Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 42:18 Prev 42:16


Arabic

ٱللَّهُ ٱلَّذِيٓ أَنزَلَ ٱلۡكِتَٰبَ بِٱلۡحَقِّ وَٱلۡمِيزَانَۗ وَمَا يُدۡرِيكَ لَعَلَّ ٱلسَّاعَةَ قَرِيبٞ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

وہ اللہ ہی ہے جس نے حق کے ساتھ یہ کتاب اور میزان نازل کی ہے اور تمہیں کیا خبر، شاید کہ فیصلے کی گھڑی قریب ہی آ لگی ہو


English (Sahih International)

It is Allah who has sent down the Book in truth and [also] the balance. And what will make you perceive? Perhaps the Hour is near


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 17 { اََللّٰہُ الَّذِیْٓ اَنْزَلَ الْکِتٰبَ بِالْحَقِّ وَالْمِیْزَانَ } ”اللہ ہی ہے جس نے اتاری ہے کتاب بھی اور میزان بھی حق کے ساتھ۔“ قرآن میں صرف دو ہی مقامات ایسے ہیں جہاں کتاب اور میزان کے الفاظ ایک ساتھ اکٹھے آئے ہیں۔ ایک تو آیت زیر مطالعہ اور دوسری سورة الحدید کی یہ آیت : { لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَیِّنٰتِ وَاَنْزَلْنَا مَعَہُمُ الْکِتٰبَ وَالْمِیْزَانَ لِیَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِج…} آیت 25 ”ہم نے بھیجے اپنے رسول واضح دلیلوں کے ساتھ اور ہم نے نازل کی ان کے ساتھ کتاب اور میزان تاکہ قائم رہیں لوگ عدل پر“۔ میزان دراصل دین حق کے عملی نظام کا نام ہے۔ اس کو یوں سمجھئے کہ ”کتاب“ ہر ایک کا حق مقرر کرتی ہے اور ”میزان“ ناپ تول کر کے یہ حق حقدار کو دیتی ہے۔ چناچہ آیت زیر مطالعہ کے ان الفاظ کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ نے تمہیں دین بھی دیا ہے اور نظام بھی۔ اگر نظام نہ ہوتا تو دین کے مطابق فیصلے کیسے ہوتے اور پھر ان فیصلوں پر عمل درآمد کیونکر ہوتا ؟ { وَمَا یُدْرِیْکَ لَعَلَّ السَّاعَۃَ قَرِیْبٌ } ”اور تمہیں کیا معلوم کہ قیامت قریب ہی ہو !“ ”السَّاعۃ“ سے مراد قیامت کی گھڑی ہے ‘ اگرچہ انفرادی سطح پر دیکھا جائے تو ہر شخص کی موت ہی گویا اس کی قیامت ہے۔ جیسا کہ ایک حدیث میں آتا ہے : مَنْ مَاتَ فَقَدْ قَامَتْ قِیَامَتُـہٗ 1 ”جس کو موت آگئی پس اس کی قیامت تو قائم ہوگئی“۔ مقامِ غور ہے کہ اس حوالے سے ہمیں کس قدر مشکل صورت حال کا سامنا ہے۔ ایک طرف ہم میں سے ہر ایک کی ”قیامت“ اس کے سر پر کھڑی ہے اور دوسری طرف اللہ کی ”میزان“ کو نصب کرنے کی بھاری ذمہ داری ہے جو ہم سب کے کندھوں پر آن پڑی ہے۔ اب اگر ہم نے ابھی اور اسی وقت اس ذمہ داری کا احساس نہ کیا اور اس کے لیے فوری طور پر ہم اپنا تن من دھن لگا دینے کے لیے میدانِ عمل میں نہ اترے تو نہ معلوم ہم میں سے کس کس کی مہلت ِعمل کچھ کیے بغیر ہی ختم ہوجائے۔ آج ہم میں سے کون کہہ سکتا ہے کہ اسے کل کا سورج بھی دیکھنا نصیب ہوگا یا نہیں ! اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم مزید وقت ضائع کیے بغیر اس ِجدوجہد ّمیں جت جائیں۔ اس فیصلے کے لیے تاخیر اور تاجیل میں وقت ضائع کرنا سب سے بڑی حماقت ہے :


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 17 and 18.

جس طرح مادي چيزوں كو تولنے كے لیے ترازو هوتي هے اسي طرح معنوي حقيقتوں كو تولنے كے لیے خدانے اپني كتاب اتاري هے۔ خدا كي كتاب حق اور باطل كو ايك دوسرے سے الگ كرنے كي كسوٹي هے۔ هر دوسري چيز كو خدا كي كتاب پر جانچا جائے گا، نه يه كه خدا كي كتاب كو دوسري چيزوں پر جانچا جانے لگے۔

پيغمبركے زمانه ميں جو لوگ آپ كي مخالفت كررهے تھے ان كي غلطي يه تھي كه ان كي قومي روايات اور ان كے اكابر كے اقوال واعمال سے ان كے يهاں جو دين بنا تھا اس كو معيار مان كر اسي كي روشني ميں وه خدا كي كتاب كو ديكھتے تھے۔ حالانكه ان كے لیے صحيح بات يه تھي كه وه قومي روايات اور بزرگوں كے اقوال وافعال كو خدا كي كتاب كي روشني ميں ديكھيں۔ جو چيز خدا كي كتاب كے معيار پر پوري اترے اس كو ليں اور جو چيز خدا كي كتاب كے معيار پر پوري نه اترے اس كو چھوڑ ديں۔

جانچنے كا يه كام موجوده دنيا ميں آدمي كو خود كرنا هے۔ آخرت ميں يه كام خدا كي طرف سے انجام ديا جائےگا۔ عقل مند وه هے جو قيامت ميں تولے جانے سے پهلے اپنے آپ كو تول لے۔كيونكه قيامت كي تول آخري فيصله كے لیے هوگي، نه كه عمل كي مهلت دينے كے ليے۔


Connections

  • Previous: 42_16
  • Next: 42_18
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes