Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
وَلِكُلّٖ دَرَجَٰتٞ مِّمَّا عَمِلُواْۖ وَلِيُوَفِّيَهُمۡ أَعۡمَٰلَهُمۡ وَهُمۡ لَا يُظۡلَمُونَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
دونوں گروہوں میں سے ہر ایک کے درجے ان کے اعمال کے لحاظ سے ہیں تاکہ اللہ ان کے کیے کا پورا پورا بدلہ ان کو دے ان پر ظلم ہرگز نہ کیا جائے گا
English (Sahih International)
And for all there are degrees [of reward and punishment] for what they have done, and [it is] so that He may fully compensate them for their deeds, and they will not be wronged
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 19 { وَلِکُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوْا } ”اور ہر ایک کے لیے درجے اور مقامات ہوں گے ان کے اعمال کے اعتبار سے۔“ { وَلِیُوَفِّیَہُمْ اَعْمَالَہُمْ وَہُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ } ”اور تاکہ وہ پورا پورا دے انہیں ان کے اعمال کا بدلہ اور ان پر کوئی ظلم نہیں ہوگا۔“
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 19 and 20.
ايك شخص كے سامنے حق آتا هے اور وه دنيوي مصلحت اور مادي مفاد كي خاطر اس كو اختيار نهيں كرتا۔ اس كا مطلب يه هے كه اس نے آخرت كے مقابله ميں دنيا كو اهميت دي۔ اس نے طيبات آخرت كے مقابله ميں طيبات دنيا كو اپنے ليے پسند كرليا۔
اسي طرح اپني بڑائي كا احساس آدمي كے لیے بے حد لذيذ چيز هے۔ جب ايسا هو كه اپني بڑائي كا گھروندا توڑ كر حق كو قبول كرنا هو اور آدمي اپني بڑائي كو بچانے كے ليے حق كو قبول نه كرے، اس وقت بھي گويا اس نے طيبات دنيا كو ترجيح دي اور طيبات آخرت كو ناقابل لحاظ سمجھ كر چھوڑ ديا۔
ايسے تمام لوگ جنھوں نے دنيا كي طيبات كي خاطر آخرت كي طيبات كو نظر انداز كيا وه آخرت ميں ذلّت كے عذاب سے دوچار هوں گے۔ جس كا عمل جس درجه كا هوگا اسي كے بقدر وه اپنے عمل كا انجام آخرت ميں پائے گا۔