Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 44:10 Prev 44:8


Arabic

بَلۡ هُمۡ فِي شَكّٖ يَلۡعَبُونَ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

(مگر فی الواقع اِن لوگوں کو یقین نہیں ہے) بلکہ یہ اپنے شک میں پڑے کھیل رہے ہیں


English (Sahih International)

But they are in doubt, amusing themselves


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 9 { بَلْ ہُمْ فِیْ شَکٍّ یَّلْعَبُوْنَ } ”لیکن یہ لوگ شک میں پڑے ہوئے کھیل رہے ہیں۔“ رسول اللہ ﷺ جب اہل ِمکہ ّکے سامنے قرآن پیش کرتے تھے تو ان میں سے اکثر لوگ اسے کلام اللہ ماننے کے بجائے اس کے بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار کرتے تھے۔ پھر اسی بنا پر وہ حضور ﷺ کا مذاق بھی اڑاتے تھے کہ دیکھیں جی ! یہ کہتے ہیں کہ ان کے پاس آسمان سے وحی آتی ہے۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 9 to 29.

لمبي مدت تك حضرت موسيٰ کی تبليغي كوششوں كے بعد قوم فرعون پر اتمام حجت هوگيا۔ اب يه ثابت هوگيا كه وه مجرم هيں۔ اس وقت حضرت موسيٰ كو حكم هوا كه وه اپني قوم (بني اسرائيل) كے ساتھ مصر سے نكل كر باهرچلے جائيں۔ حضرت موسيٰ روانه هوئے يهاں تك وه دريا كے كنارے پهنچ گئے۔ اس وقت دريا كا پاني هٹ گيا اور آپ كے لیے پار هونے كا راسته نكل آيا۔

فرعون اپنے لشكر كے ساتھ حضرت موسيٰ اور بني اسرائيل كا پيچھا كرتا هوا آرها تھا۔ اس نے جب دريا ميں راسته بنتے هوئے ديكھا تو اس نے سمجھا كه جس طرح موسيٰ پار هوگئے هيں وه بھي اسي طرح پار هوسكتا هے۔ مگر دريا كا راسته ساده معنوں ميں صرف راسته نه تھا بلكه وه خدا كا حكم تھا اور خدا كا حكم اس وقت موسيٰ كے ليے نجات كا تھا اور فرعون كے ليے هلاكت كا۔ چنانچه جب فرعون اور اس كا لشكر دريا ميں داخل هوئے تو دونوں طرف كا پاني برابر هوگيا۔ فرعون مع اپنے لشكر كے اس ميں غرق هوگيا۔

دنيا كي نعمتيں جس كو ملتي هيں اكثر وه ان كو اپني ذاتي چيز سمجھ ليتا هے حالانكه كسي كے لیے بھي وه ذاتي نهيں هيں۔ خدا جب چاهے كسي كو دے اور جب چاهے اس سے چھين كر اسے دوسروں كے حوالے كردے۔


Connections

  • Previous: 44_8
  • Next: 44_10
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes