Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
هُوَ ٱلَّذِيٓ أَرۡسَلَ رَسُولَهُۥ بِٱلۡهُدَىٰ وَدِينِ ٱلۡحَقِّ لِيُظۡهِرَهُۥ عَلَى ٱلدِّينِ كُلِّهِۦۚ وَكَفَىٰ بِٱللَّهِ شَهِيدٗا
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
وہ اللہ ہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے تاکہ اُس کو پوری جنس دین پر غالب کر دے اور اِس حقیقت پر اللہ کی گواہی کافی ہے
English (Sahih International)
It is He who sent His Messenger with guidance and the religion of truth to manifest it over all religion. And sufficient is Allah as Witness
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 28{ ہُوَ الَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْہُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ } ”وہی ہے جس نے بھیجا ہے اپنے رسول کو الہدیٰ اور دین حق دے کر“ اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری رسول محمد عربی ﷺ کو قرآن حکیم دے کر بھیجا ہے جو نوع انسانی کے لیے ہدایت کاملہ ہے : ؎ نوعِ انساں را پیام آخریں حامل اُو رحمۃ ٌللعالمین ! اقبالؔمزید برآں ان کو سچا اور کامل دین بھی عطا فرمایا ہے ‘ جو عادلانہ نظام زندگی کا خاکہ پیش کرتا ہے۔ { لِیُظْہِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ } ”تاکہ وہ غالب کر دے اسے ُ کل کے کل نظام زندگی پر۔“ گویا قبل ازیں اس سورت کی آیت 2 اور آیت 20 میں جس سیدھے راستے صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًا کا ذکر ہے وہ راستہ ”اظہارِ دین حق“ کی منزل کی طرف جاتا ہے اور اسی ہدف کو حاصل کرنے کا حکم سورة الشوریٰ کی آیت 13 میں اَنْ اَقِیْمُوا الدِّیْنَکے الفاظ میں ہوا کہ تم دین کو قائم کرو ! پھر سورة الشوریٰ کی آیت 21 میں جھوٹے معبودوں کے ابطال کی جو دلیل دی گئی ہے اور ان کے مقابلے میں معبود حقیقی کی جو شان بیان ہوئی ہے وہ بھی ”الدِّیْن“ نظامِ زندگی کے حوالے سے ہے۔ ملاحظہ ہوں متعلقہ آیت کے یہ الفاظ : { اَمْ لَہُمْ شُرَکٰٓؤُا شَرَعُوْا لَہُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا لَمْ یَاْذَنْم بِہِ اللّٰہُط } ”کیا ان کے لیے ایسے شرکاء ہیں جنہوں نے ان کے لیے دین میں کچھ ایسا طے کردیا ہو جس کا اللہ نے حکم نہیں دیا ؟“ یعنی اللہ کی شان تو یہ ہے کہ اس نے انسانوں کو دین حق دیا ہے۔ ایک مکمل ضابطہ حیات اور عادلانہ نظام زندگی دیا ہے ‘ تو کیا اس کا کوئی شریک بھی ایسا ہے جو یہ دعویٰ کرسکے کہ اس نے بھی اپنے ماننے والوں کو کوئی نظام زندگی دیا ہے ؟ بہر حال اس آیت میں رسول اللہ ﷺ کی بعثت کا مقصد ہی ”اظہارِدین حق“ بتایا گیا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے الہدیٰ اور دین حق دے کر اپنے رسول ﷺ کو بھیجا ہی اس لیے ہے کہ وہ اس ”الدِّین“ کو پورے نظام زندگی پر غالب کر دے۔ { وَکَفٰی بِاللّٰہِ شَہِیْدًا } ”اور کافی ہے اللہ مددگار کے طور پر۔“ عام طور پر لفظ شَھِید کا ترجمہ ”گواہ“ کیا جاتا ہے ‘ لیکن یہاں پر خصوصی طور پر شھید کا ترجمہ ”مددگار“ ہوگا۔ سورة البقرۃ کی آیت 23 میں بھی یہ لفظ اسی مفہوم میں آیا ہے ‘ جہاں قرآن جیسی ایک سورت بنانے کا چیلنج دینے کے بعد فرمایا گیا : { وَادْعُوْا شُہَدَآئَ کُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ } کہ بلا لو اس کام کے لیے اپنے تمام مدد گاروں کو اللہ کے سوا۔ ”شَھِدَ یَشْھَدُ“ کے معنی کسی موقع یا وقوعہ پر حاضر ہونے کے ہیں۔ ”گواہی“ کے معنی اس لفظ میں اسی حاضری کے مفہوم کی وجہ سے آئے ہیں ‘ کیونکہ کسی واقعے کی صحیح گواہی کا اہل تو وہی شخص ہوسکتا ہے جو وہاں اس وقت موقع پر حاضر ہو۔ جبکہ اسی ”حاضری“ کی وجہ سے اس لفظ میں ”مددگار“ کے معنی بھی پیدا ہوگئے ہیں۔ ظاہر ہے آپ کی مدد وہی شخص کرسکے گا جو آپ کے ساتھ موجود ہوگا۔ اس کے مقابلے میں ایک ایسا شخص جو آپ کا بہت اچھا دوست ہو ‘ آپ کے ساتھ مخلص بھی ہو ‘ مگر جب آپ کو مدد کی ضرورت ہو اس وقت آپ کے پاس موجود ہی نہ ہو تو وہ آپ کی کوئی مدد نہیں کرسکے گا۔ چناچہ سیاق وسباق کے اعتبار سے یہاں لفظ شھید کے معنی مددگار کے ہیں۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دو حیثیتیں تھیں۔ ایک یہ کہ آپ پیغمبر تھے اور دوسرے یہ کہ آپ پیغمبر آخر الزماں تھے۔ آپ کے بعد کوئی اور پیغمبر آنے والا نہیں۔ پہلی حیثیت کے اعتبار سے آپ کو بھی وہی کام کرنا تھا جو تمام پیغمبروں نے کیا، یعنی توحید کا اعلان اور آخرت کا انذار وتبشیر۔
دوسری حیثیت کا معاملہ مختلف تھا۔ دوسری حیثیت کے اعتبار سے آپ کے ذریعہ وہ تاریخی حالات پیدا کرنا مطلوب تھا جو کتابِ الٰہی اور سنت نبوی کی حفاظت کی ضمانت بن جائیں۔ تاکہ دوبارہ وہ خلا پیدا نہ ہو جس کے نتیجہ میں پیغمبر بھیجنا ضروری ہوجاتا ہے۔ اس دوسرے پہلو کا تقاضا تھا کہ آپ کی دعوت صرف ’’اعلان‘‘ پر ختم نہ ہو بلکہ وہ ’’انقلاب‘‘ تک پہنچے۔ انقلاب سے مراد عالمی تاریخ میں وہ تبدیلی پیدا کرنا ہے، جس کے بعد وہ حالات ہمیشہ کے لیے ختم ہوجائیں، جس کی وجہ سے بار بار خدا کی ہدایت معدوم یا محرف ہوگئی اور اس کی ضرورت پیش آئی کہ نیا پیغمبر آ کر دوبارہ ہدایت کو اصلی صورت میں زندہ کرے۔