Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 42:8 Prev 42:6


Arabic

وَكَذَٰلِكَ أَوۡحَيۡنَآ إِلَيۡكَ قُرۡءَانًا عَرَبِيّٗا لِّتُنذِرَ أُمَّ ٱلۡقُرَىٰ وَمَنۡ حَوۡلَهَا وَتُنذِرَ يَوۡمَ ٱلۡجَمۡعِ لَا رَيۡبَ فِيهِۚ فَرِيقٞ فِي ٱلۡجَنَّةِ وَفَرِيقٞ فِي ٱلسَّعِيرِ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

ہاں، اِسی طرح اے نبیؐ، یہ قرآن عربی ہم نے تمہاری طرف وحی کیا ہے تاکہ تم بستیوں کے مرکز (شہر مکہ) اور اُس کے گرد و پیش رہنے والوں کو خبردار کر دو، اور جمع ہونے کے دن سے ڈرا دو جن کے آنے میں کوئی شک نہیں ایک گروہ کو جنت میں جانا ہے اور دوسرے گروہ کو دوزخ میں


English (Sahih International)

And thus We have revealed to you an Arabic Qur’an that you may warn the Mother of Cities [Makkah] and those around it and warn of the Day of Assembly, about which there is no doubt. A party will be in Paradise and a party in the Blaze


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 7 { وَکَذٰلِکَ اَوْحَیْنَآ اِلَیْکَ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا } ”اور اسی طرح ہم نے وحی کیا ہے آپ کی طرف یہ قرآن عربی“ آیت 3 کی طرح یہاں پر بھی وحی کے ذکر کے ساتھ لفظ کَذٰلِکَ آیا ہے۔ اس کی وضاحت قبل ازیں کی جاچکی ہے۔ { لِّتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰی وَمَنْ حَوْلَہَا } ”تاکہ آپ خبردار کردیں بستیوں کے مرکز اور اس کے ارد گرد رہنے والوں کو“ بالکل یہی الفاظ سورة الانعام کی آیت 92 میں بھی آئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں کسی قوم پر اتمامِ حجت کرنے کا یہ وہی طریقہ اور اصول ہے جس کا ذکر سورة القصص کی آیت 59 میں اس طرح ہوا ہے : { وَمَا کَانَ رَبُّکَ مُہْلِکَ الْقُرٰی حَتّٰی یَبْعَثَ فِیْٓ اُمِّہَا رَسُوْلًا } ”اور نہیں ہے آپ کا رب بستیوں کو ہلاک کرنے والا ‘ جب تک کہ وہ ان کی مرکزی بستی میں کوئی رسول نہیں بھیجتا“۔ جزیرہ نمائے عرب کی ”اُمّ القری“ یعنی مرکزی بستی چونکہ مکہ ہے اس لیے مذکورہ اصول کے تحت اس مرکزی بستی میں نبی آخر الزماں ﷺ کو مبعوث فرمایا گیا۔ بلکہ ایک اعتبار سے تو مکہ پوری دنیا کا ”اُمّ القریٰ“ ہے۔ اس لیے کہ حَوْلَ کے معنی اردگرد کے ہیں اور ”اردگرد“ کی حدود کسی خاص نقطے تک محدود نہیں کی جا سکتیں۔ چناچہ ایک مرکزی مقام کے ارد گرد کے دائرے کو اگر بڑھاتے جائیں تو یہ دائرہ پوری دنیا تک پھیل جائے گا۔ اس نکتے کی وضاحت اس سے پہلے سورة الانعام کی آیت 92 کے تحت بھی گزر چکی ہے۔ { وَتُنْذِرَ یَوْمَ الْجَمْعِ لَا رَیْبَ فِیْہِ } ”اور آپ ﷺ خبردار کردیں اس جمع ہونے والے دن سے جس میں کوئی شک نہیں۔“ { فَرِیْقٌ فِی الْْجَنَّۃِ وَفَرِیْقٌ فِی السَّعِیْرِ } ”اُس دن ایک گروہ جنت میں جائے گا اور ایک گروہ جہنم میں۔“


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

پيغمبر كي دعوت كا اصل نشانه يه هوتا هے كه لوگوں كو اس حقيقت سے آگاه كرديا جائے كه آخر كار وه خدا كے سامنے حاضر كيے جانے والے هيں۔ اس كے بعد لوگوں كے عمل كے مطابق كسي كے لیے ابدي جنت كا فيصله هوگا اور كسي كے ليے ابدي جهنم كا۔

رسول الله صلي الله عليه وسلم اسي حقيقت سے آگاه كرنے كے ليے آئے۔ آپ كي بعثت كے دودور هيں ايك براهِ راست دوسرا بالواسطه ۔ آپ كي براهِ راست بعثت مكه اور اطرافِ مكه كے ليے تھي۔ اس كي تكميل آپ نے خود اپني زندگي ميں فرمادي۔آپ كي بالواسطه بعثت بواسطهٔ امت تمام عالم كے لیے هے۔ آپ كي يه دوسري بعثت جاري هے اور قيامت تك جاري رهے گي۔

رسول الله صلي الله عليه وسلم نے اهلِ عرب كے سامنے عربي زبان ميں اپنا پيغام پهنچايا۔ آپ كے بعد آپ كي امت كو بھي آپ كي نيابت ميں اسي اصول پر اپنا دعوتي فريضه انجام دينا هے۔ اس كو هر قوم كے سامنے اس كي اپني زبان ميں حق كا پيغام پهنچانا هے۔ جب تك كسي قوم كو اس كي اپني زبان ميں پيغام نه پهنچايا جائے اس پر پيغام رساني كا حق ادا نه هوگا۔


Connections

  • Previous: 42_6
  • Next: 42_8
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes