Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
وَإِذۡ صَرَفۡنَآ إِلَيۡكَ نَفَرٗا مِّنَ ٱلۡجِنِّ يَسۡتَمِعُونَ ٱلۡقُرۡءَانَ فَلَمَّا حَضَرُوهُ قَالُوٓاْ أَنصِتُواْۖ فَلَمَّا قُضِيَ وَلَّوۡاْ إِلَىٰ قَوۡمِهِم مُّنذِرِينَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
(اور وہ واقعہ بھی قابل ذکر ہے) جب ہم جنوں کے ایک گروہ کو تمہاری طرف لے آئے تھے تاکہ قرآن سنیں جب وہ اُس جگہ پہنچے (جہاں تم قرآن پڑھ رہے تھے) تو انہوں نے آپس میں کہا خاموش ہو جاؤ پھر جب وہ پڑھا جا چکا تو وہ خبردار کرنے والے بن کر اپنی قوم کی طرف پلٹے
English (Sahih International)
And [mention, O Muhammad], when We directed to you a few of the jinn, listening to the Qur’an. And when they attended it, they said, “Listen quietly.” And when it was concluded, they went back to their people as warners
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 29 { وَاِذْ صَرَفْنَآ اِلَیْکَ نَفَرًا مِّنَ الْجِنِّ یَسْتَمِعُوْنَ الْقُرْاٰنَ } ”اور اے نبی ﷺ ! جب ہم نے آپ کی طرف متوجہ کردیا جنات کی ایک جماعت کو کہ وہ قرآن سننے لگے۔“ { فَلَمَّا حَضَرُوْہُ قَالُوْٓا اَنْصِتُوْا } ”تو جب وہ وہاں پہنچے تو انہوں نے کہا : چپ ہو جائو !“ تلاوتِ قرآن کی سماعت کے بارے میں خود قرآن کا بھی یہی حکم ہے : { وَاِذَا قُرِیَٔ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَہٗ وَاَنْصِتُوْا لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوْنَ } الاعراف ”اور جب قرآن پڑھا جار ہا ہو تو اسے پوری توجہ کے ساتھ سنا کرو اور خاموش رہا کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے“۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ طبعاً نیک اور شریف قسم کے ِجنات ّ تھے۔ اگلی آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ماننے والے اہل کتاب جن تھے۔ چناچہ وہ فوراً ہی اللہ کے کلام کو پہچان گئے اور اس کو پورے ادب و احترم سے سننے لگے۔ { فَلَمَّا قُضِیَ وَلَّــوْا اِلٰی قَوْمِہِمْ مُّنْذِرِیْنَ } ”پھر جب قراءت ختم ہوئی تو وہ پلٹے اپنی قوم کی طرف خبردار کرنے والے بن کر۔“
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 29 to 32.
نبوت کے دسویں سال مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات بے حد سخت ہوچکے تھے۔ اس وقت آپ نے مکہ سے طائف کی طرف سفر فرمایا کہ شاید آپ کو کچھ ساتھ دینے والے مل سکیں۔ مگر وہاں کے لوگوں نے آپ کا بہت برُا استقبال کیا۔ واپسی میں آپ رات گزارنے کے لیے نخلہ کے مقام پر ٹھہرے۔ یہاں آپ نماز میں قرآن کی تلاوت فرما رہے تھے کہ جنات کے ایک گروہ نے قرآن کو سنا۔ اور وہ اسی وقت اس کے مومن بن گئے— ایک گروہ قرآن کو رد کر رہا تھا۔ مگر عین اسی وقت دوسرا گروہ قرآن کو قبول کر رہا تھا۔ اور اتنی شدت کے ساتھ قبول کر رہا تھا کہ اسی وقت وہ اس کا مبلغ بن گیا۔
اللہ کے داعی کی بات کو رد کرنا گویا خدا کے منصوبہ کو رد کرنا ہے۔ مگر انسان کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ خدا کے منصوبہ کو رد کرسکے۔ اس لیے ایسی کوشش کرنے والے کا انجام صرف یہ ہوتا ہے کہ وہ خود رد ہو کر رہ جاتا ہے۔