Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
وَإِذَآ أَنۡعَمۡنَا عَلَى ٱلۡإِنسَٰنِ أَعۡرَضَ وَنَـَٔا بِجَانِبِهِۦ وَإِذَا مَسَّهُ ٱلشَّرُّ فَذُو دُعَآءٍ عَرِيضٖ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
انسان کو جب ہم نعمت دیتے ہیں تو وہ منہ پھیرتا ہے اور اکڑ جاتا ہے اور جب اسے کوئی آفت چھو جاتی ہے تو لمبی چوڑی دعائیں کرنے لگتا ہے
English (Sahih International)
And when We bestow favor upon man, he turns away and distances himself; but when evil touches him, then he is full of extensive supplication
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 51{ وَاِذَآ اَنْعَمْنَا عَلَی الْاِنْسَانِ اَعْرَضَ وَنَاٰ بِجَانِبِہٖ } ”اور جب ہم انسان پر نعمتوں کی بارش کردیتے ہیں تو وہ رخ پھیر لیتا ہے اور اپنا پہلو بدل لیتا ہے۔“ { وَاِذَا مَسَّہُ الشَّرُّ فَذُوْ دُعَآئٍ عَرِیْضٍ } ”اور جب اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو بڑی لمبی لمبی دعائیں کرنے لگتا ہے۔“
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 51 and 52.
انسان كو نعمت اس ليے دي جاتي هے كه وه اس كو خدا كا عطيه قرار دے كر اس كا شكر ادا كرے۔ مگر انسان کا حال يه هے كه وه نعمت پاكر سركش بن جاتا هے۔ البته جب انسان پر كوئي تكليف پڑتي هے تو اس وقت وه خدا كو پكارنے لگتا هے۔ مگر مجبورانه پكار كي خدا كے يهاں كوئي قيمت نهيں۔ انسان كي خوبي يه هے كه وه نعمت كے وقت بھي خدا كے آگے جھكے اور تكليف كے وقت بھي۔
انسان كي يهي نفسيات هے جو اس كو حق كے انكار پر آماده كرتي هے۔ حق كسي كو مجبور نهيں كرتا، وه اختيارانه جھكاؤ كا طالب هوتا هے۔ چنانچه جن لوگوں كے اندر اختيارانه جھكاؤ كا ماده نهيں هوتا وه ايسے حق كو نظر انداز كرديتے هيں جس كو نظر انداز كردينے سے بظاهر ان كے اوپر كوئي آفت ٹوٹ پڑنے والي نه هو۔