Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
وَبَدَا لَهُمۡ سَيِّـَٔاتُ مَا عَمِلُواْ وَحَاقَ بِهِم مَّا كَانُواْ بِهِۦ يَسۡتَهۡزِءُونَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
اُس وقت اُن پر ان کے اعمال کی برائیاں کھل جائیں گی اور وہ اُسی چیز کے پھیر میں آ جائیں گے جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے
English (Sahih International)
And the evil consequences of what they did will appear to them, and they will be enveloped by what they used to ridicule
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 33 { وَبَدَا لَہُمْ سَیِّاٰتُ مَا عَمِلُوْا } ”اور ان کے سامنے آجائیں گے ان کے وہ تمام ُ برے اعمال جو انہوں نے کیے تھے“ { وَحَاقَ بِہِمْ مَّا کَانُوْا بِہٖ یَسْتَہْزِئُ وْنَ } ”اور انہیں گھیرے میں لے لے گی وہی چیز جس کا وہ استہزا کیا کرتے تھے۔“ دنیا میں وہ لوگ جہنم کا مذاق اڑایا کرتے تھے ‘ چناچہ وہی جہنم انہیں اپنی آغوش میں لینے کے لیے وہاں موجود ہوگی۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 33 to 35.
موجوده دنيا ميں آدمي جب برائي كرتا هے تو اس كے برے نتائج فوراً اس كے سامنے نهيں آتے۔ يه چيزاس كو دلير بناديتي هے۔ اس كو جب اس كي بدعملي سے ڈرايا جاتا هے تو وه سنجيدگي كے ساتھ اس كو سننے كے ليے تيار نهيں هوتا۔ مگر آخرت ميں اس كي برائيوں كے نتائج اس كي آنكھوں كے سامنے آجائيں گے۔ وه اپني بداعماليوں ميں پوري طرح گھر چكا هوگا۔ اس وقت وه اس حق كا اقرار كرلے گا جس كو دنيا ميں اس نے اتنا بے قيمت سمجھا تھا كه وه اس كا مذاق اڑاتا رها۔
آخرت ميں انسان اس حق كا اقرار كرے گا جس كو وه دنيا ميں جھٹلاتا رها۔ مگر وهاں اس كو قبول نهيں كيا جائے گا۔ كيوں كه حق كا اقرار غيب كي سطح پر قيمت ركھتا هے، نه كه شهود كي سطح پر۔