Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
قُلۡ إِنَّمَآ أَنَا۠ بَشَرٞ مِّثۡلُكُمۡ يُوحَىٰٓ إِلَيَّ أَنَّمَآ إِلَٰهُكُمۡ إِلَٰهٞ وَٰحِدٞ فَٱسۡتَقِيمُوٓاْ إِلَيۡهِ وَٱسۡتَغۡفِرُوهُۗ وَوَيۡلٞ لِّلۡمُشۡرِكِينَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
اے نبیؐ، اِن سے کہو، میں تو ایک بشر ہوں تم جیسا مجھے وحی کے ذریعہ سے بتایا جاتا ہے کہ تمہارا خدا تو بس ایک ہی خدا ہے، لہٰذا تم سیدھے اُسی کا رخ اختیار کرو اور اس سے معافی چاہو تباہی ہے اُن مشرکوں کے لیے
English (Sahih International)
Say, O [Muhammad], “I am only a man like you to whom it has been revealed that your god is but one God; so take a straight course to Him and seek His forgiveness.” And woe to those who associate others with Allah
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 6 { قُلْ اِنَّمَآ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ } ”آپ ﷺ کہہ دیجیے کہ میں تو بس ایک انسان ہوں تمہاری طرح کا“ مخالفین کی طرف سے چیلنج کا گستاخانہ انداز دیکھئے اور حضور ﷺ کا جواب ملاحظہ فرمائیے۔ یعنی میں نے تم لوگوں کے سامنے نہ تو خدائی کا دعویٰ کیا ہے اور نہ ہی میں نے کہا ہے کہ میں فرشتہ ہوں۔ میں تو بس ایک انسان ہوں۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ میرے پاس اللہ کی طرف سے وحی آتی ہے۔ { یُوْحٰٓی اِلَیَّ اَنَّمَآ اِلٰہُکُمْ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ} ”میری طرف وحی کی جا رہی ہے کہ تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے“ ان سورتوں کا مرکزی مضمون چونکہ توحید ہے ‘ اس لیے سورت کے آغاز میں ہی اس مضمون کو نمایاں کیا جا رہا ہے۔ { فَاسْتَقِیْمُوْٓا اِلَیْہِ وَاسْتَغْفِرُوْہُ } ”تو اسی کی طرف سیدھا رکھو اپنے رخ کو اور اس سے استغفار کرو۔“ جو خطائیں اور غلطیاں اس سے پہلے ہوچکی ہیں ان کی معافی مانگو اور کفر و شرک کے عقائد سے توبہ کرو۔ { وَوَیْلٌ لِّلْمُشْرِکِیْنَ } ”اور بڑی تباہی اور ہلاکت ہوگی مشرکین کے لیے۔“
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 6 to 8.
حق کی دعوت جب اٹھتی ہے ’’بشر‘‘ کی سطح پراٹھتی ہے۔ لوگوںکی سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک بشر خدا کی زبان میں کلام کرے۔ اس ليے وہ اس کے منکر بن جاتے ہیں مگر خدا کی سنّت یہی ہے کہ وہ بشر کی زبان سے اپنی بات کا اعلان کرائے۔ جو شخص داعی کی بشریت سے گزر کر اس کے الٰہی کلام کو نہ پہچان سکے وہ موجودہ امتحان کی دنیا میں ہدایت سے محروم رہے گا۔
آخرت کو ماننا وہی معتبر ہے جس کے ساتھ کامل توحید اور انفاق فی سبیل اللہ پایا جائے۔ جو شخص اللہ کو حقیقی طورپر پالے وہ کسی اور عظمت میں اٹکا ہوا نہیں رہ سکتا۔ اسی طرح جو شخص اللہ کو حقیقی طورپر پالے وہ اپنے مال کو خدا سے بچا کر نہیں رکھ سکتا۔
فَاسْتَقِيمُوا إِلَيْهِکا مطلب ہے أَخْلِصُوا لَهُ الْعِبَادَةَ (تفسیر ابن کثیر، جلد7، صفحہ
164
)یعنی، تمہاری ساری توجہ صرف اللہ کی طرف ہو تمھاری دعا اور عبادت کا مرجع صرف ایک اللہ ہو۔ تمھاری سوچ تمام تر خدا رخی سوچ بن جائے۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کو خدا کے ابدی انعامات دئے جائیں گے۔