Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 43:64 Prev 43:62


Arabic

وَلَمَّا جَآءَ عِيسَىٰ بِٱلۡبَيِّنَٰتِ قَالَ قَدۡ جِئۡتُكُم بِٱلۡحِكۡمَةِ وَلِأُبَيِّنَ لَكُم بَعۡضَ ٱلَّذِي تَخۡتَلِفُونَ فِيهِۖ فَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَأَطِيعُونِ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

اور جب عیسیٰؑ صریح نشانیاں لیے ہوئے آیا تھا تو اس نے کہا تھا کہ “میں تم لوگوں کے پاس حکمت لے کر آیا ہوں، اور اس لیے آیا ہوں کہ تم پر بعض اُن باتوں کی حقیقت کھول دوں جن میں تم اختلاف کر رہے ہو، لہٰذا تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو


English (Sahih International)

And when Jesus brought clear proofs, he said, “I have come to you with wisdom and to make clear to you some of that over which you differ, so fear Allah and obey me


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 63 { وَلَمَّا جَآئَ عِیْسٰی بِالْبَیِّنٰتِ قَالَ قَدْ جِئْتُکُمْ بِالْحِکْمَۃِ } ”اور جب آئے عیسیٰ علیہ السلام ٰ واضح نشانیاں لے کر تو انہوں نے کہا کہ میں تمہارے پاس حکمت لے کر آیا ہوں“ یہاں پر ”حکمت“ کا لفظ بہت اہم ہے۔ اس حوالے سے قبل ازیں بھی بتایا جا چکا ہے کہ انجیل میں ”کتاب“ شریعت نہیں تھی ‘ صرف حکمت تھی ‘ جبکہ تورات ”کتاب“ پر مشتمل تھی۔ اس میں احکامِ شریعت تو تھے ‘ حکمت نہیں تھی۔ دراصل نزول تورات کے زمانے میں نسل ِانسانی کا اجتماعی شعور ابھی اس قابل نہیں ہوا تھا کہ انہیں حکمت کی تلقین کی جاتی۔ اس لیے اس میں صرف احکام commandments دے دیے گئے تھے کہ یہ کرو اور یہ مت کرو۔ یعنی صرف اوامرو نواہی dos and donts کا ذکر کیا گیا تھا۔ حکمت کے لیے بعد میں انجیل آئی۔ البتہ قرآن میں کتاب شریعت بھی ہے اور حکمت بھی ہے۔ یعنی آخری کتاب ہونے کے حوالے سے یہ ما سبق تمام کتابوں کی جامع ہے۔ { وَلِاُبَیِّنَ لَکُمْ بَعْضَ الَّذِیْ تَخْتَلِفُوْنَ فِیْہِ فَاتَّقُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوْنِ } ”اور تاکہ میں واضح کردوں تمہارے لیے بعض وہ چیزیں جن میں تم اختلاف کر رہے ہو ‘ پس تم اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور میری اطاعت کرو۔“


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 63 to 65.

يهاں حكمت سے مراد دين كي روح هے اور صراط مستقيم سے مراد وهي چيز هے جس كو آيت ميں خدا كا خوف، اس كي عبادت اور رسول كي اطاعت كهاگيا هے۔ يهي اصل دين هے۔ يهود نے بعد كو يه كيا كه انھوں نے روح دين كھودي اور دين کے بنيادي احكام ميں موشگافيوں كے ذريعے بے شمار نئے نئے مسائل پيدا كيے۔ يه مسائل آج بھي يهود كي كتابوں ميں موجود هيں۔

انھيں خود ساخته اضافوں كي وجه سے ان كے اندر اختلافي فرقے بنے۔ كسي نے ايك اختلافي مسئله پر زور ديا، كسي نے دوسرے اختلافي مسئله پر۔ اس طرح ان كے يهاں ايك دين كئي دين بن گيا۔ حضرت مسيح اس ليے آئے كه وه يهود كو بتائيں كه دين ميں اصل اهميت روح كي هے، نه كه ظواهر كي۔ اور يه كه آدمي كو نجات جس چيز پر ملے گي وه اس دين كي پيروي پر ملے گي جو خدا نے بھيجا هے، نه كه اس دين پر جو تم لوگوں نے بطور خود وضع كرركھا هے۔

حضرت مسيح نے بتايا كه اصل دين يه هے كه تم الله سے ڈرو۔ صرف ايك الله كے عبادت گزار بنو۔زندگي كے معاملات ميں رسول كے نمونه كي پيروي كرو۔ اس كے سوا تم نے اپني بحثوں اور موشگافيوں سے جو بے شمار مسائل بنا ركھے هيں وه تمھارے اپنے اضافے هيں۔ ان اضافوں كو چھوڑ كر اصل دين پر قائم هوجاؤ — حضرت مسيح كي يه باتيں آج بھي انجيلوں ميں موجود هيں۔


Connections

  • Previous: 43_62
  • Next: 43_64
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes