Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
مَا جَعَلَ ٱللَّهُ مِنۢ بَحِيرَةٖ وَلَا سَآئِبَةٖ وَلَا وَصِيلَةٖ وَلَا حَامٖ وَلَٰكِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ يَفۡتَرُونَ عَلَى ٱللَّهِ ٱلۡكَذِبَۖ وَأَكۡثَرُهُمۡ لَا يَعۡقِلُونَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
اللہ نے نہ کوئی بَحِیرہ مقرر کیا ہے نہ سائبہ اور نہ وصیلہ اور نہ حام مگر یہ کافر اللہ پر جھوٹی تہمت لگاتے ہیں اور ان میں سے اکثر بے عقل ہیں (کہ ایسے وہمیات کو مان رہے ہیں)
English (Sahih International)
Allah has not appointed [such innovations as] bahirah or sa’ibah or wasilah or ham. But those who disbelieve invent falsehood about Allah, and most of them do not reason
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 103 مَا جَعَلَ اللّٰہُ مِنْم بَحِیْرَۃٍ وَّلاَ سَآءِبَۃٍ وَّلاَ وَصِیْلَۃٍ وَّلاَحَامٍ ان چیزوں کے تقدس کی اللہ کے طرف سے کوئی سند نہیں۔ بحیرہ ‘ سائبہ ‘ وصیلہ اور حام کے بارے میں بہت سے اقوال ہیں ‘ لیکن جلیل القدر تابعی حضرت سعید بن مسیب رض نے ان الفاظ کی جو تفصیل بیان کی ہے ‘ وہ صحیح بخاری کتاب تفسیر القرآن میں وارد ہوئی ہے۔ مولانا تقی عثمانی صاحب نے بھی اسے اپنے حواشی میں نقل کیا ہے۔ بحیرہ : ایسا جانور جس کا دودھ بتوں کے نام کردیا جاتا تھا اور کوئی اسے اپنے کام میں نہ لاتا تھا۔ سائبہ : وہ جانورجو بتوں کے نام پر ‘ ہمارے زمانے کے سانڈ کی طرح ‘ چھوڑ دیا جاتا تھا۔ وصیلہ : جو اونٹنی مسلسل مادہ بچوں کو جنم دیتی اور درمیان میں کوئی نر بچہ پیدا نہ ہوتا ‘ اسے بھی بتوں کے نام پر چھوڑ دیا جاتا تھا۔ حام : نر اونٹ جو ایک خاص تعداد میں جفتی کرچکا ہوتا ‘ اسے بھی بتوں کے نام پر چھوڑ دیا جاتا تھا۔ اس طرح کے جانوروں کو بتوں کے نام منسوب کر کے آزاد چھوڑ دیا جاتا تھا کہ اب انہیں کوئی ہاتھ نہ لگائے ‘ کوئی ان سے استفادہ نہ کرے ‘ کوئی ان کا گوشت کھائے نہ صدقہ دے ‘ نہ ان سے کوئی خدمت لے ‘ بس ان کا احترام کیا جائے۔ لہٰذا واضح کردیا گیا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسے کوئی احکام نہیں دیے گئے ‘ بلکہ فرمایا :وَّلٰکِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا یَفْتَرُوْنَ عَلَی اللّٰہِ الْکَذِبَط وَاَکْثَرُہُمْ لاَ یَعْقِلُوْنَ یہ لوگ بغیر سوچے سمجھے اللہ کے ذمے جھوٹی باتیں لگاتے رہتے ہیں۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
The commentary on this ayah is given with ayah 5:101.