Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 48:16 Prev 48:14


Arabic

سَيَقُولُ ٱلۡمُخَلَّفُونَ إِذَا ٱنطَلَقۡتُمۡ إِلَىٰ مَغَانِمَ لِتَأۡخُذُوهَا ذَرُونَا نَتَّبِعۡكُمۡۖ يُرِيدُونَ أَن يُبَدِّلُواْ كَلَٰمَ ٱللَّهِۚ قُل لَّن تَتَّبِعُونَا كَذَٰلِكُمۡ قَالَ ٱللَّهُ مِن قَبۡلُۖ فَسَيَقُولُونَ بَلۡ تَحۡسُدُونَنَاۚ بَلۡ كَانُواْ لَا يَفۡقَهُونَ إِلَّا قَلِيلٗا


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

جب تم مال غنیمت حاصل کرنے کے لیے جانے لگو گے تو یہ پیچھے چھوڑے جانے والے لوگ تم سے ضرور کہیں گے کہ ہمیں بھی اپنے ساتھ چلنے دو یہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے فرمان کو بدل دیں اِن سے صاف کہہ دینا کہ “تم ہرگز ہمارے ساتھ نہیں چل سکتے، اللہ پہلے ہی یہ فرما چکا ہے” یہ کہیں گے کہ “نہیں، بلکہ تم لوگ ہم سے حسد کر رہے ہو” (حالانکہ بات حسد کی نہیں ہے) بلکہ یہ لوگ صحیح بات کو کم ہی سمجھتے ہیں


English (Sahih International)

Those who remained behind will say when you set out toward the war booty to take it, “Let us follow you.” They wish to change the words of Allah. Say, “Never will you follow us. Thus did Allah say before.” So they will say, “Rather, you envy us.” But [in fact] they were not understanding except a little


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 15 { سَیَقُوْلُ الْمُخَلَّفُوْنَ اِذَا انْطَلَقْتُمْ اِلٰی مَغَانِمَ لِتَاْخُذُوْہَا ذَرُوْنَا نَتَّبِعْکُمْ } ”اے مسلمانو ! عنقریب یہی پیچھے رہنے والے کہیں گے ‘ جب تم لوگغنیمتیں حاصل کرنے کے لیے جائو گے ‘ کہ ہمیں بھی اجازت دیجیے کہ ہم آپ کے ساتھ چلیں۔“ اس آیت میں فتح خیبر کی طرف اشارہ ہے۔ خیبر یہودیوں کا بہت بڑا گڑھ تھا۔ مسلمانوں سے بد عہدی کی بنا پر جن دو یہودی قبائل بنو قینقاع اور بنو نضیر کو مدینہ سے نکالا گیا تھا وہ بھی خیبر میں آکر آباد ہوگئے تھے۔ اس علاقے میں انہوں نے بڑے بڑے قلعے بنا کر عسکری اعتبار سے خود کو بہت مضبوط کرلیا تھا۔ یہ لوگ ہر وقت مسلمانوں کے خلاف طرح طرح کی سازشوں کی منصوبہ بندیاں کرتے رہتے تھے۔ چناچہ صلح حدیبیہ کے بعد جب قریش کی طرف سے جنگ وغیرہ کا کوئی خطرہ نہ رہا تو اگلے ہی سال یعنی 7 ہجری میں رسول اللہ ﷺ نے ان کی سرکوبی کے لیے پوری طاقت کے ساتھ خیبر پر چڑھائی کا فیصلہ کیا۔ یہاں ان آیات کے ذریعے مسلمانوں کو پیشگی 6 ہجری میں مطلع کیا جا رہا ہے کہ جب اگلے سال تم لوگ خیبر کی طرف پیش قدمی کرو گے تو اس کی فتح کو یقینی سمجھتے ہوئے اور وہاں سے بہت بڑے اموالِ غنیمت کی توقع کرتے ہوئے یہ منافقین بھی اس مہم پر تمہارے ساتھ جانے کے لیے تم سے اجازت مانگیں گے۔ { یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّبَدِّلُوْا کَلٰمَ اللّٰہِ } ”یہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے کلام کو تبدیل کردیں !“ گویا یہ لوگ اللہ کے اس حکم کو خلافِ واقعہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ خیبر کی مہم پر حضور ﷺ کے ساتھ صرف انہی لوگوں کو جانے کی اجازت دی جائے گی جو حدیبیہ کی مہم پر آپ ﷺ کے ساتھ گئے تھے اور بیعت ِرضوان میں شریک ہوئے تھے ‘ جیسا کہ آگے آیات 18 ‘ 19 میں بصراحت ارشاد ہوا ہے۔ { قُلْ لَّنْ تَتَّبِعُوْنَا کَذٰلِکُمْ قَالَ اللّٰہُ مِنْ قَبْلُ } ”آپ ﷺ کہیے کہ تم ہرگز ہمارے ساتھ نہیں جائو گے ‘ یہ بات اللہ پہلے ہی فرما چکا ہے۔“ ان الفاظ کا اشارہ اسی سورت کی آیات 18 ‘ 19 کی طرف ہے ‘ جو اس سے پہلے نازل ہوچکی تھیں۔ { فَسَیَـقُوْلُوْنَ بَلْ تَحْسُدُوْنَنَا } ”اس پر وہ کہیں گے : بلکہ آپ لوگ ہم سے حسد کر رہے ہیں۔“ اس پر وہ آپ لوگوں پر الزام دھریں گے کہ آپ لوگ حسد کی بنا پر ہمیں اپنے ساتھ نہیں لے جانا چاہتے کہ ہم بھی کہیں تمہیں حاصل ہونے والے اموالِ غنیمت میں حصہ دار نہ بن جائیں۔ { بَلْ کَانُوْا لَا یَفْقَہُوْنَ اِلَّا قَلِیْلًا } ”بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ فہم ہی نہیں رکھتے مگر بہت کم۔“


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

صلح حدیبیہ سے پہلے یہود مسلمانوں کی دشمنی میں بہت جری تھے۔ کیوں کہ اس سے پہلے انہیں اس معاملہ میں قریش کا پورا تعاون حاصل تھا۔ حدیبیہ میں قریش سے نا جنگ معاہدہ نے یہود کو قریش سے کاٹ دیا۔ اس کے بعد وہ اکیلے رہ گئے۔ اس سے خیبر، تیما، فدک وغیرہ کے یہودیوں کے حوصلے ٹوٹ گئے۔ چنانچہ صلح کے تین مہینے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر پر چڑھائی کی تو وہاں کے یہود نے لڑے بھڑے بغیر ہتھیار ڈال دیے اور ان کے کثیر اموال مسلمانوں کو غنیمت میں ملے۔

کمزور ایمان کے لوگ جو حدیبیہ کے سفر کو پر خطر سمجھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نہیں گئے تھے، اب انہوں نے چاہا کے وہ یہودیوں کے خلاف کارروائی میں شریک ہوں اور مال غنیمت میں اپنا حصہ حاصل کریں۔ مگر ان کو ساتھ جانے سے روک دیا گیا۔ خدا کا قانون یہ ہے کہ جو خطرہ مول لے وہ نفع حاصل کرے۔ آدمی جب خطرہ مول لیے بغیر حاصل کرنا چاہے تو گویا وہ قانون الٰہی کو بدل دینا چاہتا ہے۔ مگر اس دنیا میں خدا کے قانون کو بدلنا کسی کے لیے ممکن نہیں۔


Connections

  • Previous: 48_14
  • Next: 48_16
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes