Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
فَٱسۡتَمۡسِكۡ بِٱلَّذِيٓ أُوحِيَ إِلَيۡكَۖ إِنَّكَ عَلَىٰ صِرَٰطٖ مُّسۡتَقِيمٖ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
تم بہر حال اُس کتاب کو مضبوطی سے تھامے رہو جو وحی کے ذریعہ سے تمہارے پاس بھیجی گئی ہے، یقیناً تم سیدھے راستے پر ہو
English (Sahih International)
So adhere to that which is revealed to you. Indeed, you are on a straight path
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 43 { فَاسْتَمْسِکْ بِالَّذِیْٓ اُوْحِیَ اِلَیْکَج اِنَّکَ عَلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ } ”تو اے نبی ﷺ ! آپ مضبوطی سے تھام لیجیے اس کو جو آپ کی طرف وحی کیا گیا ہے ‘ یقینا آپ سیدھے راستے پر ہیں۔“ اسی فعل سے اسم الفاعل مُسْتَمْسِکُوْنَ اس سے قبل آیت 21 میں مشرکین کے حوالے سے آچکا ہے کہ کیا ان کے پاس اللہ کی دی ہوئی کوئی کتاب ہے جس کو وہ مضبوطی سے تھامے ہوئے ہیں ؟ پھر یہی لفظ نبی اکرم ﷺ کے خطبہحجۃ الوداع میں بھی آیا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا : تَرَکْتُ فِیْکُمْ اَمَرَیْنِ لَنْ تَضِلُّوْا مَا تَمْسَکْتُمْ بِھِمَا : کِتَابَ اللّٰہِ وَسُنَّۃَ رَسُوْلِہٖ 1 ”میں آپ لوگوں کے درمیان دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں ‘ اگر تم ان کو مضبوطی سے تھامے رہو گے تو کبھی گمراہ نہیں ہو گے ‘ اور وہ ہیں : اللہ کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت۔“
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
The commentary on this ayah is given with ayah 43:40.