Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 42:52 Prev 42:50


Arabic

۞وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُكَلِّمَهُ ٱللَّهُ إِلَّا وَحۡيًا أَوۡ مِن وَرَآيِٕ حِجَابٍ أَوۡ يُرۡسِلَ رَسُولٗا فَيُوحِيَ بِإِذۡنِهِۦ مَا يَشَآءُۚ إِنَّهُۥ عَلِيٌّ حَكِيمٞ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

کسی بشر کا یہ مقام نہیں ہے کہ اللہ اُس سے روبرو بات کرے اُس کی بات یا تو وحی (اشارے) کے طور پر ہوتی ہے، یا پردے کے پیچھے سے، یا پھر وہ کوئی پیغام بر (فرشتہ) بھیجتا ہے اور وہ اُس کے حکم سے جو کچھ وہ چاہتا ہے، وحی کرتا ہے، وہ برتر اور حکیم ہے


English (Sahih International)

And it is not for any human being that Allah should speak to him except by revelation or from behind a partition or that He sends a messenger to reveal, by His permission, what He wills. Indeed, He is Most High and Wise


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 51 { وَمَا کَانَ لِبَشَرٍ اَنْ یُّکَلِّمَہُ اللّٰہُ } ”اور کسی بشر کا یہ مقام نہیں کہ اللہ اس سے کلام کرے“ اللہ تو ہرچیز پر قادر ہے ‘ وہ جو چاہے کرے ‘ مگر کسی انسان کے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ اللہ اس سے ہم کلام ہو۔ { اِلَّا وَحْیًا } ”سوائے وحی کے“ یہ وحی کی پہلی قسم ہے جسے ”القاء“ یا ”الہام“ کہا جاتا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ وحی کے ذریعے براہ راست بندے تک اپنا پیغام پہنچادیتا ہے اور متعلقہ بات اس کے دل میں ڈال دیتا ہے۔ شہد کی مکھی کی طرف وحی کرنا النحل : 69 ‘ ہر آسمان میں اس سے متعلقہ پیغام پہنچانا حٰمٓ السجدۃ : 12 اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ کے دل میں القاء کرنا القصص : 7 اس وحی کی مثالیں ہیں جو قرآن میں بیان ہوئی ہیں۔ { اَوْ مِنْ وَّرَآیِٔ حِجَابٍ } ”یا پھر وہ بات کرتا ہے پردے کی اوٹ سے“ یہ وحی کی دوسری قسم ہے ‘ جیسے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کلام فرمایا : { وَکَلَّمَ اللّٰہُ مُوْسٰی تَکْلِیْمًا } النساء۔ { اَوْ یُرْسِلَ رَسُوْلًا فَیُوْحِیَ بِاِذْنِہٖ مَا یَشَآئُ } ”یا وہ بھیجتا ہے کسی پیغام بر َ فرشتے کو ‘ پھر وہ وحی کرتا ہے اللہ کے حکم سے جو وہ چاہتا ہے۔“ یہ وحی کی تیسری قسم ہے ‘ جیسے حضرت جبرائیل علیہ السلام کے ذریعے سے پورا قرآن حضور ﷺ کے قلب مبارک پر نازل ہوا۔ { اِنَّہٗ عَلِیٌّ حَکِیْمٌ } ”وہ بہت بلند وبالا ہے ‘ کمال حکمت والا ہے۔“ اس کی شان اس سے بہت بلند ہے کہ وہ کسی انسان سے براہ راست بغیر حجاب کے کلام کرے ‘ اور وہ کمال حکمت والا ہے ‘ اس نے اپنی حکمت کے مطابق انسانوں تک پیغام رسانی communication کا جو طریقہ چاہا اختیار فرمایا۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 51 to 53.

موجوده دنيا ميں كوئي انسان براهِ راست خدا سے هم كلام نهيں هوسكتا۔ انسان كا عجز اس قسم كے كلام ميں مانع هے۔ چنانچه پيغمبروں پر خدا كا جو كلام اترا وه بالواسطه انداز ميں اترا۔ بالواسطه خطاب كے كئي طريقے هيں ان كي مثاليں مختلف پيغمبروں كي زندگي ميں پائي جاتي هيں۔

ايك عالم جب كوئي كتاب لكھتاهے يا ايك مفكر جب كوئي كلام پيش كرتاهے تو اس كے ماضي ميں ايسے اسباب موجود هوتے هيں جو اس كے علمي اور فكري كارنامه كي توجيهه كرسكيں۔ مگر پيغمبر كا معامله اس سے بالكل مختلف هے۔ پيغمبر كي نبوت كے بعد كي زندگي اس كي نبوت سے پهلے كي زندگی سے سراسر مختلف هوتي هے۔ غير پيغمبر كا حال كا كلام اس كي ماضي كي زندگي كا تسلسل نظر آتا هے۔ مگر پيغمبر كي زبان سے بعد از نبوت جو كلام جاري هوتا هے وه اس كے قبل از نبوت كلام سے اتنا زياده ممتاز هوتا هے كه پيغمبر كے ماضي سے اس كي توجيهه نهيں كي جاسكتي۔ يه ايك واضح قرينه هے جو يه ثابت كرتاهے كه پيغمبر كا كلام خدائي كلام هے، نه كه عام انسانی كلام۔

پيغمبر اسلام صلي الله عليه وسلم كو يه خصوصيت حاصل ہے كه آپ كا دياهوا قرآن اور آپ كي اپني زبان سے نكلا هوا كلام، دونوںآج بھي اپني اصل حالت ميں موجود هيں۔ كوئي شخص جو عربي زبان جانتا هو اور وه ان دونوں كو تقابلي طورپر ديكھے تو وه دونوں كے درميان كھلا هوا فرق پائے گا۔ حديث كي زبان واضح طورپر محمد بن عبد الله كي زبان هے اور قرآن كي زبان واضح طورپر خدا كي زبان۔


Connections

  • Previous: 42_50
  • Next: 42_52
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes