Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 43:82 Prev 43:80


Arabic

قُلۡ إِن كَانَ لِلرَّحۡمَٰنِ وَلَدٞ فَأَنَا۠ أَوَّلُ ٱلۡعَٰبِدِينَ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

اِن سے کہو، “اگر واقعی رحمان کی کوئی اولاد ہوتی تو سب سے پہلے عبادت کرنے والا میں ہوتا


English (Sahih International)

Say, [O Muhammad], “If the Most Merciful had a son, then I would be the first of [his] worshippers


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 81 { قُلْ اِنْ کَانَ لِلرَّحْمٰنِ وَلَـدٌق فَاَنَا اَوَّلُ الْعٰبِدِیْنَ } ”اے نبی ﷺ ! آپ ان سے کہیے کہ اگر رحمن کا کوئی بیٹا ہوتا تو سب سے پہلا اس کی عبادت کرنے والا میں ہوتا۔“ کہ جب میں خدائے رحمان کو اپنا معبود مانتا ہوں اور اس کی پرستش کرتا ہوں ‘ اگر واقعتا اس کا کوئی بیٹا ہوتا تو اس کی پرستش کرنے میں مجھے بھلا کیا اعتراض ہوسکتا تھا۔ یہ نفی کا بہت تیکھا انداز ہے۔ اس اسلوب کو ”تعلیق بالمحال“ کہا جاتا ہے۔ ظاہر بات ہے کہ نہ تو اللہ تعالیٰ کی کوئی اولاد ہے اور نہ ہی ایسا ہونے کا کوئی امکان ہے ‘ اس لیے اس کی اولاد کو پوجنے کا بھی کوئی امکان نہیں۔ ”تعلیق بالمحال“ کا یہی اسلوب اس حدیث میں بھی پایا جاتا ہے : لَوْ عَاشَ اِبْرَاہِیْمُ لَکَانَ صِدِّیْقًا نَّبِیًّا 1 ”اگر ابراہیم زندہ رہتا تو وہ صدیق نبی ہوتا۔“ ایک دفعہ ٹورنٹو کینیڈا میں ایک قادیانی نے میرے ساتھ بحث کے دوران نبوت کے تسلسل کو ثابت کرنے کے لیے اسی حدیث کا حوالہ دیا تھا۔ اس حدیث میں حضور ﷺ کے بیٹے حضرت ابراہیم رض کا ذکر ہے ‘ جو حضرت ماریہ قبطیہ علیہ السلام کے بطن سے پیدا ہوئے اور بچپن میں ہی فوت ہوگئے۔ ان کے بارے میں حضور ﷺ نے فرمایا تھا کہ اگر وہ زندہ رہتے تو وہ نبی ہوتے۔ اللہ کی مشیت کے مطابق ان کے زندہ رہنے کا کوئی امکان نہیں تھا ‘ اس لیے نہ تو انہوں نے زندہ رہنا تھا اور نہ ہی نبوت کے سلسلے کو آگے چلنا تھا۔ بہر حال مذکورہ قادیانی نے اس حدیث کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس سے تو یہی ثابت ہوتا ہے کہ نبوت ختم نہیں ہوئی۔ میں نے اس کے جواب میں دلیل کے طور پر اسی آیت کا حوالہ دیا تھا : { قُلْ اِنْ کَانَ لِلرَّحْمٰنِ وَلَدٌق فَاَنَا اَوَّلُ الْعٰبِدِیْنَ 4 } کہ یہاں جو حضور ﷺ سے کہلوایا جا رہا ہے کہ اگر رحمان کا کوئی بیٹا ہوتا تو میں سب سے پہلے اس کی عبادت کرنے والا ہوتا۔ تو کیا حضور ﷺ کا اللہ کے علاوہ کسی اور کو پوجنے کا کچھ بھی امکان تھا ؟ اس پر اس نے تسلیم کیا کہ آپ کی یہ دلیل واقعتا مضبوط ہے۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 81 to 83.

’’اگر خدا كي اولاد هو تو ميں سب سے پهلے اس كي عبادت كروں‘‘ —يه جمله بتاتا هے كه پيغمبر جس عقيده كا اعلان كررها هے وه اسي كو عين حقيقت سمجھتاهے۔ وه قومي تقليد اور گروهي تعصب كي زمين پر نهيں كھڑا هوا هے بلكه دليل كي زمين پر كھڑا هوا هے۔ وه اس عقيده كا داعي اس ليے هے كه تمام حقائق اس كي صداقت كي تائيد كرتے هيں۔ اس سے انداز هوتا هے كه داعي كا معامله شعور حقيقت كا معامله هوتاهے، نه كه قومي تقليد كا معامله۔

خدا كا تخليقی كارخانه جو زمين وآسمان كي صورت ميں پھيلا هوا هے وه بتاتا هے كه اس كا خدا صرف ايك خدا هے۔ كائنات اپنے وسيع نظام كے ساتھ اس سے انكار كرتي هے كه اس كا خدا ايك سے زياده هوسكتاهے۔


Connections

  • Previous: 43_80
  • Next: 43_82
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes