا نازک ہوتا ہے جب کہ اسلام پر قائم رہنے کے لیے اس کو کسی قسم کی قربانی دینی پڑے۔ ایسے مواقع آدمی کے اسلام کی تصدیق یا تردید کرنے کے لیے آتے ہیں۔ خدا چاہتا ہے کہ آدمی جس اسلام کا ثبوت بے خطر حالات میں دے رہا تھا اسی اسلام کا ثبوت وہ اس وقت بھی دے جب کہ جذبات کو دبا کر یا جان ومال کا خطرہ مول لے کر آدمی اپنے اسلام کا ثبوت پیش کرتا ہے۔ اس امتحان میں پورا اترنے کے بعد ہی آدمی اس قابل بنتا ہے کہ اس کا خدا اس کو اپنے وفادار بندوں میں لکھ لے۔ ان مواقع پر استقامت کا ثبوت دینا ہی کسی آدمی کے پچھلے اعمال کو باقیمت بناتا ہے۔ اور اگر وہ ایسے مواقع پر استقامت کا ثبوت نہ دے سکے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے اپنے پچھلے تمام اعمال کو بے قیمت کرلیا۔
دنیا کا ہر امتحان ارادہ کا امتحان ہے۔ آدمی کو صرف یہ کرنا ہے کہ وہ خطرات کو نظر انداز کرکے ارادہ کا ثبوت دے دے، وہ اللہ کی طرف اپنا پہلا قدم اٹھا دے۔ اس کے بعد فوراً خدا کی مدد اس کا سہارا بن جاتی ہے۔ مگر جو شخص ارادہ کا ثبوت نہ دے، جو خدا کی طرف اپنا پہلا قدم نہ اٹھائے وہ اللہ کی نظر میں ظالم ہے۔ ایسے لوگوں کو خدا یک طرفہ طورپر اپنی مدد کا سہارا نہیں بھیجتا۔