Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
أَمۡ يَقُولُونَ ٱفۡتَرَىٰ عَلَى ٱللَّهِ كَذِبٗاۖ فَإِن يَشَإِ ٱللَّهُ يَخۡتِمۡ عَلَىٰ قَلۡبِكَۗ وَيَمۡحُ ٱللَّهُ ٱلۡبَٰطِلَ وَيُحِقُّ ٱلۡحَقَّ بِكَلِمَٰتِهِۦٓۚ إِنَّهُۥ عَلِيمُۢ بِذَاتِ ٱلصُّدُورِ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ اِس شخص نے اللہ پر جھوٹا بہتان گھڑ لیا ہے؟ اگر اللہ چاہے تو تمہارے دل پر مہر کر دے وہ باطل کو مٹا دیتا ہے اور حق کو اپنے فرمانوں سے حق کر دکھاتا ہے وہ سینوں کے چھپے ہوئے راز جانتا ہے
English (Sahih International)
Or do they say, “He has invented about Allah a lie”? But if Allah willed, He could seal over your heart. And Allah eliminates falsehood and establishes the truth by His words. Indeed, He is Knowing of that within the breasts
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 24 { اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا } ”کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اللہ کے اوپر جھوٹ گھڑلیا ہے ؟“ یعنی یہ کہ محمد ﷺ نے قرآن خود بنا کر اللہ کی طرف منسوب کردیا ہے۔ { فَاِنْ یَّشَاِ اللّٰہُ یَخْتِمْ عَلٰی قَلْبِکَ } ”تو اگر اللہ چاہے تو آپ کے قلب پر مہر لگا دے۔“ یہ خطاب بظاہر محمد رسول اللہ ﷺ سے ہے لیکن اصل میں مخالفین کو سنانا مقصود ہے کہ یہ قرآن وحی کی صورت میں محمد ﷺ کے قلب پر نازل ہو رہا ہے۔ یہ خالص ایک وہبی صلاحیت ہے اور آپ ﷺ کو اس بارے میں ہرگز کوئی اختیار نہیں ہے۔ کجا یہ کہ آپ ﷺ خود اس کو گھڑیں یا تصنیف کریں۔ چناچہ اگر اللہ چاہے تو یہ صلاحیت آپ ﷺ سے واپس لے کر آپ ﷺ کے قلب پر مہر کر دے اور آپ ﷺ پر وحی آنا بند ہوجائے۔ سورة بنی اسرائیل میں یہی مضمون اس طرح آیا ہے : { وَلَئِنْ شِئْنَا لَنَذْہَبَنَّ بِالَّذِیْٓ اَوْحَیْنَآ اِلَیْکَ ثُمَّ لاَ تَجِدُ لَکَ بِہٖ عَلَیْنَا وَکِیْلاً۔ } ”اور اے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اگر ہم چاہیں تو لے جائیں اس قرآن کو جو ہم نے وحی کیا ہے آپ کی طرف ‘ پھر آپ نہ پائیں گے اپنے لیے اس پر ہمارے مقابلے میں کوئی مددگار۔“ { وَیَمْحُ اللّٰہُ الْبَاطِلَ وَیُحِقُّ الْحَقَّ بِکَلِمٰتِہٖ } ”اور اللہ باطل کو مٹا دیتا ہے اور حق کا حق ہونا ثابت کردیتا ہے اپنے کلمات سے۔“ یہ اللہ کی سنت اور اس کا اٹل قانون ہے ‘ لیکن اس کے ظہور میں اللہ کی مشیت کے مطابق وقت لگتا ہے۔ جیسے حضور ﷺ کی دعوت کے حوالے سے اللہ کی اس سنت کا ظہور پہلی دفعہ غزوئہ بدر کے میدان میں اس وقت عمل میں آیا جبکہ دعوت کو شروع ہوئے چودہ برس گزر چکے تھے۔ چناچہ غزوئہ بدر کے ذریعے حق و باطل کے مابین فرق کو واضح اور مبرہن کر کے نہ صرف یوم بدرکو یوم الفرقان الانفال : 41 قرار دیا گیا بلکہ اس غزوہ کا بنیادی مقصد بھی احقاقِ حق اور ابطالِ باطل ہی بتایا گیا : { لِیُحِقَّ الْحَقَّ وَیُبْطِلَ الْبَاطِلَ وَلَوْ کَرِہَ الْمُجْرِمُوْنَ } الانفال ”تاکہ سچا ثابت کر دے حق کو اور جھوٹاثابت کر دے باطل کو ‘ خواہ یہ مجرموں کو کتنا ہی ناگوار ہو۔“ { اِنَّہٗ عَلِیْمٌم بِذَاتِ الصُّدُوْرِ } ”یقینا وہ واقف ہے اس سے بھی جو کچھ سینوں کے اندر پوشیدہ ہے۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 24 to 26.
اس دنيا كے ليے خدا كا قانون يه هے كه يهاں حق حق كے روپ ميں سامنے آتا هے اور باطل باطل كے روپ ميں نماياں هوتا هے۔ اگر ايك جھوٹي روح هے تو اس سے كبھي سچا كلام ظاهر نهيں هوسكتا۔ يهي وجه هے كه يهاں كسي غير پيغمبر كے ليے ممكن نهيں كه وه پيغمبر كي زبان ميں كلام كرسكے۔ ايك شخص پيغمبر نه هواور جھوٹ بول كر اپنے كو پيغمبر بتائے تو اس كے كلام ميں لازماً جھوٹے پيغمبر كا انداز پيدا هوجائے گا۔ كوئي شخص مصنوعي طور پر كبھي سچے پيغمبر كے انداز ميں نهيں بول سكتا۔
’’اگر الله چاهے تو وه تمھارے دل پر مهر لگا دے‘‘— اس كا مطلب بدلے هوئے الفاظ ميں يه هے كه اگر تم الله پر جھوٹ باندھتے تو اس وقت مشيت خداوندي كے تحت تمھارے دل پر مهر لگ جاتي۔ايسي حالت ميں خود قانون قدرت كے تحت يه هوتا كه تمھاري زبان اس پاكيزه رباني كلام كے اظهار سے عاجز هوجاتي جس كا كھلا هوا نمونه تمھارے كلام ميں نظر آتا هے۔ حقيقت يه هے كه پيغمبر كا اعلي كلام خود اس كے پيغمبر خدا هونے كا ثبوت هے۔ اگر وه واقعي خدا كا پيغمبر نه هوتا تو اس كي زبان سے كبھي ايسا اعلي كلام ظاهر نهيں هوسكتا تھا۔
جو لوگ حق كي مخالفت كرتے هيں وه اپنے دل كي آواز كے تحت ايسا نهيں كرتے، بلكه محض ضد اور عناد كے تحت اس كے مخالف بن كر كھڑے هوجاتے هيں۔ ايسے لوگ گويا خوداپنے ضمير كي عدالت كے سامنے مجرم بن رهے هيں، ان كے اوپر خدا كي حجت تمام هوچكي هے، اِلاّ يه كه آدمي توبه كرے اور الله سے معافي كا خواستگار هو۔