Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 42:15 Prev 42:13


Arabic

وَمَا تَفَرَّقُوٓاْ إِلَّا مِنۢ بَعۡدِ مَا جَآءَهُمُ ٱلۡعِلۡمُ بَغۡيَۢا بَيۡنَهُمۡۚ وَلَوۡلَا كَلِمَةٞ سَبَقَتۡ مِن رَّبِّكَ إِلَىٰٓ أَجَلٖ مُّسَمّٗى لَّقُضِيَ بَيۡنَهُمۡۚ وَإِنَّ ٱلَّذِينَ أُورِثُواْ ٱلۡكِتَٰبَ مِنۢ بَعۡدِهِمۡ لَفِي شَكّٖ مِّنۡهُ مُرِيبٖ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

لوگوں میں جو تفرقہ رو نما ہوا وہ اِس کے بعد ہوا کہ اُن کے پاس علم آ چکا تھا، اور اس بنا پر ہوا کہ وہ آپس میں ایک دوسرے پر زیادتی کرنا چاہتے تھے اگر تیرا رب پہلے ہی یہ نہ فرما چکا ہوتا کہ ایک وقت مقرر تک فیصلہ ملتوی رکھا جائے گا تو ان کا قضیہ چکا دیا گیا ہوتا اور حقیقت یہ ہے کہ اگلوں کے بعد جو لوگ کتاب کے وارث بنائے گئے وہ اُس کی طرف سے بڑے اضطراب انگیز شک میں پڑے ہوئے ہیں


English (Sahih International)

And they did not become divided until after knowledge had come to them - out of jealous animosity between themselves. And if not for a word that preceded from your Lord [postponing the penalty] until a specified time, it would have been concluded between them. And indeed, those who were granted inheritance of the Scripture after them are, concerning it, in disquieting doubt


