Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
لَّا يَسۡـَٔمُ ٱلۡإِنسَٰنُ مِن دُعَآءِ ٱلۡخَيۡرِ وَإِن مَّسَّهُ ٱلشَّرُّ فَيَـُٔوسٞ قَنُوطٞ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
انسان کبھی بھلائی کی دعا مانگتے نہیں تھکتا، اور جب کوئی آفت اِس پر آ جاتی ہے تو مایوس و دل شکستہ ہو جاتا ہے
English (Sahih International)
Man is not weary of supplication for good [things], but if evil touches him, he is hopeless and despairing
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 49{ لَا یَسْئَمُ الْاِنْسَانُ مِنْ دُعَآئِ الْخَیْرِ } ”انسان بھلائی مانگنے سے نہیں تھکتا“ یہاں بھلائی خیر سے مراد دنیوی نعمتوں اور مال و دولت کی فراوانی ہے۔ کسی انسان کے پاس جتنی چاہے دولت ہو اور جس قدر چاہے نعمتیں اسے میسر ہوں ‘ پھر بھی مزید حاصل کرنے کی اس کی خواہش کبھی ختم نہیں ہوتی۔ { وَاِنْ مَّسَّہُ الشَّرُّ فَیَئُوْسٌ قَنُوْطٌ} ”اور اگر کہیں اسے کوئی تکلیف پہنچ جائے تو بالکل مایوس و دل شکستہ ہوجاتا ہے۔“
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 49 and 50.
مصيبت كا لمحه انسان كے ليے اپني دريافت كا لمحه هوتا هے۔ چنانچه جب مصيبت پڑتي هے تو وه خودسري كو بھول كر خدا كو ياد كرنے لگتا هے۔ اس وقت وه جان ليتا هے كه وه عبد هے اور خدا اس كا معبود۔
مگر جب خدا اس كي مصيبت كو اس سے دور كرديتا هے اور اس كو آسائش كا سامان عطا كرتا هےتو اس كے بعد وه فوراً اپني سابقه حالت كو بھول جاتا هے۔ وه ملي هوئي نعمت كو اسباب كے ساتھ جوڑ ديتاهے اور اِس كو اپني تدبير اور لياقت كا نتيجه سمجھنے لگتا هے۔ اس كي نفسيات ايسي هوجاتي هے گويا كه زندگي بس اسي دنيا كي زندگي هے۔ اس كے بعد نه دوباره اٹھنا هے اور نه خدا كي عدالت ميں كھڑا هونا هے۔ مزيد يه كه اس كي آسوده حالي اس كو اس غلط فهمي ميں ڈال ديتي هے كه يهاں جب ميرا حال اچھا هے تو اگلي دنيا ميں بھي ضرورميرا حال اچھا هوگا۔