Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
وَمِنۡهُم مَّن يَسۡتَمِعُ إِلَيۡكَ حَتَّىٰٓ إِذَا خَرَجُواْ مِنۡ عِندِكَ قَالُواْ لِلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡعِلۡمَ مَاذَا قَالَ ءَانِفًاۚ أُوْلَـٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ طَبَعَ ٱللَّهُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمۡ وَٱتَّبَعُوٓاْ أَهۡوَآءَهُمۡ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
اِن میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جو کان لگا کر تمہاری بات سنتے ہیں اور پھر جب تمہارے پاس سے نکلتے ہیں تو اُن لوگوں سے جنہیں علم کی نعمت بخشی گئی ہے پوچھتے ہیں کہ ابھی ابھی اِنہوں نے کیا کہا تھا؟ یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں پر اللہ نے ٹھپہ لگا دیا ہے اور یہ اپنی خواہشات کے پیرو بنے ہوئے ہیں
English (Sahih International)
And among them, [O Muhammad], are those who listen to you, until when they depart from you, they say to those who were given knowledge, “What has he said just now?” Those are the ones of whom Allah has sealed over their hearts and who have followed their [own] desires
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
اب یہاں سے اس سورت کا اصل مضمون شروع ہو رہا ہے۔ جیسا کہ قبل ازیں بھی بتایا جا چکا ہے کہ اس سورت کا مرکزی مضمون ”قتال فی سبیل اللہ“ ہے اور اسی نسبت سے اس کا دوسرا نام ”سورة القتال“ ہے۔ اس مضمون کے تحت آئندہ آیات میں ان لوگوں کی باطنی کیفیات کی جھلکیاں بھی نظر آئیں گی جن کے دلوں میں روگ تھا اور قتال کے ذکر سے ان پر گھبراہٹ طاری ہوجاتی تھی۔آیت 16 { وَمِنْہُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُ اِلَیْکَ } ”اور اے نبی ﷺ ! ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو آپ کی بات کو بڑی توجہ سے سنتے ہیں۔“ { حَتّی اِذَا خَرَجُوْا مِنْ عِنْدِکَ قَالُوْا لِلَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مَاذَا قَالَ اٰنِفًا } ”یہاں تک کہ جب وہ آپ کے پاس سے نکل کر باہر جاتے ہیں تو ان لوگوں سے پوچھتے ہیں جنہیں علم دیا گیا ہے کہ ابھی انہوں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیا کہا تھا ؟“ یعنی آج حضور ﷺ نے یہ جو ایک نئی بات کہہ دی ہے کہ ہمیں جنگ کے لیے تیار ہونا ہے اور قریش کے تجارتی قافلوں کا تعاقب کرنا ہے ‘ یہ ہماری سمجھ میں نہیں آئی۔ اُوْتُوا الْعِلْمَ سے یہاں اہل ِایمان بھی مراد ہوسکتے ہیں اور اہل کتاب یہودی بھی۔ یعنی منافقین یہ بات ان مسلمانوں سے پوچھتے جنہیں وہ زیادہ سمجھدار سمجھتے تھے یا یہ کہ یہی بات وہ لوگ یہودیوں سے جا کر پوچھتے جنہیں اس سے پہلے کتاب کا علم دیا گیا تھا۔ { اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ طَبَعَ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوْبِہِمْ وَاتَّبَعُوْٓا اَہْوَآئَ ہُمْ } ”یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں پر اللہ نے مہر لگا دی ہے اور وہ اپنی خواہشات کی پیروی کر رہے ہیں۔“ جہاد و قتال کے تصور سے ان کے دلوں کی گھبراہٹ اور ایثار و قربانی کی باتوں کو قبول کرنے سے ان کی ہچکچاہٹ درحقیقت اس منافقت کی علامت ہے جو ان کے دلوں میں پیدا ہوچکی ہے۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 16 and 17.
منافق آدمی کی ایک پہچان یہ ہے کہ وہ سنجیدہ مجلس میں بیٹھتا ہے تو بظاہر بہت با ادب نظر آتا ہے مگر اس کا ذہن دوسری دوسری چیزوں میں لگا رہتا ہے وہ مجلس میں بیٹھ کر بھی مجلس کی بات نہیں سن پاتا۔ چنانچہ جب وہ مجلس سے باہر آتا ہے تو دوسرے اصحاب علم سے پوچھتا ہے کہ ’’حضرت نے کیا فرمایا‘‘۔
یہ وہ قیمت ہے جو اپنی خواہش پرستی کی بنا پر انہیں ادا کرنی پڑتی ہے۔ وہ اپنے اوپر اپنی خواہش کو غالب کرلیتے ہیں۔ وہ دلیل کی پیروی کرنے کے بجائے اپنی خواہش کی پیروی کرتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ دھیرے دھیرے ان کے احساسات کند ہوجاتے ہیں۔ ان کی عقل اس قابل نہیں رہتی کہ وہ بلند حقیقتوں کا ادراک کرسکے۔
اس کے برعکس، جو لوگ حقیقتوں کو اہمیت دیں، جو سچی دلیل کے آگے جھک جائیں، وہ اس عمل سے اپنی فکری صلاحیت کو زندہ کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی معرفت میں دن بدن اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ ان کو ابدی طور پر جمود سے نا آشنا ایمان حاصل ہوجاتا ہے۔