Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
أَفَمَن كَانَ عَلَىٰ بَيِّنَةٖ مِّن رَّبِّهِۦ كَمَن زُيِّنَ لَهُۥ سُوٓءُ عَمَلِهِۦ وَٱتَّبَعُوٓاْ أَهۡوَآءَهُم
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
بھلا کہیں ایسا ہو سکتا ہے کہ جو اپنے رب کی طرف سے ایک صاف و صریح ہدایت پر ہو، وہ اُن لوگوں کی طرح ہو جائے جن کے لیے اُن کا برا عمل خوشنما بنا دیا گیا ہے اور وہ اپنی خواہشات کے پیرو بن گئے ہیں؟
English (Sahih International)
So is he who is on clear evidence from his Lord like him to whom the evil of his work has been made attractive and they follow their [own] desires
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 14 { اَفَمَنْ کَانَ عَلٰی بَیِّنَۃٍ مِّنْ رَّبِّہٖ } ”تو بھلا وہ شخص جو اپنے رب کی طرف سے ایک روشن دلیل پر ہے“ یعنی اس کی سرشت اور فطرت بھی نیک ہے اور اللہ تعالیٰ نے جو ہدایت اس کو دی ہے وہ اس ہدایت پر بھی قائم ہے۔ { کَمَنْ زُیِّنَ لَہٗ سُوْٓئُ عَمَلِہٖ وَاتَّبَعُوْْٓا اَہْوَآئَ ہُمْ } ”وہ اس شخص جیسا ہوجائے گا جس کے لیے اس کے ُ برے اعمال مزین ّکر دیے گئے ہیں ‘ اور انہوں نے اپنی خواہشات کی پیروی کی ہے۔“ ایسے لوگوں کو وہی کچھ نظر آتا ہے جو ان کی خواہشات کا آئینہ انہیں دکھاتا ہے اور ظاہر ہے یہ آئینہ تو کالے کرتوتوں کو بھی خوشنما بنا کر ہی دکھاتا ہے۔ اسی وجہ سے فرعون نے اہل مصر کی تہذیب و روایات کو مثالی { بِطَرِیْقَتِکُمُ الْمُثْلٰی } طٰہٰ قرار دیا تھا۔ آیت زیرمطالعہ میں جن دو کرداروں کا ذکر کیا گیا ہے ان میں باہم کوئی مقابلہ یا موازنہ ہے ہی نہیں۔ ایک طرف اللہ کے وہ بندے ہیں جو اپنے رب کی طرف سے بینہ ّپر ہیں۔ یقینا وہ کامیاب ہونے والے لوگ ہیں۔ جبکہ دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو اپنے نفس کی غلامی اور اپنی خواہشات کی پیروی میں زندگی گزار رہے ہیں۔ وہ بہرحال ناکام و نامراد ہیں۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 14 and 15.
بینہ (دلیل) پر کھڑا ہونا اپنی زندگی کی تعمیر حقیقت واقعہ کی بنیاد پر کرنا ہے۔ اس کے برعکس، جو شخص اہواء (اپنی خواہشات) پر کھڑا ہوتا ہے وہ حقیقت واقعہ سے انحراف کرتا ہے، وہ خدا کی دنیا میں خدا کی مرضی کے خلاف اپنی دنیا بنانا چاہتا ہے۔
موجودہ امتحان کی دنیا میں دونوں گروہ بظاہر یکساں مواقع پا رہے ہیں۔ مگر آخرت کی حقیقی دنیا میں صرف پہلا گروہ خدا کی ابدی نعمتوں میں سے حصہ پائےگا اور دوسرا گروہ ہمیشہ کے لیے ذلیل و ناکام ہو کر رہ جائے گا۔