Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 45:25 Prev 45:23


Arabic

وَقَالُواْ مَا هِيَ إِلَّا حَيَاتُنَا ٱلدُّنۡيَا نَمُوتُ وَنَحۡيَا وَمَا يُهۡلِكُنَآ إِلَّا ٱلدَّهۡرُۚ وَمَا لَهُم بِذَٰلِكَ مِنۡ عِلۡمٍۖ إِنۡ هُمۡ إِلَّا يَظُنُّونَ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

یہ لوگ کہتے ہیں کہ “زندگی بس یہی ہماری دنیا کی زندگی ہے، یہیں ہمارا مرنا اور جینا ہے اور گردش ایام کے سوا کوئی چیز نہیں جو ہمیں ہلاک کرتی ہو” در حقیقت اِس معاملہ میں اِن کے پاس کوئی علم نہیں ہے یہ محض گمان کی بنا پر یہ باتیں کرتے ہیں


English (Sahih International)

And they say, “There is not but our worldly life; we die and live, and nothing destroys us except time.” And they have of that no knowledge; they are only assuming


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 24 { وَقَالُوْا مَا ہِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا نَمُوْتُ وَنَحْیَا } ”وہ کہتے ہیں کہ نہیں ہے کوئی اور زندگی سوائے ہماری دنیا کی زندگی کے ‘ ہم خود ہی مرتے ہیں اور خود ہی جیتے ہیں“ اس ایک جملے میں یوں سمجھئے کہ دہریت اور مادّیت Materialism کی پوری حقیقت سمو دی گئی ہے۔ اس فلسفے کے مطابق اس کائنات کی اصل اور سب سے بڑی حقیقت مادّہ matter ہے ‘ مادّے کے علاوہ کسی اور شے کا کوئی وجود نہیں ‘ مادّے کی اپنی صفات ہیں ‘ کائنات میں جہاں کہیں بھی کوئی چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی تبدیلی آتی ہے وہ مادّے کی ہیئت میں تبدیلیوں physical and chemical changes کے باعث ہی ممکن ہے۔ یہ کائنات مادّے سے خود ہی وجود میں آئی تھی اور مادّے کے اٹل قوانین کے باعث خود ہی چل رہی ہے۔ انسانی زندگی بھی انہی اٹل قوانین کے تابع ہے۔ انہی لگے بندھے قوانین کے تحت انسان پیدا ہوتے ہیں ‘ اپنی طبعی عمر کے مطابق زندہ رہتے ہیں اور مرجاتے ہیں۔ نہ تو مرنے کے بعد انسان دوبارہ زندہ ہوسکتا ہے اور نہ ہی اس زندگی کے بعد کسی اور زندگی کا کوئی امکان ہے۔ یہ فلسفہ دہریت کے بنیادی نکات ہیں ‘ جبکہ تجربیت پسندی بحیثیت نظریہ علم Empiricism اور منطقی اثباتیت Logical Positivism بھی اسی فلسفے کی ذیلی شاخیں ہیں اور مذکورہ نکات ان سب کے ہاں مشترک ہیں۔ { وَمَا یُہْلِکُنَآ اِلَّا الدَّہْرُ } ”اور ہمیں نہیں ہلاک کرتا مگر زمانہ“ کہ ہم تو محض زمانے کی گردش سے ہلاک ہوتے ہیں۔ نہ تو کوئی اللہ ہے جو انسانوں کی موت کے پروانے جاری کرتا ہو اور نہ ہی کسی فرشتے وغیرہ کا کوئی وجود ہے جو آکر کسی کی جان قبض کرتا ہو۔ { وَمَا لَہُمْ بِذٰلِکَ مِنْ عِلْمٍج اِنْ ہُمْ اِلَّا یَظُنُّوْنَ } ”حالانکہ ان کے پاس اس بارے میں کوئی علم نہیں ہے ‘ وہ تو صرف ظن سے کام لے رہے ہیں۔“ محض اٹکل کے تیر ُ تکے ّچلا رہے ہیں۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 24 to 26.

’’هم كو زمانه كي گردش هلاك كرتي هے‘‘ عام لوگوں كا قول نهيں۔ اس طرح كي باتيں هميشه مخصوص افراد كرتے هيں۔ يه وه افراد هيں جو اپني ذهانت كي وجه سے اكثر سماج كے فكري نمائنده كي حيثيت حاصل كرليتے هيں۔ تاهم يه باتيں وه محض قياس كي بنياد پر كهتے هيں۔ وه كسي حقيقي علم كي بنياد پر ايسا نهيں كهتے۔ اس كے مقابله ميں پيغمبر جو بات كهتا هے اس كي بنياد ٹھوس حقيقت پر قائم هے۔

هم روزانه ديكھتے هيں كه ايك شخص نهيں تھا۔ پھر وه پيدا هو كر موجود هوگيا۔ اس كے بعد وه دوباره مرجاتا هے۔ گويا يهاں هر آدمي كو موت كے بعد زندگي ملتي هے اور زندگي كے بعد وه دوباره مرجاتا هے۔ يه اس بات كا قرينه هے كه جس طرح پهلي بار موت كے بعد زندگي هوئي، اسي طرح دوسري بار بھي موت كے بعد زندگي هوگي۔

اس سے واضح طورپر زندگي بعد موت كا ممكن هونا ثابت هوتا هے۔ اس كے بعد يه مطالبه كرنا غلط هے كه جو لوگ كل دوباره پيدا هونے والے هيں ان كو آج پيدا كركے دكھاؤ۔ كيوں كه موجوده دنيا امتحان كے ليے هے۔ اور اگر موجوده دنيا ميں اگلي دنيا كا حال دكھاديا جائے تو امتحان كي مصلحت باقي نهيں ره سكتي۔


Connections

  • Previous: 45_23
  • Next: 45_25
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes