Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
وَمِن قَبۡلِهِۦ كِتَٰبُ مُوسَىٰٓ إِمَامٗا وَرَحۡمَةٗۚ وَهَٰذَا كِتَٰبٞ مُّصَدِّقٞ لِّسَانًا عَرَبِيّٗا لِّيُنذِرَ ٱلَّذِينَ ظَلَمُواْ وَبُشۡرَىٰ لِلۡمُحۡسِنِينَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
حالانکہ اِس سے پہلے موسیٰؑ کی کتاب رہنما اور رحمت بن کر آ چکی ہے، اور یہ کتاب اُس کی تصدیق کرنے والی زبان عربی میں آئی ہے تاکہ ظالموں کو متنبہ کر دے اور نیک روش اختیار کرنے والوں کو بشارت دے دے
English (Sahih International)
And before it was the scripture of Moses to lead and as a mercy. And this is a confirming Book in an Arabic tongue to warn those who have wronged and as good tidings to the doers of good
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 12 { وَمِنْ قَبْلِہٖ کِتٰبُ مُوْسٰٓی اِمَامًا وَّرَحْمَۃً } ”حالانکہ اس سے پہلے موسیٰ علیہ السلام ٰ کی کتاب موجود ہے ‘ راہنمائی کرنے والی اور رحمت !“ { وَہٰذَا کِتٰبٌ مُّصَدِّقٌ لِّسَانًا عَرَبِیًّا } ”اور یہ کتاب اس کی تصدیق کرنے والی ہے ‘ عربی زبان میں“ یعنی قرآن مصدق ہے تورات اور انجیل کا ‘ اور قرآن کی یہ تصدیق دو پہلو سے ہے۔ ایک طرف تو قرآن ان کتابوں کی اس لحاظ سے تصدیق کرتا ہے کہ یہ دونوں اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ ہیں۔ یہ تصدیق ہمیں قرآن میں جابجا ملتی ہے۔ مثلاً سورة المائدۃ آیت 44 میں فرمایا : { اِنَّآ اَنْزَلْنَا التَّوْرٰٹۃَ فِیْہَا ہُدًی وَّنُوْرٌج } کہ ہم نے تورات نازل کی تھی اس میں ہدایت بھی تھی اور نور بھی تھا۔ اور پھر سورة المائدۃ میں ہی آگے آیت 46 میں انجیل کی تصدیق ہے : { وَاٰتَیْنٰہُ الْاِنْجِیْلَ فِیْہِ ہُدًی وَّنُوْرٌ} کہ ہم نے عیسیٰ علیہ السلام ٰ ابن مریم کو انجیل عطا کی ‘ یہ بھی ہدایت اور نور کا منبع ہے۔ چناچہ قرآن ایک تو ان دونوں کتابوں کے منزل ّمن اللہ ہونے کی تصدیق کرتا ہے اگرچہ ان دونوں میں تحریف کردی گئی جبکہ اس تصدیق کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ تورات اور انجیل میں جو پیشین گوئیاں تھیں قرآن ان کا مصداق بن کر آیا ہے۔ { لِّیُنْذِرَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا } ”تاکہ خبردار کر دے ان لوگوں کو جنہوں نے ظلم کی روش اختیار کی“ خبردار اور متنبہ کردینے کی ذمہ داری ہی کی وجہ سے قرآن کو سادہ اور سلیس زبان میں نازل کیا گیا اور سمجھنے کے لیے آسان بنا دیا گیا تاکہ ہر شخص تک اس کا پیغام پہنچ جائے۔ { وَبُشْرٰی لِلْمُحْسِنِیْنَ } ”اور بشارت بن جائے احسان کی روش اختیار کرنے والوں کے لیے۔“ ”محسنین“ وہ لوگ ہیں جو اسلام کے درجے سے بتدریج آگے بڑھتے ہوئے ایمان اور پھر احسان کے درجے تک پہنچ جائیں۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 12 to 14.
قرآن كي صداقت كي ايك دليل يه هے كه پچھلي آسماني كتابيں اس كي پيشين گوئي كرتي رهي هيں۔ يه پيشين گوئياں آج بھي انجيل اور تورات ميں موجود هيں۔ اس طرح قرآن اپني سابق آسماني پيشين گوئيوں كا مصداق بن كر آيا هے۔ وه ان كي پيشگي اطلاع كو سچ كردكھاتا هے۔ يه ايك واضح قرينه هے جو ثابت كرتا هے كه قرآن، واقعةً ايك خدائي كتاب هے۔ ورنه سيكڑوں اور هزاروں سال پهلے اس كي پيشگي خبر دينا كيسے ممكن هوتا۔
’’قالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقامُوا‘‘كے سلسله ميں حضرت عبد الله بن عباس سے مروي هے كه اس سے مراد اس كے فرائض كي ادائيگي پر قائم رهنا هے (ثُمَّ اسْتَقامُوا عَلَى أَدَاءِ فَرَائِضِهِ) تفسیر الطبری، جلد 20، صفحہ
425
۔
ايمان ايك مقدس عهد هے۔ زندگي ميں بار بار ايسے مواقع آتے هيں كه ايك روش آدمي كے عهدِ ايمان كے مطابق هوتي هے اور ايك روش اس كے عهد ايمان كے غير مطابق۔ ايسے مواقع پر جس شخص نے اپنے عهد ايمان كے مطابق عمل كيا اس نےاستقامت دكھائي اور جو شخص اپنے عهد ايمان كے مطابق عمل نه كرسكا وه استقامت دكھانے ميں ناكام رها۔
استقامت کا ثبوت نہ دینے والے لوگ ظالم لوگ ہیں ان کا دعوائے ایمان انھیں کچھ فائدہ نہ دے گا اور جن لوگوں نے استقامت کا ثبوت دیا وہی وہ لوگ ہیں جو جنت کے ابدی باغوں میں بسائے جائیں گے۔