Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 47:25 Prev 47:23


Arabic

أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ ٱلۡقُرۡءَانَ أَمۡ عَلَىٰ قُلُوبٍ أَقۡفَالُهَآ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

کیا ان لوگوں نے قرآن پر غور نہیں کیا، یا دلوں پر اُن کے قفل چڑھے ہوئے ہیں؟


English (Sahih International)

Then do they not reflect upon the Qur’an, or are there locks upon [their] hearts


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 24 { اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰی قُلُوْبٍ اَقْفَالُہَا } ”کیا یہ لوگ قرآن پر تدبر ّنہیں کرتے یا ان کے دلوں پر قفل پڑچکے ہیں !“ اگر یہ لوگ قرآن کے احکام پر غور و فکر کرتے اور اس کے بین السطور ّپیغام کو سمجھنے کی کوشش کرتے تو انہیں معلوم ہوجاتا کہ غلبہ دین کی جدوجہد میں جن جن مراحل سے ان کو سابقہ پڑ رہا ہے ان تمام مراحل کے بارے میں تو انہیں پہلے سے ہی متنبہ کردیا گیا تھا۔ ذرا دیکھیں سورة العنکبوت کی ان آیات میں راہ حق کی آزمائشوں سے متعلق کیسے دو ٹوک انداز میں بتادیا گیا ہے : { اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ یُّتْرَکُوْٓا اَنْ یَّقُوْلُوْٓا اٰمَنَّا وَہُمْ لَا یُفْتَنُوْنَ } ”کیا لوگوں نے یہ سمجھا تھا کہ وہ چھوڑ دیے جائیں گے صرف یہ کہنے سے کہ ہم ایمان لے آئے اور انہیں آزمایا نہ جائے گا !“ { وَلَقَدْ فَتَنَّا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ فَلَیَعْلَمَنَّ اللّٰہُ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وَلَیَعْلَمَنَّ الْکٰذِبِیْنَ } ”اور ہم نے تو ان کو بھی آزمایا تھا جو ان سے پہلے تھے ‘ چناچہ اللہ ظاہر کر کے رہے گا ان کو جنہوں نے سچ بولا اور ان کو بھی جو جھوٹے ہیں“۔ { وَلَیَعْلَمَنَّ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَلَیَعْلَمَنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ } العنکبوت ”اور یقینا اللہ ظاہر کر کے رہے گا سچے اہل ایمان کو ‘ اور ظاہر کر کے رہے گا منافقین کو بھی۔“


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 24 to 28.

قرآن نصیحت کی کتاب ہے مگر کسی چیز سے نصیحت لینے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی نصیحت کے بارے میں سنجیدہ ہو۔ اگر کوئی غلط جذبہ آدمی کے اندر داخل ہو کر اس کو نصیحت کے بارے میں غیر سنجیدہ بنا دے تو وہ کبھی نصیحت سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا، خواہ نصیحت کو کتنا ہی اچھے انداز میں بیان کیا گیا ہو۔

دین کا کوئی ایسا حکم سامنے آئے جس میں آدمی کو اپنی خواہشات اور مفادات کی قربانی دینی ہو تو شیطان فوراً آدمی کو کوئی جھوٹاعذر سمجھا دیتا ہے۔ اور موجودہ دنیا میں مہلت امتحان کی وجہ سے آدمی کو موقع مل جاتا ہے کہ وہ اس جھوٹے عذر کو عملاً بھی اختیار کرلے۔ مگر یہ سب کچھ صرف چند دنوں تک کے لیے ہے۔ موت کا وقت آتے ہی ساری صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔

یہاں نفاق کے لیے ارتداد کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ مگر معلوم ہے کہ مدینہ کے ان منافقین کو ارتداد کی مقررہ سزا نہیں دی گئی۔ حقیقت یہ ہے کہ ارتداد ایک فوجداری جرم نہیں ہے، بلکہ وہ ایک فکری جرم ہے، اور فکری انحراف کرنے والا تبلیغ ودعوت کا موضوع ہوتا ہے، نہ کہ سزا کا موضوع۔ (تفصیل کے لیے دیکھیے راقم الحروف کی کتاب حکمتِ اسلام کا مضمون ’’مرتد اور ارتداد‘‘)


Connections

  • Previous: 47_23
  • Next: 47_25
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes