Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
أَمۡ حَسِبَ ٱلَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ أَن لَّن يُخۡرِجَ ٱللَّهُ أَضۡغَٰنَهُمۡ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
کیا وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری ہے یہ سمجھے بیٹھے ہیں کہ اللہ ان کے دلوں کے کھوٹ ظاہر نہیں کرے گا؟
English (Sahih International)
Or do those in whose hearts is disease think that Allah would never expose their [feelings of] hatred
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 29 { اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِہِمْ مَّرَضٌ اَنْ لَّنْ یُّخْرِجَ اللّٰہُ اَضْغَانَہُمْ } ”کیا سمجھ رکھا تھا ان لوگوں نے جن کے دلوں میں روگ ہے کہ اللہ ان کے کھوٹ کو ظاہر نہیں کرے گا ؟“ ان کا تو یہی خیال تھا کہ ان کے دوغلے پن کے بارے میں کسی کو خبر نہیں ہوگی اور ان کے سینوں کے کھوٹ بےنقاب نہیں ہوں گے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے تو ان کے نفاق کو ظاہر کرنا ہی تھا۔ سورة العنکبوت میں اللہ تعالیٰ نے دو ٹوک الفاظ میں فرمادیا تھا : { وَلَیَعْلَمَنَّ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَلَیَعْلَمَنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ } ”اور یقینا اللہ ظاہر کر کے رہے گا سچے اہل ایمان کو ‘ اور ظاہر کر کے رہے گا منافقین کو بھی۔“
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 29 and 30.
منافقین کی بیماری یہ تھی کہ ان کے سینوں میں حسد (ضغن) تھا۔ منافق مسلمانوں کو اپنے مخلص برادران دین سے یہ حسد کیوں تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اسلام کی ہر ترقی انہیں مخلص مسلمانوں کے حصہ میں جاتی ہوئی نظر آتی تھی۔ یہ چیز منافقین کے لیے بے حد شاق تھی۔ وہ سوچتے تھے کہ ہم ایسی مہم میں اپنا جان و مال کیوں کھپائیں جس میں دوسروں کی حیثیت بڑھے، جس میں دوسروں کو بڑائی حاصل ہوتی ہو۔
منافقین اپنے ظاہری رویہ میں اپنی اس اندرونی حالت کو چھپاتے تھے مگر سمجھ دار لوگوں کے لیے وہ چھپا ہوا نہ تھا۔ منافقین کا مصنوعی لہجہ، ان کی درد سے خالی آواز بتا دیتی تھی کہ اسلام سے ان کا تعلق محض دکھاوے کا تعلق ہے، نہ کہ حقیقی معنوں میں قلبی تعلق۔