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 14 { وَمَا تَفَرَّقُوْٓا اِلَّا مِنْم بَعْدِ مَا جَآئَ ہُمُ الْعِلْمُ بَغْیًام بَیْنَہُمْ } ”اور انہوں نے تفرقہ نہیں کیا مگر اس کے بعد کہ ان کے پاس علم آچکا تھا ‘ آپس میں ضدم ّضدا کے باعث۔“ عرب میں حضور ﷺ کی دعوت ِاقامت ِدین کے مخاطبین بنیادی طور پر دو گروہ تھے ‘ یعنی مشرکین اور اہل کتاب۔ ان میں مشرکین کا تو اس دعوت کو ماننا بہت مشکل تھا اور یہ تلخ حقیقت پچھلی آیت میں واضح بھی کردی گئی ہے کہ آپ ﷺ کی یہ دعوت مشرکین پر بہت شاق گزر رہی ہے۔ البتہ اہل کتاب کا اس دعوت پر ایمان لے آنا نسبتاً زیادہ قرین قیاس تھا ‘ کیونکہ وہ تورات و انجیل جیسی الہامی کتابوں سے واقف تھے اور وحی ‘ ملائکہ اور آخرت پر بھی ایمان رکھتے تھے۔ لیکن زیر مطالعہ آیت میں حضور ﷺ کو بتایا جا رہا ہے کہ آپ ﷺ اہل کتاب سے بھی مثبت رد عمل کی توقع نہ رکھیں۔ کیونکہ ان دونوں گروہوں کی طرف سے اب تک کی مخالفت کسی لاعلمی کی وجہ سے نہیں ہوئی ہے ‘ بلکہ اللہ تعالیٰ کا اصل پیغام تو ان تک پہنچ چکا ہے ‘ بات پوری طرح واضح ہو کر ان کے دلوں میں اترچکی ہے۔ اس صورت حال میں ان کا انکار اور ان کی مخالفت محض باہمی تعصب اور ضد بازی کی بنا پر ہے ‘ کہ ہم محمد ﷺ کے پیروکار بن کر انہیں خود سے بڑا کیونکر تسلیم کرلیں اور اپنے آپ کو ان ﷺ کے سامنے چھوٹا کیسے بنا لیں ؟ اہل کتاب خود آپس میں بھی ایک دوسرے کی مخالفت اسی تعصب کی بنیاد پر کرتے ہیں ‘ جس کا ذکر سورة البقرۃ میں اس طرح آیا ہے : { وَقَالَتِ الْیَہُوْدُ لَیْسَتِ النَّصٰرٰی عَلٰی شَیْئٍص وَّقَالَتِ النَّصٰرٰی لَیْسَتِ الْیَہُوْدُ عَلٰی شَیْئٍ لا وَّہُمْ یَتْلُوْنَ الْکِتٰبَ } آیت 133 ”یہودی کہتے ہیں کہ نصاریٰ کسی بنیاد پر نہیں ہیں اور نصاریٰ کہتے ہیں کہ یہودی کسی بنیاد پر نہیں ہیں ‘ حالانکہ دونوں ہی کتاب پڑھ رہے ہیں۔“ عہدنامہ قدیم Old Testament یہودیوں اور عیسائیوں میں مشترک ہے۔ اس کے باوجود ان کی باہمی مخاصمت کا یہ عالم َہے کہ وہ ایک دوسرے کے قبلہ کو بھی تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ یروشلم کی ”سمت“ پر اگرچہ دونوں گروہوں کا اتفاق ہے ‘ لیکن باہمی عناد کی بنا پر ایک گروہ شرقی حصے کو قبلہ مانتا ہے جبکہ دوسرا غربی حصے کو۔ اس صورت حال میں حضور ﷺ سے فرمایا جا رہا ہے کہ یہ لوگ تعصب کے مرض میں مبتلا ہیں ‘ اس لیے آپ ﷺ ان میں سے کسی گروہ سے کسی مثبت رویے کی توقع نہ رکھیں ‘ ورنہ آپ ﷺ کو مایوسی ہوگی۔ بلکہ آپ ﷺ ان کی طرف سے انتہائی سخت اور منفی ردعمل کے لیے خود کو تیار کھیں۔ اس میں دراصل حضور ﷺ کے لیے بین السطور یہ پیغام بھی ہے کہ اقامت دین کی جدوجہد ایک طویل اور جاں گداز عمل ہے۔ اس لیے آپ ﷺ موافق حالات اور جلد کامیابی کی توقع نہ رکھیں۔ { وَلَوْلَا کَلِمَۃٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّکَ اِلٰٓی اَجَلٍ مُّسَمًّی لَّقُضِیَ بَیْنَہُمْ } ”اور اگر ایک بات آپ کے رب کی طرف سے پہلے سے ایک وقت معین کے لیے طے نہ پا چکی ہوتی تو ان کے مابین اختلافات کا فیصلہ چکا دیا جاتا۔“ { وَاِنَّ الَّذِیْنَ اُوْرِثُوا الْکِتٰبَ مِنْ بَعْدِہِمْ لَفِیْ شَکٍّ مِّنْہُ مُرِیْبٍ } ”اور جو لوگ کتاب کے وارث بنائے گئے ان کے بعد وہ اس کے متعلق ایک خلجان آمیز شک میں مبتلا ہیں۔“ یہ نکتہ خاص طور پر بہت اہم اور لائق توجہ ہے کہ ”وارثانِ کتاب“ کے اذہان وقلوب میں الجھن میں ڈالنے والے شکوک و شبہات کیوں ڈیرے جما لیتے ہیں ؟ دراصل ہوتا یوں ہے کہ شروع شروع میں سب معاملات بالکل ٹھیک چلتے رہتے ہیں ‘ مگر چوتھی پانچویں نسل تک آتے آتے معاملات اس وقت بگڑنے لگتے ہیں جب نوجوان اپنے علماء کو باہم دست و گریباں ہوتے دیکھتے ہیں اور ان کے دامن حیات کو متاع عمل سے خالی پاتے ہیں۔ ایسی صورت حال سے بیزار ہو کر علماء کے ساتھ ساتھ وہ اپنی ”کتاب“ سے بھی بدظن ہونے لگتے ہیں۔ یہ نوجوان خود تو کتاب کے علوم و معارف تک رسائی حاصل کرنے کی زحمت نہیں اٹھاتے لیکن اس مفروضے کو اپنے دلوں میں ضرور بٹھا لیتے ہیں کہ جب کتاب کے ”علماء“ کے کردار و عمل میں روشنی کی کوئی کرن دکھائی نہیں دیتی تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسی کوئی روشنی اس کتاب کے اندر سرے سے موجود ہی نہیں۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

