Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 43:21 Prev 43:19


Arabic

وَقَالُواْ لَوۡ شَآءَ ٱلرَّحۡمَٰنُ مَا عَبَدۡنَٰهُمۗ مَّا لَهُم بِذَٰلِكَ مِنۡ عِلۡمٍۖ إِنۡ هُمۡ إِلَّا يَخۡرُصُونَ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

یہ کہتے ہیں “اگر خدائے رحمٰن چاہتا (کہ ہم اُن کی عبادت نہ کریں) تو ہم کبھی اُن کو نہ پوجتے” یہ اس معاملے کی حقیقت کو قطعی نہیں جانتے، محض تیر تکے لڑاتے ہیں


English (Sahih International)

And they said, “If the Most Merciful had willed, we would not have worshipped them.” They have of that no knowledge. They are not but falsifying


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 20 { وَقَالُوْا لَوْ شَآئَ الرَّحْمٰنُ مَا عَبَدْنٰہُمْ } ”اور وہ کہتے ہیں کہ اگر رحمان چاہتا تو ہم ان کی بندگی نہ کرتے۔“ { مَا لَہُمْ بِذٰلِکَ مِنْ عِلْمٍق اِنْ ہُمْ اِلَّا یَخْرُصُوْنَ } ”ان کے پاس اس کے لیے کوئی علمی سند نہیں ہے ‘ وہ تو محض اٹکل کے تیر چلا رہے ہیں۔“


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 20 to 25.

موجوده دنيا ميں انسان جو بھي كام كرنا چاهتا هے وه اس كے مواقع پاليتا هے۔ اس سے اكثر لوگ اس غلط فهمي ميں پڑ جاتے هيں كه وه جو كچھ كررهے هيں صحيح كررهے هيں۔ اگر وه غلطي پر هوتے تو وه اپنے طريقه كو چلانے ميں كامياب نه هوتے۔ اس قسم كي باتيں اكثر وه لوگ كرتے هيں جن كو خوش حال طبقه كهاجاتا هے ۔

مگر يه زبردست غلط فهمي هے۔ موجوده دنيا ميں هر طريقه كا چل پڑنا اس ليے هے كه يهاں امتحان كي آزادي هے۔ آخرت کی دنيا ميں امتحان كي مدت ختم هوجائے گي۔ اس ليے وهاں كسي كے ليے يه موقع بھي باقي نه رهے گا۔

هر دور ميں پيغمبروں كے دين كا مقابله سب سے زياده آبائي دين سے پيش آيا هے۔ ’’آباء‘‘ قوموں كي نظر ميں اكابر كا درجه حاصل كرچكے هوتے هيں۔ اس كے مقابله ميں وقت كا پيغمبر انھيں اصاغر ميں سے نظر آتا هے اس بنا پر ان كے لیے ناممكن هوجاتا هے كه وه بڑوں كے دين كوچھوڑ كر چھوٹے كے دين كو اختيار كرليں۔ مگر انھيں ’’چھوٹوں‘‘ كي تكذيب پر ان قوموں پر وه عذاب آيا جس كے متعلق ان كا گمان تھا كه وه صرف ’’بڑوں‘‘ كي تكذيب پر آسكتا هے۔


Connections

  • Previous: 43_19
  • Next: 43_21
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes