Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 45:6 Prev 45:4


Arabic

وَٱخۡتِلَٰفِ ٱلَّيۡلِ وَٱلنَّهَارِ وَمَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مِن رِّزۡقٖ فَأَحۡيَا بِهِ ٱلۡأَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِهَا وَتَصۡرِيفِ ٱلرِّيَٰحِ ءَايَٰتٞ لِّقَوۡمٖ يَعۡقِلُونَ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

اور شب و روز کے فرق و اختلاف میں، اور اُس رزق میں جسے اللہ آسمان سے نازل فرماتا ہے پھر اس کے ذریعہ سے مردہ زمین کو جِلا اٹھاتا ہے، اور ہواؤں کی گردش میں بہت نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیتے ہیں


English (Sahih International)

And [in] the alternation of night and day and [in] what Allah sends down from the sky of provision and gives life thereby to the earth after its lifelessness and [in His] directing of the winds are signs for a people who reason


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 5 { وَاخْتِلَافِ الَّیْلِ وَالنَّہَارِ وَمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ مِنَ السَّمَآئِ مِنْ رِّزْقٍ } ”اور رات اور دن کے اختلاف میں ‘ اور اس میں جو اللہ آسمان سے رزق اتارتا ہے“ رزق سے مراد یہاں بارش کا پانی ہے جو زمین سے روزی کے نکلنے کا ذریعہ بنتا ہے۔ بارش کے پانی کا نزول گویا انسانوں اور دوسرے جانداروں کے لیے رزق کا نزول ہے۔ { فَاَحْیَا بِہِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِہَا } ”پھر زندہ کردیتا ہے اس سے زمین کو اس کی موت کے بعد“ وہ زمین جو بنجر اور بےآب وگیاہ پڑی تھی بارش کے برستے ہی ہریالی اور طرح طرح کے نباتات کے لباس میں ملبوس نظر آنے لگی۔ { وَتَصْرِیْفِ الرِّیٰحِ اٰیٰتٌ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ } ”اور ہوائوں کے چلنے میں ‘ نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیں۔“ یہاں پر سورة البقرۃ کی وہ آیت ایک دفعہ پھر سے ذہن میں تازہ کرلیں جسے میں نے ”آیت الآیات“ کا عنوان دیا تھا : { اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلاَفِ الَّیْلِ وَالنَّہَارِ وَالْفُلْکِ الَّتِیْ تَجْرِیْ فِی الْْبَحْرِ بِمَا یَنْفَعُ النَّاسَ وَمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ مِنَ السَّمَآئِ مِنْ مَّآئٍ فَاَحْیَا بِہِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِہَا وَبَثَّ فِیْہَا مِنْ کُلِّ دَآبَّۃٍص وَّتَصْرِیْفِ الرِّیٰحِ وَالسَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَیْنَ السَّمَآئِ وَالْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ } ”یقینا آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں ‘ اور رات اور دن کے الٹ پھیر میں ‘ اور ان کشتیوں اور جہازوں میں جو سمندر میں یا دریائوں میں لوگوں کے لیے نفع بخش سامان لے کر چلتی ہیں ‘ اور اس پانی میں کہ جو اللہ نے آسمان سے اتارا ہے ‘ پھر اس سے زندگی بخشی زمین کو اس کے مردہ ہوجانے کے بعد ‘ اور ہر قسم کے حیوانات اور چرند پرند اس کے اندر پھیلادیے ‘ اور ہوائوں کی گردش میں ‘ اور ان بادلوں میں جو معلق کردیے گئے ہیں آسمان اور زمین کے درمیان ‘ نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیں۔“ گویا سورة البقرۃ کی اس آیت میں جو نشانیاں بیان ہوئی ہیں ان میں سے اکثر کا ذکر زیر مطالعہ تین آیات میں آگیا ہے۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

The commentary on this ayah is given with ayah 45:1.


Connections

  • Previous: 45_4
  • Next: 45_6
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes