Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 45:17 Prev 45:15


Arabic

وَلَقَدۡ ءَاتَيۡنَا بَنِيٓ إِسۡرَـٰٓءِيلَ ٱلۡكِتَٰبَ وَٱلۡحُكۡمَ وَٱلنُّبُوَّةَ وَرَزَقۡنَٰهُم مِّنَ ٱلطَّيِّبَٰتِ وَفَضَّلۡنَٰهُمۡ عَلَى ٱلۡعَٰلَمِينَ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

اِس سے پہلے بنی اسرائیل کو ہم نے کتاب اور حکم اور نبوت عطا کی تھی اُن کو ہم نے عمدہ سامان زیست سے نوازا، دنیا بھر کے لوگوں پر انہیں فضیلت عطا کی


English (Sahih International)

And We did certainly give the Children of Israel the Scripture and judgement and prophethood, and We provided them with good things and preferred them over the worlds


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 16 { وَلَقَدْ اٰتَیْنَا بَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ الْکِتٰبَ وَالْحُکْمَ وَالنُّبُوَّۃَ } ”اور ہم نے بنی اسرائیل کو عطا کی کتاب ‘ حکومت اور نبوت“ { وَرَزَقْنٰہُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَفَضَّلْنٰہُمْ عَلَی الْعٰلَمِیْنَ } ”اور ہم نے انہیں عطا کیں بہت سی پاکیزہ چیزیں ‘ اور انہیں ہم نے تمام جہان کی قوموں پر فضیلت دی۔“ ان لوگوں کا نسبی تعلق اگرچہ حضرت ابراہیم سے ہے ‘ لیکن جس قوم کا نام بنی اسرائیل ہے وہ حضرت یعقوب کی اولاد ہے۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کا لقب ”اسرائیل“ اللہ کا بندہ تھا اور آپ علیہ السلام کے بارہ بیٹوں کی اولاد سے بارہ قبیلے وجود میں آئے جو بنی اسرائیل کہلائے۔ قرآن حکیم میں بنی اسرائیل کو فضیلت سے نوازے جانے کا ذکر تکرار سے آیا ہے۔ اس فضیلت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ ان کے ہاں نبوت کا وہ سلسلہ جو دو پیغمبروں حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون سے شروع ہوا ‘ چودہ سو برس تک بغیر کسی وقفے اور انقطاع کے جاری رہا۔ اس دوران ان کے ہاں پے در پے نبی آئے اور نبوت کی کڑی کے ساتھ کڑی یوں ملتی گئی کہ ایک مسلسل زنجیر بن گئی۔ پھر جس طرح اس زنجیر کا آغاز دو پیغمبروں سے ہوا تھا اسی طرح اس کا اختتام بھی دو پیغمبروں یعنی حضرت یحییٰ اور حضرت عیسیٰ ﷺ پر ہوا۔ بہر حال جتنے انبیاء بنی اسرائیل کی طرف آئے ‘ دنیا میں کسی اور قوم کی طرف اتنے انبیاء نہیں آئے۔ اقوامِ عالم پر بنی اسرائیل کی یہ فضیلت آج بھی قائم ہے۔ بنی اسرائیل کے حوالے سے ہمارے لیے اصل سمجھنے کی بات یہ ہے کہ وہ لوگ جب دین کی طرف پیٹھ پھر کر ‘ دنیا میں منہمک ہوگئے ‘ عیاشیوں میں پڑگئے اور آخرت کو بھول گئے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے فضیلت کی حامل اس قوم پر ذلت اور مسکنت تھوپ دی گئی : { وَضُرِبَتْ عَلَیْہِمُ الذِّلَّۃُ وَالْمَسْکَنَۃُ } اور اس فیصلے کا اعلان قرآن میں دو مرتبہ البقرۃ : 61 اور آلِ عمران : 112 کیا گیا۔ چناچہ بنی اسرائیل تاریخ میں آج ہمارے لیے عبرت کا سامان ہے۔ ہم پر بھی اللہ تعالیٰ نے اپنا خصوصی فضل اور احسان فرمایا کہ ہمیں اس نے اپنے آخری رسول ﷺ کی امت بنایا اور اپنی آخری کتاب سے نوازا۔ مگر ہم نے بھی جب دین کی طرف سے پیٹھ پھیرلی اور آخرت کو بھول کر دنیا ہی کو اپنا اوڑھنا ‘ بچھونا بنا لیا تو ہمارے حصے میں بھی ویسی ہی ذلت و مسکنت آئی۔ چناچہ آج دنیا میں ڈیڑھ سو کروڑ مسلمان ہیں مگر اقوامِ عالم کے درمیان ان کی حیثیت یہ ہے کہ ع ”کس نمی پر سد کہ بھیا کیستی ؟“ آج بین الاقوامی معاملات کے بارے میں کسی بھی فورم پر مسلمان ممالک کی رائے پوچھنے کی زحمت تک نہیں کی جاتی۔ بلکہ اب تو مسلمانوں کے اپنے معاملات کی باگ ڈور بھی غیروں کے ہاتھوں میں ہے۔ اس موضوع پر مزید معلومات کے لیے میری انگریزی تقریر Turmoil in Muslim Ummah سے استفادہ کیا جاسکتا ہے ‘ جبکہ اردو میں تو اس موضوع پر میری بہت سی تقاریر دستیاب ہیں۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 16 to 20.

’’بني اسرائيل كو هم نے دنيا والوں پر فضيلت دي‘‘— يه وهي بات هے جو امت محمدي كے ذيل ميں ان الفاظ ميں كهي گئي هے كه’’تم خير امت هو‘‘۔ كسي گروه كو خدا كي كتاب كا حامل بنانا اس كو دوسري قوموں پر هدايت كا ذمه دار بنانا هے۔ يهي اس كا افضل الامم يا خير الامم هونا هے۔

اصولي طور پر بني اسرائيل كي حيثيت بھي اسي طرح عالمي تھي جس طرح امت مسلمه كي حيثيت عالمي هے۔ مگر بني اسرائيل نے اپني كتاب ميں تحريفات كركے هميشه كے لیے اپنا يه استحقاق كھوديا۔

دين كي اصل تعليمات ميں هميشه وحدت هوتي هے۔ مگر علماء كے اضافے اس ميں اختلاف اور تعدد پيدا كردیتے هيں۔ هر عالم اپنے ذوق كے لحاظ سے الگ الگ اضافے كرتا هے۔ اس كے بعد هر عالم اور اس كے متبعين اپنے اضافوں كو صحيح اور دوسرے كے اضافوں كو غلط ثابت كرنے ميں مصروف هوجاتے هيں۔ اس طرح ديني فرقے بننا شروع هوتے هيں اور آخر كار يهاں تك نوبت پهنچتي هے كه ايك دين كئي دينوں ميں تقسيم هوجاتا هے۔

بني اسرائيل نے جب دين منزَّل كو دين محرّف كي حيثيت دے دي اس وقت محمد صلي الله عليه وسلم كے ذريعه الله نے قرآن اتارا۔ چونكه آپ كے بعد كوئي پيغمبرآنے والا نه تھا۔اس ليے الله نے خصوصي اهتمام كے ساتھ قرآن كو محفوظ كرديا تاكه دوباره يه صورت نه پيدا هو كه الله كا دين انساني اضافوں ميں گم هوكر ره جائے۔


Connections

  • Previous: 45_15
  • Next: 45_17
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes