Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 5:19 Prev 5:17


Arabic

وَقَالَتِ ٱلۡيَهُودُ وَٱلنَّصَٰرَىٰ نَحۡنُ أَبۡنَـٰٓؤُاْ ٱللَّهِ وَأَحِبَّـٰٓؤُهُۥۚ قُلۡ فَلِمَ يُعَذِّبُكُم بِذُنُوبِكُمۖ بَلۡ أَنتُم بَشَرٞ مِّمَّنۡ خَلَقَۚ يَغۡفِرُ لِمَن يَشَآءُ وَيُعَذِّبُ مَن يَشَآءُۚ وَلِلَّهِ مُلۡكُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَاۖ وَإِلَيۡهِ ٱلۡمَصِيرُ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

یہود اور نصاریٰ کہتے ہیں کہ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے چہیتے ہیں ان سے پوچھو، پھر وہ تمہارے گناہوں پر تمہیں سزا کیوں دیتا ہے؟ در حقیقت تم بھی ویسے ہی انسان ہو جیسے اور انسان خدا نے پیدا کیے ہیں وہ جسے چاہتا ہے معاف کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے سزا دیتا ہے زمین اور آسمان اور ان کی ساری موجودات اس کی مِلک ہیں، اور اسی کی طرف سب کو جانا ہے


English (Sahih International)

But the Jews and the Christians say, “We are the children of Allah and His beloved.” Say, “Then why does He punish you for your sins?” Rather, you are human beings from among those He has created. He forgives whom He wills, and He punishes whom He wills. And to Allah belongs the dominion of the heavens and the earth and whatever is between them, and to Him is the [final] destination


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 18 وَقَالَتِ الْیَہُوْدُ وَالنَّصٰرٰی نَحْنُ اَبْنآؤُا اللّٰہِ وَاَحِبَّآؤُہٗ ط یعنی بیٹوں کی مانند ہیں ‘ بڑے لاڈلے اور پیارے ہیں۔قُلْ فَلِمَ یُعَذِّبُکُمْ بِذُنُوْبِکُمْ ط اگر تم اللہ کی اولاد ہو ‘ اس کے بڑے چہیتے ہو ‘ تو کیا اسی لیے بخت نصر Nebukadnezar کے ہاتھوں اس نے تمہیں پٹوایا ‘ تمہارے چھ لاکھ افراد قتل کر وا دیے ‘ چھ لاکھ قیدی بنے ‘ تمہارا ہیکل اوّل بھی شہید کردیا گیا۔ پھر آشوریوں نے تمہاری سلطنت اسرائیل کو روند ڈالا۔ پھر یونانیوں کے ہاتھوں تمہارا استحاصل ہوا۔ پھر رومیوں نے تمہارے اوپر ظلم و بربریت کے پہاڑ توڑے اور رومن جنرل طیطس Titus نے تمہارا دوسرا ہیکل بھی مسمار کردیا۔ کیا ایسے ہی لاڈلے ہوتے ہیں اللہ کے ؟ کیا اللہ اتنا ہی لاچار اور عاجز ہے کہ اپنے لاڈلوں کو ذلت و خواری اور ظلم و ستم سے بچا نہیں سکتا ؟بَلْ اَنْتُمْ بَشَرٌ مِّمَّنْ خَلَقَ ط نہیں بلکہ تم بھی انسان ہو جیسے دوسرے انسان اس نے پیدا کیے ہیں۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

ستاروں کا غروب ایک علامتی لفظ ہے جس کے ذریعہ ستاروں کی گردش کے محکم نظام کی طرف اشارہ کیا گیا۔ مادی دنیا میں ستاروں کا نظام ایک بے خطا نظام ہے، یہ اس بات کا قرینہ ہے کہ وحی و نبوت کی صورت میں خدا نے جو روحانی نظام قائم کیا ہے وہ بھی ایک بے خطا نظام ہو۔

فرشتہ اور وحی کی صورت میں رسول کا تجربہ حقیقی تجربہ ہے۔ ا س کے ثبوت کے لیے قرآن کا بیان کافی ہے۔ قرآن کا معجزانہ کلام قرآن کو خدا کی کتاب ثابت کرتا ہے۔ اور جس کتاب کا خدا کی کتاب ہونا ثابت ہوجائے اس کا ہر بیان خود قرآن کے زور پر مستند تسلیم کیا جائے گا۔


Connections

  • Previous: 5_17
  • Next: 5_19
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes