Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 42:45 Prev 42:43


Arabic

وَمَن يُضۡلِلِ ٱللَّهُ فَمَا لَهُۥ مِن وَلِيّٖ مِّنۢ بَعۡدِهِۦۗ وَتَرَى ٱلظَّـٰلِمِينَ لَمَّا رَأَوُاْ ٱلۡعَذَابَ يَقُولُونَ هَلۡ إِلَىٰ مَرَدّٖ مِّن سَبِيلٖ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

جس کو اللہ ہی گمراہی میں پھینک دے اُس کا کوئی سنبھالنے والا اللہ کے بعد نہیں ہے تم دیکھو گے کہ یہ ظالم جب عذاب دیکھیں گے تو کہیں گے اب پلٹنے کی بھی کوئی سبیل ہے؟


English (Sahih International)

And he whom Allah sends astray - for him there is no protector beyond Him. And you will see the wrongdoers, when they see the punishment, saying, “Is there for return [to the former world] any way


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 44 { وَمَنْ یُّضْلِلِ اللّٰہُ فَمَالَــہٗ مِنْ وَّلِیٍّ مِّنْم بَعْدِہٖ } ”اور جس کو اللہ نے ہی گمراہ کردیا ہو تو اس کے بعد اس کے لیے کوئی مدد گار نہیں۔“ جس کی گمراہی پر اللہ تعالیٰ نے ہی مہر ثبت کردی ہو تو ایسے شخص کا ایسا کوئی حمایتی اور دوست ممکن نہیں جو اسے راہ راست پر لے آئے۔ { وَتَرَی الظّٰلِمِیْنَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ یَقُوْلُوْنَ ہَلْ اِلٰی مَرَدٍّّّ مِّنْ سَبِیْلٍ } ”اور تم دیکھو گے ظالموں کو کہ جب وہ عذاب کو دیکھیں گے تو کہیں گے : کیا واپس لوٹ جانے کا بھی کوئی راستہ ہے ؟“


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 44 to 46.

اِس دنيا ميں هدايت كو دليل كے ذريعه كھولا جاتا هے۔ يهي اس دنيا كے لیے خدا كا قانون هے۔ اس كا مطلب يه هے كه اس دنيا ميں صرف وه شخص هدايت پاتا هے جو اس صلاحيت كا ثبوت دے كه وه دليل كي زبان ميں بات كو سمجھ سكتا هے۔ دليل كے ذريعه كسي بات كا ثابت هوجانا اس كے لیے كافي هے كه وه اس كے آگے جھك جائے جو لوگ دليل سے نه مانيں ان كو اس دنيا ميں كبھي هدايت نهيں مل سكتي۔

جو شخص موجوده دنيا ميں دليل كے آگے نهيں جھكتا وه اپنے آپ كو اس خطره ميں ڈالتا هے كه قيامت ميں اس كو خدائي طاقت كے آگے جھكا يا جائے۔ مگر قيامت كا جھكناكسي كے كچھ كام نه آئے گا۔ كيوں كه وه آدمي كو ذليل كرنے كے لیے هوگا، نه كه اس كو انعام كا مستحق بنانے كے ليے۔


Connections

  • Previous: 42_43
  • Next: 42_45
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes