Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 46:22 Prev 46:20


Arabic

۞وَٱذۡكُرۡ أَخَا عَادٍ إِذۡ أَنذَرَ قَوۡمَهُۥ بِٱلۡأَحۡقَافِ وَقَدۡ خَلَتِ ٱلنُّذُرُ مِنۢ بَيۡنِ يَدَيۡهِ وَمِنۡ خَلۡفِهِۦٓ أَلَّا تَعۡبُدُوٓاْ إِلَّا ٱللَّهَ إِنِّيٓ أَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيمٖ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

ذرا اِنہیں عاد کے بھائی (ہودؑ) کا قصہ سناؤ جبکہ اُس نے احقاف میں اپنی قوم کو خبردار کیا تھا اور ایسے خبردار کرنے والے اُس سے پہلے بھی گزر چکے تھے اور اس کے بعد بھی آتے رہے کہ “اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو، مجھے تمہارے حق میں ایک بڑے ہولناک دن کے عذاب کا اندیشہ ہے


English (Sahih International)

And mention, [O Muhammad], the brother of ‘Aad, when he warned his people in the [region of] al-Ahqaf - and warners had already passed on before him and after him - [saying], “Do not worship except Allah. Indeed, I fear for you the punishment of a terrible day


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 21 { وَاذْکُرْ اَخَا عَادٍط اِذْ اَنْذَرَ قَوْمَہٗ بِالْاَحْقَافِ } ”اور ذرا تذکرہ کیجیے قوم عاد کے بھائی ہود علیہ السلام کا ‘ جب اس نے خبردار کیا اپنی قوم کو احقاف میں“ جزیرہ نمائے عرب کے جنوبی ساحلی علاقے کو پرانے زمانے میں ”احقاف“ کہا جاتا تھا جہاں قوم عاد آباد تھی ‘ اب یہ علاقہ لق و دق صحرا کی شکل اختیار کرچکا ہے۔ { وَقَدْ خَلَتِ النُّذُرُ مِنْم بَیْنِ یَدَیْہِ وَمِنْ خَلْفِہٖٓ} ”اور اس سے پہلے بھی اور اس کے بعد بھی بہت سے خبردار کرنے والے گزر چکے تھے“ یعنی ایسے خبردار کرنے والے اس سے پہلے بھی گزر چکے تھے اور اس کے بعد بھی آتے رہے۔ -۔ اللہ تعالیٰ کی اس سنت کے بارے میں قبل ازیں بھی کئی مرتبہ وضاحت کی جا چکی ہے کہ کسی قوم میں پہلے بہت سے انبیاء علیہ السلام بھیجے جاتے تھے اور پھر آخر میں اتمامِ حجت کے لیے ایک رسول علیہ السلام کو مبعوث کیا جاتا تھا۔ وہ سب کے سب ایک ہی دعوت دیتے تھے۔ { اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّا اللّٰہَ } ”کہ مت عبادت کرو کسی کی سوائے اللہ کے !“ { اِنِّیْٓ اَخَافُ عَلَیْکُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ } ”مجھے اندیشہ ہے تم پر ایک بڑے دن کے عذاب کا۔“


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 21 to 23.

قوم عاد جنوبی عرب کے اس علاقہ میں آباد تھی جس کو اب الربع الخالی کہا جاتا ہے۔ اس قوم نے کافی ترقی کی۔ مگر اس کی ترقیوں نے اس کو غفلت اور سرکشی میں مبتلا کردیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس کے ایک فرد حضرت ہود کو پیغمبر بنا کر اس کی طرف بھیجا۔

حضرت ہود نے قوم کو ڈرایا۔ مگر وہ اصلاح قبول کرنے کے لیے تیار نہ ہوئی۔ اس نے اپنے پیغمبر کا استقبال جہالت سے کیا۔ آخر کار وہ خدا کی پکڑ میں آگئی۔ اس پر ایسا سخت عذاب آیا کہ اس کا سرسبز اور شاندارعلاقہ محض ایک خشک صحرا بن کر رہ گیا۔


Connections

  • Previous: 46_20
  • Next: 46_22
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes