Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
وَلَقَدۡ نَجَّيۡنَا بَنِيٓ إِسۡرَـٰٓءِيلَ مِنَ ٱلۡعَذَابِ ٱلۡمُهِينِ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
اِس طرح بنی اسرائیل کو ہم نے سخت ذلت کے عذاب
English (Sahih International)
And We certainly saved the Children of Israel from the humiliating torment
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 30 { وَلَقَدْ نَجَّیْنَا بَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ مِنَ الْعَذَابِ الْمُہِیْنِ } ”اور ہم نے نجات دے دی بنی اسرائیل کو ذلت آمیز عذاب سے۔“
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 30 to 33.
دنيا ميں ايك قوم كا گرنا اور دوسري قوم كا ابھرنا اتفاقی طورپر نهيں هوتا۔ اور نه اس كا مطلب يه هے كه ايك ظالم قوم اپني ظالمانه كارروائيوں سے دوسري قوم پر غالب آگئي۔ يه تمام تر خدا كے فيصلے كے مطابق هوتا هے۔ يه خدا هے جو اپنے فيصله كے تحت ايك كے ليے مغلوبيت كا اور دوسرے كے لیے غلبه كا فيصله كرتاهے۔ اور وه جو كچھ فيصله كرتاهے اپنے علم كي بنا پر كرتا هے، نه كه اَلل ٹپ طور پر۔
علم الهي كے مطابق فيصله هونے كا مطلب دوسرے لفظوں ميں يه هے كه جو كچھ هوتا هے بربنائے استحقاق هوتا هے۔ خدا اپنے كلي علم كے تحت قوموں كو ديكھتا هے۔ پھر وه جس كو بااستحقاق پاتا هے اس كے حق ميں غلبه كا فيصله كرتاهے اور جس كو بے استحقاق ديكھتا هے اس كو مغلوب ومعزول كرديتاهے۔
اقوام كي زندگي ميں ايسي نشانياں ظاهر هوتي هيں جو يه بتاتي هيں كه ان كے ساتھ جو فيصله هوا هے وه خدا كي طرف سے هوا هے۔ اگر آدمي كي بصيرت زنده هو تو وه ان نشانيوں ميں ان اسباب كي جھلك پالے گا جس كے تحت خدا نے قوموں كے حق ميں اپنا فيصله صادر فرمايا هے۔