علم آنے كے بعد متفرق هونے كا مطلب يه هے كه دين حق كي دعوت بلند هو اور پھر بھي آدمي اس سے الگ رهے۔ يا اس كا مخالف بن كر كھڑا هوجائے۔ رسول الله صلي الله عليه وسلم كے ذريعه الله تعالي نے دين كو اس كے خالص انداز ميں كھولا۔ اب چاهئے تھا كه تمام وه لوگ جو خدا كے طالب هيں وه آپ كے ساتھ جڑ جائيں۔ مگر وه آپ كے ساتھ جڑنے كے لیے تيار نهيں هوئے۔ پچھلے نبيوں كے ساتھ اپنے آپ كو منسوب كركے وه لوگوں كے درميان دين داري كا مقام حاصل كئے هوئے تھے۔ انھوں نے سمجھا كه يهي ان كے لیے كافي هے حالانكه جب دين صحيح كي دعوت بلند هو تو تمام لوگوں كے لیے لازم هوجاتا هے كه وه اپنے گھروندوں كو ڈھا ديں اور دين صحيح كے ساتھ اپنے آپ كو وابسته كريں۔ جو لوگ ايسا نه كريں وه خدا كے نزديك مجرم هيں ، خواه وه غير دين دار هوں يا بظاهر دين دار۔

دينِ حق كي دعوت جب اٹھتي هے تو كچھ لوگ ’’بغي‘‘ كي بنياد پر اس كے منكر بن جاتے هيں۔ اور كچھ لوگ شك كي بنياد پر اس سے دور رهتے هيں۔ بغي سے مراد حسد اور تكبر هے۔ يه ان لوگوں كا معامله هے جو ماحول ميں بڑائي كا مقام حاصل كيے هوئے هوں۔ حق كو ماننے ميں انھيں بڑائي كے مقام سے نيچے اترنا پڑتا هے۔ چونكه وه اپنے آپ كو چھوٹا كرنے پر راضي نهيں هوتے اس ليے وه حق كي دعوت كو چھوٹا كرنے ميں سرگرم هوجاتے هيں تاكه اپنے موقف كو جائز ثابت كرسكيں۔

شك اور تردد كا معامله اكثر عوام الناس كے ساتھ پيش آتا هے۔ داعي كي بات انھيں دليل كي سطح پر وزني معلوم هوتي هے۔مگر ان اكابر كو چھوڑنا بھي ان كے لیے مشكل هوتا هے جن كي عظمت ان كے ذهن پر پهلے سے قائم هوچكي هو۔ يه دو طرفه تقاضے ان كے لیے آخري فيصله تك پهنچنے ميں ركاوٹ بن جاتے هيں۔ پهلے گروه نے اگر تكبر كي نفسيات كے تحت حق كو نظر انداز كيا تھا تو دوسرا گروه شك كي نفسيات كے تحت اس كو اختيار نهيں كرپاتا۔ حق كو قبول كرنے سے يه بھي محروم رهتا هے اور وه بھي ۔


Connections

  • Previous: 42_13
  • Next: 42_15
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes