Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 47:32 Prev 47:30


Arabic

وَلَنَبۡلُوَنَّكُمۡ حَتَّىٰ نَعۡلَمَ ٱلۡمُجَٰهِدِينَ مِنكُمۡ وَٱلصَّـٰبِرِينَ وَنَبۡلُوَاْ أَخۡبَارَكُمۡ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

ہم ضرور تم لوگوں کو آزمائش میں ڈالیں گے تاکہ تمہارے حالات کی جانچ کریں اور دیکھ لیں کہ تم میں مجاہد اور ثابت قدم کون ہیں


English (Sahih International)

And We will surely test you until We make evident those who strive among you [for the cause of Allah] and the patient, and We will test your affairs


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 31 { وَلَنَبْلُوَنَّکُمْ حَتّٰی نَعْلَمَ الْمُجٰہِدِیْنَ مِنْکُمْ وَالصّٰبِرِیْنَلا وَنَبْلُوَا اَخْبَارَکُمْ } ”اور ہم تمہیں لازماً آزمائیں گے یہاں تک کہ ہم ظاہر کردیں انہیں جو تم میں سے جہاد کرنے والے اور صبر کرنے والے ہیں اور ہم پوری تحقیق کرلیں تمہارے حالات کی۔“ حَتّٰی نَعْلَمَ کا لفظی ترجمہ تو یوں ہوگا کہ ہم معلوم کرلیں ‘ لیکن اہل سنت کے عقیدے کے مطابق اللہ تعالیٰ کا علم قدیم ہے اور کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو پہلے سے اس کے علم میں نہ ہو۔ اس لیے ان الفاظ کی ترجمانی یونہی ہوگی کہ ہم تمہیں آزمائیں گے یہاں تک کہ ہم ظاہر کردیں اور سب کو دکھا دیں کہ تم میں سے مجاہدین کون ہیں اور صبر کرنے والے کون ؟ یہ آیت پڑھتے ہوئے سورة البقرۃ کی اس آیت کو بھی ذہن میں تازہ کرلیں : { وَلَنَبْلُوَنَّکُمْ بِشَیْئٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوْعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَالْاَنْفُسِ وَالثَّمَرٰتِ } آیت 155 ”اور ہم تمہیں لازماً آزمائیں گے کسی قدر خوف اور بھوک سے اور مالوں اور جانوں اور ثمرات کے نقصان سے“۔ سورة البقرۃ کی اس آیت کے نزول کے وقت چونکہ قتال کا حکم نہیں آیا تھا اس لیے اس میں آزمائشوں اور سختیوں کا ذکر تو ہے لیکن قتال کا ذکر نہیں ہے۔ اس لیے یوں سمجھئے کہ آیت زیر مطالعہ گویا سورة البقرۃ کی مذکورہ آیت کی توسیع extension ہے ‘ جس میں قتال کے حوالے سے خصوصی طور پر فرمایا گیا ہے کہ اب ہم تم میں سے واقعتاجہاد کرنے والوں اور صبر کرنے والوں کو چھان پھٹک کر الگ کرنا چاہتے ہیں۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 31 and 32.

آدمی جب ایمان کو لے کر کھڑا ہوتا ہے تو اس پر مختلف حالات پیش آتے ہیں۔ یہ حالات اس کے ایمان کا امتحان ہوتے ہیں۔ وہ تقاضا کرتے ہیں کہ وہ قربانی کی قیمت پر اپنے مومن ہونے کا ثبوت دے۔ وہ اپنے نفس کو کچلے۔ وہ اپنے مادی مفادات کو نظر انداز کرے۔ وہ لوگوں کی ایذا رسانی کو برداشت کرے۔ حتیٰ کہ جان و مال کو کھپا کر اپنے ایمان پر قائم رہے۔

مومن کو اس قسم کے حالات میں ڈالنے کے لیے ضروری ہے کہ غیر مومنین کو کھلی آزادی حاصل ہو تاکہ وہ اہل ایمان کے خلاف ہر قسم کی کارروائیاں کرسکیں۔ ان کارروائیوں کے ذریعہ ایک طرف مخالفین کا جرم ثابت شدہ بنتا ہے۔ دوسری طرف ان شدید حالات میں اہل ایمان ثابت قدم رہ کر دکھا دیتے ہیں کہ وہ واقعی مومن ہیں اور اس قابل ہیں کہ خدا کی معیاری دنیا میں بسانے کے لیے ان کا انتخاب کیا جائے۔


Connections

  • Previous: 47_30
  • Next: 47_32
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes