Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
۞لَّقَدۡ رَضِيَ ٱللَّهُ عَنِ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ إِذۡ يُبَايِعُونَكَ تَحۡتَ ٱلشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِي قُلُوبِهِمۡ فَأَنزَلَ ٱلسَّكِينَةَ عَلَيۡهِمۡ وَأَثَٰبَهُمۡ فَتۡحٗا قَرِيبٗا
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
اللہ مومنوں سے خوش ہو گیا جب وہ درخت کے نیچے تم سے بیعت کر رہے تھے ان کے دلوں کا حال اُس کو معلوم تھا، اس لیے اس نے ان پر سکینت نازل فرمائی، ان کو انعام میں قریبی فتح بخشی
English (Sahih International)
Certainly was Allah pleased with the believers when they pledged allegiance to you, [O Muhammad], under the tree, and He knew what was in their hearts, so He sent down tranquillity upon them and rewarded them with an imminent conquest
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
اب آئندہ آیات میں اسی مضمون کا تسلسل ہے جو پہلے رکوع میں { اِنَّ الَّذِیْنَ یُبَایِعُوْنَکَ اِنَّمَا یُبَایِعُوْنَ اللّٰہَط } آیت 10 کے الفاظ سے شروع ہوا تھا۔ جیسا کہ قبل ازیں بھی ذکر ہوچکا ہے کہ حکمت الٰہی کے پیش نظر اس مضمون کا سلسلہ درمیان سے منقطع کرکے بعد میں نازل ہونے والی آیات کو وہاں جگہ دے دی گئی اور اب آیت 18 سے دوبارہ وہی مضمون شروع ہو رہا ہے۔آیت 18 { لَقَدْ رَضِیَ اللّٰہُ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ یُبَایِعُوْنَکَ تَحْتَ الشَّجَرَۃِ فَعَلِمَ مَا فِیْ قُلُوْبِہِمْ } ”اللہ راضی ہوگیا اہل ایمان سے جب کہ وہ آپ ﷺ سے بیعت کر رہے تھے ‘ درخت کے نیچے ‘ تو اللہ کے علم میں تھا جو کچھ ان کے دلوں میں تھا“ یعنی بیعت کے وقت تو ان کے دلوں میں فقط ذوق شہادت اور جوشِ جہاد تھا۔ صلح کی بات چیت تو ان کی بیعت کے بعد شروع ہوئی تھی۔ { فَاَنْزَلَ السَّکِیْنَۃَ عَلَیْہِمْ وَاَثَابَہُمْ فَتْحًا قَرِیْبًا } ”تو اللہ نے ان پر سکینت نازل کردی اور انہیں بدلے میں ایک قریبی فتح بخشی۔“ یہ اشارہ ہے فتح خیبر کی طرف جو حدیبیہ سے واپسی کے بعد جلد ہی ظہور میں آگئی۔ ان الفاظ میں اس امر کی صراحت ہے کہ یہ انعام ان ہی لوگوں کے لیے مخصوص تھا جو بیعت رضوان میں شریک تھے۔ چناچہ جب رسول اللہ ﷺ صفر 7 ھ میں خیبر پر چڑھائی کے لیے نکلے تو آپ ﷺ نے صرف انہی اصحاب کو ساتھ لیا۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 18 to 21.
حدیبیہ کے سفر میں ایک موقع پر یہ خبر پھیلی کہ قریش نے حضرت عثمان کو قتل کردیا جو ان کے یہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سفیر کے طور پر گئے تھے۔ یہ ایک جارحیت کا معاملہ تھا۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کیکر کے ایک درخت کے نیچے بیٹھ کر اپنے چودہ سو اصحاب سے یہ بیعت لی کہ وہ مر جائیں گے مگر دشمن کو پیٹھ نہیں دکھائیں گے۔ اسلام کی تاریخ میں اس بیعت کا نام بیعت رضوان ہے۔
یہ بیعت جس مقام پر لی گئی وہ مدینہ سے ڈھائی سو میل اور مکہ سے صرف بارہ میل کے فاصلہ پر تھا۔ گویا مسلمان اپنے مرکز سے بہت دور تھے اور قریش اپنے مرکز سے بہت قریب۔ مسلمان عمرہ کی نیت سے نکلے تھے۔ اس لیے ان کے پاس محض سفری سامان تھا جب کہ قریش ہر قسم کے جنگی سامان سے مسلح تھے۔ ایسے نازک موقع پر یہ صرف لوگوں کا جذبہ اخلاص تھا جس نے انہیں آمادہ کیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا ساتھ دیں۔ کیوںکہ کوئی ظاہری دباؤ وہاں سرے سے موجود ہی نہ تھا۔
’’اللہ نے ان کے دلوں کا حال جانا اور سکینت نازل فرمائی‘‘— اس سے مراد وہ رنج و اضطراب ہے جو حدیبیہ کی بظاہر یک طرفہ صلح سے صحابہ کے دلوں میں پیدا ہوا تھا۔ تاہم انہوں نے خدا کے اس حکم کو صبروسکون کے ساتھ قبول کرلیا۔ اس کے نتیجہ میں چند ماہ بعد ہی اس کے فائدے ظاہر ہونا شروع ہوگئے۔ اس معاہدہ نے قریش کو یہود کے محاذ سے الگ کردیا اور اس طرح یہود کو مسخر کرنا آسان ہوگیا۔ جنگی حالات ختم ہونے کی وجہ سے اسلام کی اشاعت بہت تیزی سے بڑھی، یہاں تک کہ خود قریش کو دعوت کی راہ سے مسخر کرلیا گیا جن کو جنگ کی راہ سے مسخرکرنا مشکل بنا ہوا تھا۔