Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 5:12 Prev 5:10


Arabic

يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱذۡكُرُواْ نِعۡمَتَ ٱللَّهِ عَلَيۡكُمۡ إِذۡ هَمَّ قَوۡمٌ أَن يَبۡسُطُوٓاْ إِلَيۡكُمۡ أَيۡدِيَهُمۡ فَكَفَّ أَيۡدِيَهُمۡ عَنكُمۡۖ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَۚ وَعَلَى ٱللَّهِ فَلۡيَتَوَكَّلِ ٱلۡمُؤۡمِنُونَ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ کے اُس احسان کو یاد کرو جو اُس نے (ابھی حال میں) تم پر کیا ہے، جبکہ ایک گروہ نے تم پر دست درازی کا ارادہ کر لیا تھا مگر اللہ نے اُن کے ہاتھ تم پر اٹھنے سے روک دیے اللہ سے ڈر کر کام کرتے رہو، ایمان رکھنے والوں کو اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہیے


English (Sahih International)

O you who have believed, remember the favor of Allah upon you when a people determined to extend their hands [in aggression] against you, but He withheld their hands from you; and fear Allah. And upon Allah let the believers rely


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 11 یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اذْکُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ اِذْ ہَمَّ قَوْمٌ اَنْ یَّبْسُطُوْٓا اِلَیْکُمْ اَیْدِیَہُمْ فَکَفَّ اَیْدِیھُمْ عَنْکُمْ ج یہ غزوۂ احزاب کے بعد کے حالات پر تبصرہ ہے۔ اس غزوہ کے بعد ابھی کفارّ میں سے بہت سے لوگ پیچ و تاب کھا رہے تھے اور بعید نہیں تھا کہ وہ دو بار مہم جوئی کرتے ‘ لیکن اللہ تعالیٰ نے ایسے حالات پیدا کردیے اور ان کے دلوں میں ایسا رعب ڈال دیا کہ وہ دوبارہ لشکر کشی کی جرأت نہ کرسکے۔ اس صورت حال کا ذکر اللہ تعالیٰ یہاں پر اپنے انعام کے طور پر کر رہے ہیں کہ جب کفار نے ارادہ کیا تھا کہ تم پر دست درازی کریں ‘ تمہارے اوپر زیادتی کرنے کے لیے ‘ تم پر فوج کشی کے لیے اقدام کریں۔اس میں خاص طور پر اشارہ صلح حدیبیہ کی طرف ہے۔ اس وقت بھی قریش لڑائی کے لیے بیتاب ہو رہے تھے ‘ ان کے نوجوانوں کا خون کھول رہا تھا ‘ لیکن بالآخر انہیں اس حقیقت کا ادراک ہوگیا کہ اب ہم مسلمانوں کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ گویا اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا اور ان کے ہاتھوں کو مسلمانوں کے خلاف اٹھنے سے روک دیا۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

ایمان ایک عہد ہے جو بندے اور خدا کے درمیان قرار پاتا ہے۔ بندہ یہ وعدہ کرتا ہے کہ وہ دنیا میں اللہ سے ڈر کر رہے گا اور اللہ اس کا ضامن ہوتا ہے کہ وہ دنیا وآخرت میں بندہ کا کفیل ہوجائے گا۔ بندے کو اپنے عہد میں پورا اترنے کے لیے دو باتوں کا ثبوت دینا ہے۔ ایک یہ کہ وہ قوّامٌ للہ بن جائے، یعنی وہ خدا کی باتوں پر خوب قائم رہنے والا ہو۔ اس کا وجود ہر موقع پر صحیح ترین جواب پیش کرے، جو بندے کو اپنے رب کے لیے پیش کرنا چاہیے۔ وہ جب کائنات کو دیکھے تو اس کا ذہن خدا کی قدرتوں اور عظمتوں کے تصور سے سرشار ہوجائے۔ وہ جب اپنے آپ کو دیکھے تو اس کو اپنی زندگی سراپا فضل اور احسان نظر آئے۔ اس کے جذبات امنڈیں تو خدا کے امنڈیں۔ اس کی توجہات کسی چیز كو اپنا مركز بنائیں تو خدا کو بنائیں۔ اس کی محبت خدا کے لیے ہو۔ اس کے اندیشے خدا سے وابستہ ہوں۔ اس کی یادوں میں خدا سمایا ہوا ہو۔ وہ خدا کی عبادت واطاعت کرے۔ وہ خدا کے راستہ میں اپنے اثاثہ کو خرچ کرے۔ وہ اپنے آپ کو خدا کے دین کے راستہ میں لگا کر خوش ہوتا هو۔

عہد پر قائم رہنے کی دوسری شرط بندوں کے ساتھ انصاف ہے۔ انصاف کا مطلب یہ ہے کہ کسی شخص کے ساتھ کمی بیشی كيے بغیر وہ سلوک کرنا جس کا وہ باعتبار واقعہ مستحق ہے۔ معاملات میں حق کو اپنانا، نہ کہ اپنی خواہشات کو۔ اس معاملہ میں بندے کو اتنا زیادہ پابند بننا ہے کہ وہ ایسے مواقع پر بھی اپنے کو انصاف سے باندھے رہے جب کہ وہ دشمنوں اور باطل پرستوں سے معاملہ کررہا ہو، جب کہ شکایتیں اور تلخ یادیں اس کو انصاف کے راستہ سے پھیرنے لگیں۔

دنیا میں خدا نشانیوں کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ یعنی ایسے دلائل کی صورت میں جس کی کاٹ آدمی کے پاس موجود نہ ہو۔ جب آدمی کے سامنے خدا کی دلیل آئے اور وہ اس کو ماننے کے بجائے لفظی تکرار کرنے لگے تو اس نے خدا کی نشانی کو جھٹلایا۔ ایسے لوگ خدا کے یہاں سخت سزا پائیں گے۔ اور جن لوگوں نے اس کو مان لیا وہ خدا کے انعام کے مستحق ہوں گے۔


Connections

  • Previous: 5_10
  • Next: 5_12
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes