Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
۞وَلَوۡ بَسَطَ ٱللَّهُ ٱلرِّزۡقَ لِعِبَادِهِۦ لَبَغَوۡاْ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَلَٰكِن يُنَزِّلُ بِقَدَرٖ مَّا يَشَآءُۚ إِنَّهُۥ بِعِبَادِهِۦ خَبِيرُۢ بَصِيرٞ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
اگر اللہ اپنے سب بندوں کو کھلا رزق دے دیتا تو وہ زمین میں سرکشی کا طوفان برپا کر دیتے، مگر وہ ایک حساب سے جتنا چاہتا ہے نازل کرتا ہے، یقیناً وہ اپنے بندوں سے با خبر ہے اور اُن پر نگاہ رکھتا ہے
English (Sahih International)
And if Allah had extended [excessively] provision for His servants, they would have committed tyranny throughout the earth. But He sends [it] down in an amount which He wills. Indeed He is, of His servants, Acquainted and Seeing
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 27 { وَلَوْ بَسَطَ اللّٰہُ الرِّزْقَ لِعِبَادِہٖ لَبَغَوْا فِی الْاَرْضِ } ”اور اگر اللہ کشادہ کردیتا رزق اپنے سب بندوں کے لیے تو وہ زمین میں سرکشی کرتے“ یقینا اللہ کے خزانے بہت وسیع ہیں ‘ لیکن اگر وہ ان خزانوں کو سب کے لیے کھول دیتا اور ہر کسی کو اس کی خواہش اور مرضی کے مطابق با فراغت اور با سہولت رزق ملنا شروع ہوجاتا تو انسانوں کی اکثریت اللہ سے سرکشی پر اتر آتی۔ کیونکہ اب جب کہ دو وقت کی روٹی کمانے کے لیے دن رات مشقت میں جتے رہنے کے باوجود بھی ان میں سے اکثر اللہ کے نافرمان ہیں تو فکر معاش سے فراغت تو ان کو بالکل ہی باغی بنا دیتی۔ { وَلٰکِنْ یُّنَزِّلُ بِقَدَرٍ مَّا یَشَآئُ اِنَّہٗ بِعِبَادِہٖ خَبِیْرٌ بَصِیْرٌ} ”لیکن اللہ نازل کرتا ہے ایک اندازے کے مطابق جو چاہتا ہے۔ یقینا وہ اپنے بندوں کے حالات سے باخبر ‘ ان کو دیکھنے والا ہے۔“
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 27 to 29.
زمين پر انساني زندگي كا انحصار پاني پر هے۔ مگر پاني تمام تر خداكے اختيار ميں هے۔ خدا اگر پاني فراهم نه كرے تو انسان خود سے پاني حاصل نهيں كرسكتا۔ اسي طرح رزق كي تقسيم بھي خدا كي طرف سے هوتي هے۔ اس تقسيم ميں خدا آدمي كے ظرف كو ديكھتا هے۔ اور هر ايك كو اس كے ظرف كے بقدر عطا كرتا هے۔ اگر لوگوں كو ان كے ظرف سے زياده ديا جانے لگے تو لوگ سركش بن جائيں اور زمين ميں هر طرف ظلم وفساد پھيل جائے۔
هم ديكھتے هيں كه ايك كسان جب دانے كو بكھيرتا هے تو وه اس كو سميٹنے پر بھي قادر هوتا هے۔ يه انساني مشاهده اس بات كا قرينه هے كه خدا بھي اسي طرح اپني بكھري هوئي مخلوقات كو سميٹ كر اپني عدالت ميں لاسكتا هے۔ جهاں يكجائي طورپر لوگوں كے مستقبل كا فيصله كيا جائے۔ جس خالق كے لیے پيدا كركے بكھيرنا ممكن تھا اس كے لیے موت كے بعد دوباره سميٹنا كيوں ناممكن هوجائے گا۔