Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
أَمۡ لَهُمۡ شُرَكَـٰٓؤُاْ شَرَعُواْ لَهُم مِّنَ ٱلدِّينِ مَا لَمۡ يَأۡذَنۢ بِهِ ٱللَّهُۚ وَلَوۡلَا كَلِمَةُ ٱلۡفَصۡلِ لَقُضِيَ بَيۡنَهُمۡۗ وَإِنَّ ٱلظَّـٰلِمِينَ لَهُمۡ عَذَابٌ أَلِيمٞ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
کیا یہ لوگ کچھ ایسے شریک خدا رکھتے ہیں جنہوں نے اِن کے لیے دین کی نوعیت رکھنے والا ایک ایسا طریقہ مقرر کر دیا ہے جس کا اللہ نے اِذن نہیں دیا؟ اگر فیصلے کی بات پہلے طے نہ ہو گئی ہوتی تو ان کا قضیہ چکا دیا گیا ہوتا یقیناً اِن ظالموں کے لیے درد ناک عذاب ہے
English (Sahih International)
Or have they other deities who have ordained for them a religion to which Allah has not consented? But if not for the decisive word, it would have been concluded between them. And indeed, the wrongdoers will have a painful punishment
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 21 { اَمْ لَہُمْ شُرَکٰٓؤُا شَرَعُوْا لَہُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا لَمْ یَاْذَنْم بِہِ اللّٰہُ } ”کیا ان کے کچھ ایسے شریک ہیں جنہوں نے ان کے لیے دین کا کوئی ایسا راستہ طے کردیا ہو جس کا اذن اللہ نے نہیں دیا ؟“ شرک کے حوالے سے یہ نکتہ قرآن میں بار بار دہرایا گیا ہے کہ مشرک لوگ جنہیں اللہ کا شریک ٹھہراتے ہیں اللہ نے ان کے لیے نہ تو کوئی سند اتاری ہے اور نہ ہی کسی الہامی کتاب میں ان کے لیے کوئی دلیل موجود ہے۔ اس سورت کا عمود چونکہ نظام شریعت میزان سے متعلق ہے اس لیے یہاں شرک کا ابطال اس مضمون کی دلیل کے ساتھ بالکل منفرد انداز میں آیا ہے کہ اللہ نے تو اپنے بندوں کے لیے ایک مکمل ضابطہ حیات نازل کیا ہے۔ تو ذرا یہ لوگ بھی بتائیں کہ ان کے معبودوں نے ان کے لیے زندگی میں کیا راہنمائی فراہم کی ہے ؟ کیا ان معبودوں نے بھی اپنے پجاریوں کو باقاعدہ کوئی کتاب دی ہے ؟ کیا لات ‘ منات اور ہبل نے بھی اپنے عقیدت مندوں کے لیے کوئی شریعت وضع کی ہے یا انہیں باقاعدہ کوئی نظام دیا ہے ؟ اور اگر ان نام نہاد معبودوں نے اپنا کوئی دین یا ضابطہ حیات اپنے ماننے والوں کو کبھی دیا ہی نہیں تو وہ کس حیثیت سے آخر معبود بنے بیٹھے ہیں ؟ اور ان کے پجاری آخر کس بنیاد پر ان کی پوجا کیے جا رہے ہیں ؟ { وَلَوْلَا کَلِمَۃُ الْفَصْلِ لَقُضِیَ بَیْنَہُمْ وَاِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَہُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ} ”اور اگر ایک قطعی حکم پہلے سے طے نہ ہوچکا ہوتا تو ان کے درمیان فیصلہ کردیا جاتا۔ اور ظالموں کے لیے تو بہت دردناک عذاب ہے۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 21 to 23.
جب ايك بات خدا كي كتاب سے ثابت نه هو، اس كے باوجود آدمي اس كے حق هونے پر اصرار كرے تو اس كا مطلب يه هے كه وه دوسروں كو خدا كے برابر ٹھهرارها هے۔ وه خدا كے سوا دوسروں كو يه حق دے رها هے كه وه انسان كے لیے اس كا دين وضع كريں۔يه ايك بے حد سنگين بات هے۔ حقيقت يه هے كه ’’دين‘‘ كي نوعيت كي كوئي چيز مقرر كرنے كا حق صرف ايك خدا كو هے۔ خدا كے سوا كسي اور كو يه حق دينا كھلا هوا شرك هے۔ اور شرك ايك ايسا جرم هے جو خدا كے يهاں كسي طرح معاف هونے والا نهيں۔
’’ميں تم سے كوئي بدله نهيں چاهتا مگر يه كه قرابت داري كي محبت‘‘ —يه بات پيغمبر كي زبان سے اس وقت كهلائي گئي جب كه آپ كے قبيله قريش كے لوگ آپ كي دعوت كي راه ميں سخت ترين ركا وٹيں ڈال رهے تھے۔ ان حالات ميں اس كا مطلب يه تھا كه اگر تم ميرا دين قبول نهيں كرتے تو نه كرو مگر كم از كم قرابت داري كا لحاظ كرتے هوئے اذيت رساني سے تو باز رهو۔ بالفاظ ديگر، اگر تم كو مجھ سے مذهبي اختلاف هے تو اپنے اختلاف ميں تم اخلاق اور شرافت كي سطح سے نه گر جاؤ۔ اس طرح گويا بالواسطه انداز ميں يه بتايا گيا كه آپ كي دعوت كے مخالفين صرف مخالفين نهيں هيںبلكه وه اخلاقي مجرم بھي هيں۔ وه اپنے آپ كو اخلاق كي سطح پر غلط ثابت كررهے هيں جس كي اهميت خود ان كے نزديك بھي مسلم هے۔