Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 43:58 Prev 43:56


Arabic

۞وَلَمَّا ضُرِبَ ٱبۡنُ مَرۡيَمَ مَثَلًا إِذَا قَوۡمُكَ مِنۡهُ يَصِدُّونَ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

اور جونہی کہ ابن مریم کی مثال دی گئی، تمہاری قوم کے لوگوں نے اس پر غل مچا دیا


English (Sahih International)

And when the son of Mary was presented as an example, immediately your people laughed aloud


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 57 { وَلَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْیَمَ مَثَلًا اِذَا قَوْمُکَ مِنْہُ یَصِدُّوْنَ } ”اور جب قرآن میں ابن ِمریم کی مثال بیان کی جاتی ہے تو اس پر آپ کی قوم چلانے ّلگتی ہے۔“ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ذکر پر مشرکین ِمکہ ّکی چیخ و پکار ایک تو سورة الانبیاء کی اس آیت کے حوالے سے تھی : { اِنَّکُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ حَصَبُ جَہَنَّمَط اَنْتُمْ لَہَا وٰرِدُوْنَ۔ } ”یقینا تم لوگ اور جنہیں تم اللہ کے سوا پوجتے ہو ‘ سب جہنم کا ایندھن ہیں۔ تمہیں اس میں پہنچ کر رہنا ہے“۔ وہ کہتے تھے کہ اللہ کے سوا جتنے معبود لوگوں نے بنا رکھے ہیں اگر وہ سب جہنم کا ایندھن بنیں گے تو پھر عیسیٰ علیہ السلام ٰ بھی تو ان ہی میں شامل ہوں گے ‘ کیونکہ انہیں بھی تو دنیا میں پوجا گیا ہے۔ حالانکہ اللہ کے مقابلے میں اگر فرشتوں ‘ اللہ کے مقرب بندوں ‘ ِجنات ّاور ُ بتوں وغیرہ کی پرستش کی گئی ہے تو جہنم میں جھونکے جانے کا مصداق ملائکہ ‘ انبیاء اور اولیاء اللہ تو نہیں ٹھہرتے۔ ظاہر ہے جو باطل ہوگا وہی جہنم میں جھونکا جائے گا۔ البتہ مشرکین مکہ اسی دلیل کی بنیاد پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ذکر پر شدت کے ساتھ چیخنا چلانا شروع کردیتے تھے۔ دوسری طرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ذکر پر مشرکین مکہ کے مخصوص رد عمل کا باعث ان کا حضور ﷺ کے بارے میں یہ موقف بھی تھا کہ آپ ﷺ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ٰ کی تعریف و توصیف کے پردے میں نصرانیت کی تبلیغ کر رہے ہیں۔ اس حوالے سے ان کا دعویٰ یہ تھا کہ جس طرح ہم لات و ُ عزیٰ ّوغیرہ کی پوجا کرتے ہیں اسی طرح عیسائی حضرت عیسیٰ علیہ السلام ٰ کو پوجتے ہیں۔ تو ایسا کیوں ہے کہ عیسائیوں کے معبود کی تو آپ ﷺ تعریف کرتے ہیں اور ہمارے معبودوں کی مذمت ؟ اس وجہ سے وہ لوگ حضور ﷺ پر عیسائیت کو قبول کرلینے اور عیسائیت کی تبلیغ کرنے کے الزامات لگاتے تھے۔ بلکہ جب مکہ میں مسلمانوں نے نماز پڑھنا شروع کی تو مشرکین ِمکہ ّنے حضور ﷺ اور مسلمانوں پر یہ الزام بھی لگادیا کہ یہ لوگ ”صابی“ ہوگئے ہیں۔ صابی لوگ عراق میں آباد تھے اور وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام ہی کے پیروکاروں کی نسل میں سے تھے۔ اگرچہ انہوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اصل دین کو تو بگاڑ دیا تھا لیکن ”نماز“ کسی نہ کسی شکل میں ان کے ہاں موجود تھی۔ چناچہ نماز کی اس مشابہت کے باعث مشرکین مکہ نے حضور ﷺ پر صابی ہونے کا الزام بھی لگایا تھا۔ بہر حال مذکورہ دو وجوہات کی بنا پر مشرکین مکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ٰ کے ذکر پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے تھے۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 57 to 62.

موجوده دنيا ميں يه ممكن هے كه آدمي هر بات كا الٹا مفهوم نكال سكے، مثلاً رسول الله صلي الله عليه وسلم نے ايك بار فرمايا لَيْسَ أَحَدٌ يُعْبَدُ مِنْ دُونِ اللَّهِ فِيهِ خَيْرٌ (الله كے سواجس كي پرستش كي جائے اس ميں كوئي خير نهيں) اس کو سن كر مخالفين نے كها كه عيسائي لوگ مسيح كو پوجتے هيں پھر کیا مسیح میں کوئی خیر نہیں(مسند احمد، حدیث نمبر 2918)۔ ظاهر هے كه يه محض ايك شوشه تھا۔ كيوں كه رسول الله صلي الله عليه وسلم نے جو بات فرمائي تھي وه عابد كي نسبت سے تھي نه كه معبود كي نسبت سے، اور اگر اس كو معبود كي نسبت سے مانا جائے تب بھي واضح طورپر اس سے مراد وه غير معبود تھے جو اپنے معبود بنائے جانے پر راضي هوں۔ آدمي اگر بات كو اس كے صحيح رخ سے نه لے تو هر بات كو وه الٹے معني پهنا سكتا هے، خواه وه كتني هي درست بات كيوں نه هو۔

حضرت عيسي عليه السلام كي شخصيت ايك اعتبار سے فرشتوں كے مشابه تھي۔ اس پر آنجناب كو بهت سے لوگوں نے معبود بناليا۔مگر حضرت مسيح كي ملكوتي تخليق خدا كي قدرت كي مثال تھي نه كه خود حضرت مسيح كي ذاتي قدرت كي مثال۔ حقيقت يه هے كه الله كے لیے اس قسم كي تخليق كچھ بھي مشكل نهیں۔ وه چاهے تو زمين كي تمام آبادي كو فرشتوں كي آبادي بنا دے۔ پھر بھي يه فرشتے فرشتے هي رهيں گے، وه معبود نهيں هوجائیںگے۔

حضرت مسيح كو يه معجزه دياگيا كه وه مُرده كو زنده كرديتے تھے۔ مٹي كے پتلے ميں پھونك مار كر اسے جاندار بنا ديتے تھے۔ يه دراصل ايك خدائي نشاني تھي جو زندگي بعد موت كے امكان كو بتانے كے لیے ظاهر كي گئي تھي۔ مگر لوگوں نے اس سے اصل سبق تو نهيں ليا۔ البته حضرت مسيح كو فوق البشر سمجھ كر انھيں پوجنے لگے۔ اسي طرح خدائي نشانياں هميشه مختلف شكلوں ميں ظاهر هوتي هيں۔ ان كو اگر نشاني سمجھا جائے تو ان سے زبردست نصيحت ملتي هے۔ اور اگر انھيں نشاني كے بجائے كچھ اور سمجھ ليا جائے تو وه آدمي كو صرف گمراهي ميں ڈالنے كا سبب بن جائيں گي۔

شيطان كي هميشه يه كوشش رهتي هے كه وه خدائي نشانيوں سے آدمی كو سبق نه لينے دے۔ يهي وه مقام هے جهاں يه فيصله هونے والا هے كه شيطان كو آدمي كے اوپر كاميابي حاصل هوئي يا آدمي كو شيطان كے اوپر۔


Connections

  • Previous: 43_56
  • Next: 43_58
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes