Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
قُلۡ أَرَءَيۡتُم مَّا تَدۡعُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ أَرُونِي مَاذَا خَلَقُواْ مِنَ ٱلۡأَرۡضِ أَمۡ لَهُمۡ شِرۡكٞ فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِۖ ٱئۡتُونِي بِكِتَٰبٖ مِّن قَبۡلِ هَٰذَآ أَوۡ أَثَٰرَةٖ مِّنۡ عِلۡمٍ إِن كُنتُمۡ صَٰدِقِينَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
اے نبیؐ، اِن سے کہو، “کبھی تم نے آنکھیں کھول کر دیکھا بھی کہ وہ ہستیاں ہیں کیا جنہیں تم خدا کو چھوڑ کر پکارتے ہو؟ ذرا مجھے دکھاؤ تو سہی کہ زمین میں انہوں نے کیا پیدا کیا ہے، یا آسمانوں کی تخلیق و تدبیر میں ان کا کیا حصہ ہے اِس سے پہلے آئی ہوئی کتاب یا علم کا کوئی بقیہ (اِن عقائد کے ثبوت میں) تمہارے پاس ہو تو وہی لے آؤ اگر تم سچے ہو
English (Sahih International)
Say, [O Muhammad], “Have you considered that which you invoke besides Allah? Show me what they have created of the earth; or did they have partnership in [creation of] the heavens? Bring me a scripture [revealed] before this or a [remaining] trace of knowledge, if you should be truthful
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 4 { قُلْ اَرَئَ یْتُمْ مَّا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ اَرُوْنِیْ مَاذَا خَلَقُوْا مِنَ الْاَرْضِ } ”اے نبی ﷺ ! ان سیکہیے کہ کبھی تم نے غور بھی کیا کہ جنہیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو ‘ مجھے دکھائو تو سہی کہ انہوں نے کیا پیدا کیا ہے زمین میں ؟“ { اَمْ لَہُمْ شِرْکٌ فِی السَّمٰوٰتِ } ”یا ان کی کوئی شراکت ہے آسمانوں میں ؟“ { اِیْتُوْنِیْ بِکِتٰبٍ مِّنْ قَبْلِ ہٰذَآ اَوْ اَثٰرَۃٍ مِّنْ عِلْمٍ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ } ”لائو میرے پاس کوئی کتاب اس سے پہلے کی یا کوئی ایسی روایت جس کی بنیاد علم پر ہو اگر تم سچے ہو !“ اپنے ان معبودوں کے بارے میں مجھ سے کسی الہامی ثبوت یا علمی اور منطقی دلیل سے بات کرو۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 4 to 6.
مفسر ابن كثير نے يهاں ’’كتاب‘‘ سے مراد نقلي دليل اور ’’أَثارَةٍ مِنْ عِلْمٍ‘‘ سے مراد عقلي دليل لي هے (أَيْ لَا دَلِيْلَ لَكُمْ لَا نَقْلِيًّا وَلَا عَقْلِيًّا عَلَى ذَلِكَ) تفسیر ابن کثیر، جلد7، صفحہ
252
۔
علم حقيقةً صرف دو هے۔ ايك الهامي علم (Revealed knowledge)۔ يعني وه علم جو پيغمبروں كے ذريعه سے انسانوں تك پهنچا۔ دوسرا ثابت شده علم (Established knowledge)۔ يعني وه علم جس كا علم هونا انساني تحقيقات اور تجربات سے ثابت هوگيا هو۔ ان دونوں ميں سے كوئي بھي علم يه نهيں بتاتا كه اس كائنات ميں ايك خدا كے سوا كوئي اور هستي هے جو خدائي کے لائق هے۔ اور جب علم كے دو ذريعوں ميں سے كوئي ذريعه شرك كي گواهي نه دے تو مشركانه عقيده انسان كے لیے كيوں كردرست هوسكتا هے۔ جو شخص خدا كو چھوڑ كر كسي اور چيز كو اپنا سهارا بنائے۔ وه سہارا آخرت كے دن اس سے برأت كرے گا، نه كه وه اس كا مددگار بنے ۔