Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 46:18 Prev 46:16


Arabic

وَٱلَّذِي قَالَ لِوَٰلِدَيۡهِ أُفّٖ لَّكُمَآ أَتَعِدَانِنِيٓ أَنۡ أُخۡرَجَ وَقَدۡ خَلَتِ ٱلۡقُرُونُ مِن قَبۡلِي وَهُمَا يَسۡتَغِيثَانِ ٱللَّهَ وَيۡلَكَ ءَامِنۡ إِنَّ وَعۡدَ ٱللَّهِ حَقّٞ فَيَقُولُ مَا هَٰذَآ إِلَّآ أَسَٰطِيرُ ٱلۡأَوَّلِينَ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

اور جس شخص نے اپنے والدین سے کہا “اُف، تنگ کر دیا تم نے، کیا تم مجھے یہ خوف دلاتے ہو کہ میں مرنے کے بعد پھر قبر سے نکالا جاؤں گا حالانکہ مجھ سے پہلے بہت سی نسلیں گزر چکی ہیں (اُن میں سے تو کوئی اٹھ کر نہ آیا)” ماں اور باپ اللہ کی دوہائی دے کر کہتے ہیں “ارے بدنصیب، مان جا، اللہ کا وعدہ سچا ہے” مگر وہ کہتا ہے “یہ سب اگلے وقتوں کی فرسودہ کہانیاں ہیں


English (Sahih International)

But one who says to his parents, “Uff to you; do you promise me that I will be brought forth [from the earth] when generations before me have already passed on [into oblivion]?” while they call to Allah for help [and to their son], “Woe to you! Believe! Indeed, the promise of Allah is truth.” But he says, “This is not but legends of the former people


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 17 { وَالَّذِیْ قَالَ لِوَالِدَیْہِ اُفٍّ لَّکُمَآ اَتَعِدٰنِنِیْٓ اَنْ اُخْرَجَ } ”اور ایک وہ شخص ہے جو اپنے والدین سے کہتا ہے کہ میں بیزار ہوں آپ دونوں سے ‘ کیا آپ مجھے اس سے ڈراتے ہیں کہ میں نکال کھڑا کیا جائوں گا زندہ کر کے قبر سے ؟“ والدین مسلمان ہیں ‘ نیک سیرت ہیں ‘ لیکن بیٹا آوارہ اور ذہنی طور پر گمراہ ہوچکا ہے۔ وہ نہ اللہ کو مانتا ہے ‘ نہ آخرت پر یقین رکھتا ہے۔ وہ اپنے والدین سے توتکار کرتا ہے کہ یہ آپ مجھے کیا ہر وقت حساب کتاب کی دھمکیاں دیتے رہتے ہیں ! ُ تف ہے آپ لوگوں پر ! میں آپ کے ان ڈھکوسلوں کی خود ساختہ تفصیلات سن سن کر تنگ آگیا ہوں ! بس آپ لوگ مجھے مزید سمجھانا چھوڑ دیں ! میں کسی آخرت واخرت کو نہیں مانتا ! { وَقَدْ خَلَتِ الْقُرُوْنُ مِنْ قَبْلِیْج } ”حالانکہ مجھ سے پہلے کتنی ہی نسلیں گزر چکی ہیں !“ اب تک نسل در نسل کروڑوں ‘ اربوں لوگ اس دنیا میں آئے اور چلے گئے۔ ان میں سے تو آج تک کوئی اُٹھ کر نہ آیا۔ ایک وقت میں ان سب کا زندہ ہونا اور پھر ایک ایک کا حساب کتاب ہونا بالکل بعید از قیاس ہے۔ میں ایسی دقیانوسی باتوں کو ماننے والا نہیں ہوں۔ { وَہُمَا یَسْتَغِیْثٰنِ اللّٰہَ وَیْلَکَ اٰمِنْق اِنَّ وَعْدَ اللّٰہِ حَقٌّج } ”اور وہ دونوں اللہ کی دہائی دے کر کہتے ہیں : بربادی ہو تیری ‘ ایمان لے آ ! یقینا اللہ کا وعدہ سچا ہے۔“ { فَـیَقُوْلُ مَا ہٰذَآ اِلَّآ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ } ”لیکن وہ کہتا ہے : یہ کچھ نہیں مگر پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں۔“ یہ دوبارہ زندہ ہونے اور آخرت کی باتیں بس فرضی کہانیاں ہیں جو پچھلے زمانے سے سینہ بہ سینہ نقل ہوتی چلی آرہی ہیں۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 17 and 18.

جو اولاد اپنے والدین كي فرماں بردار هو وه خدا كي بھي فرماں بردار هوتي هے۔ اس كے برعكس، نافرمان اولاد كا حال يه هوتا هے كه وه بڑي عمر كو پهنچتے هي بھول جاتے هيں كه ان كے والدين نے بے شمار مصيبتيں اٹھاكر ان كو اس مقام تك پهنچايا هے۔

كسي شخص كے سب سے زياده خير خواه اس كے والدين هوتے هيں۔ والدين اپني اولاد كو جو مشوره ديتے هيں وه سراسر بے غرضانه خير خواهي پر مبني هوتا هے۔ اس ليے انسان كو چاهيے كه وه اپنے صالح والدين كے مشوروں كا سب سے زياده لحاظ كرے۔ جو شخص اپنے صالح والدين كے مشوروں پر انھيں جھڑك دے وه اپني اس روش سے ظاهر كرتا هے كه وه نهايت سنگ دل انسان هے۔ يهي وه لوگ هيں جو سب سے زياده خساره ميں پڑنے والے هيں۔


Connections

  • Previous: 46_16
  • Next: 46_18
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes