Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 46:27 Prev 46:25


Arabic

وَلَقَدۡ مَكَّنَّـٰهُمۡ فِيمَآ إِن مَّكَّنَّـٰكُمۡ فِيهِ وَجَعَلۡنَا لَهُمۡ سَمۡعٗا وَأَبۡصَٰرٗا وَأَفۡـِٔدَةٗ فَمَآ أَغۡنَىٰ عَنۡهُمۡ سَمۡعُهُمۡ وَلَآ أَبۡصَٰرُهُمۡ وَلَآ أَفۡـِٔدَتُهُم مِّن شَيۡءٍ إِذۡ كَانُواْ يَجۡحَدُونَ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ وَحَاقَ بِهِم مَّا كَانُواْ بِهِۦ يَسۡتَهۡزِءُونَ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

اُن کو ہم نے وہ کچھ دیا تھا جو تم لوگوں کو نہیں دیا ہے اُن کو ہم نے کان، آنکھیں اور دل، سب کچھ دے رکھے تھے، مگر نہ وہ کان اُن کے کسی کام آئے، نہ آنکھیں، نہ دل، کیونکہ وہ اللہ کی آیات کا انکار کرتے تھے، اور اُسی چیز کے پھیر میں وہ آ گئے جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے


English (Sahih International)

And We had certainly established them in such as We have not established you, and We made for them hearing and vision and hearts. But their hearing and vision and hearts availed them not from anything [of the punishment] when they were [continually] rejecting the signs of Allah; and they were enveloped by what they used to ridicule


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 26 { وَلَقَدْ مَکَّنّٰہُمْ فِیْمَآ اِنْ مَّکَّنّٰکُمْ فِیْہِ } ”اور ہم نے جو تمکن انہیں دیا تھا ایسا تمکن ّہم نے تمہیں نہیں دیا ہے“ قریش مکہ کو مخاطب کر کے بتایا جا رہا ہے کہ جو طاقت اور شان و شوکت قوم عاد کو عطا ہوئی تھی اور جو وسائل انہیں میسر تھے تم لوگوں کے پاس تو اس کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہے۔ قبل ازیں سورة الاعراف کی آیت 69 کے ضمن میں بھی ذکر ہوچکا ہے کہ تہذیب و تمدن کے اعتبار سے قوم عاد اپنے زمانے کی بہت ترقی یافتہ قوم تھی۔ شداد اسی قوم کا بادشاہ تھا جس نے خصوصی طور پر ایک شہر بسا کر اسے جنت ِارضی کا نام دیا تھا۔ قوم عاد کا علاقہ اب لق ودق صحرا کی شکل اختیار کرچکا ہے۔ اس صحرا میں شداد کے مذکورہ شہر کی باقیات زیر زمین سیٹلائیٹ کے ذریعے سے دریافت ہوچکی ہیں۔ حتیٰ کہ شہر کی فصیل پر بنے ہوئے 30 کے قریب ستون بھی گن لیے گئے ہیں۔ اسی طرح وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ تمام نشانیاں ایک ایک کر کے دنیا کے سامنے آتی چلی جائیں گی جن کا ذکر قرآن میں آیا ہے۔ { وَجَعَلْنَا لَہُمْ سَمْعًا وَّاَبْصَارًا وَّاَفْئِدَۃً } ”اور ہم نے انہیں کان ‘ آنکھیں اور دل یاعقلیں عطا کیے تھے۔“ { فَمَآ اَغْنٰی عَنْہُمْ سَمْعُہُمْ وَلَآ اَبْصَارُہُمْ وَلَآ اَفْئِدَتُہُمْ مِّنْ شَیْئٍ } ”تو ان کے کچھ بھی کام نہ آئے ان کے کان ‘ نہ ان کی آنکھیں اور نہ ہی ان کے دل عقلیں“ { اِذْ کَانُوْا یَجْحَدُوْنَ لا بِاٰیٰتِ اللّٰہِ وَحَاقَ بِہِمْ مَّا کَانُوْا بِہٖ یَسْتَہْزِئُ وْنَ } ”جبکہ وہ انکار ہی کرتے رہے اللہ کی آیات کا اور ان کو گھیر لیا اسی چیز نے جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے۔“


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 26 to 28.

قریش کے سرداروں کو جو دنیوی مرتبہ حاصل تھا اس نے انہیں سرکش بنا رکھا تھا۔ ان کو یاد دلایا گیا کہ اپنے پڑوس کی قوم عاد کو دیکھو۔ اس کو تمدنی اعتبار سے تم سے بھی زیادہ بڑا درجہ حاصل تھا۔ اس کے باوجودجب خدا کا فیصلہ آیا تو اس کی ساری بڑائی غارت ہو کر رہ گئی۔ ان چیزوں میں سے کوئی چیز اس کا سہارا نہ بن سکی جن کو انہوں نے اپنا سہارا سمجھ رکھا تھا۔

انسان آخر کار خدا کی بڑائی کے مقابلہ میں چھوٹا ہونے والا ہے۔ مگر دنیا کا نظام کچھ اس طرح بنایا گیا ہے کہ اسی دنیا میں آدمی کو بار بار دوسروں کے مقابلہ میں چھوٹا ہونا پڑتا ہے۔ اس طرح کے واقعات خدا کی نشانیاں ہیں۔ آدمی اگر ان نشانیوں سے سبق لے تو آخرت کے دن چھوٹا کیے جانے سے پہلے وہ خود اپنے آپ کو چھوٹا کرلے۔ وہ آخرت سے پہلے اسی دنیا میں حقیقت پسند بن جائے۔

انسان کے سامنے مختلف قسم کے واقعات خدائی نشانی بن کر ظاہر ہوتے ہیں ۔ مگر وہ اندھا بہرا بنا رہتا ہے۔ وہ ان سے سبق لینے کےلیے تیار نہیں ہوتا۔


Connections

  • Previous: 46_25
  • Next: 46_27
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes