Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 41:48 Prev 41:46


Arabic

۞إِلَيۡهِ يُرَدُّ عِلۡمُ ٱلسَّاعَةِۚ وَمَا تَخۡرُجُ مِن ثَمَرَٰتٖ مِّنۡ أَكۡمَامِهَا وَمَا تَحۡمِلُ مِنۡ أُنثَىٰ وَلَا تَضَعُ إِلَّا بِعِلۡمِهِۦۚ وَيَوۡمَ يُنَادِيهِمۡ أَيۡنَ شُرَكَآءِي قَالُوٓاْ ءَاذَنَّـٰكَ مَامِنَّا مِن شَهِيدٖ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

اُس ساعت کا علم اللہ ہی کی طرف راجع ہوتا ہے، وہی اُن سارے پھلوں کو جانتا ہے جو اپنے شگوفوں میں سے نکلتے ہیں، اسی کو معلوم ہے کہ کونسی مادہ حاملہ ہوئی ہے اور کس نے بچہ جنا ہے پھر جس روز وہ اِن لوگوں کو پکارے گا کہ کہاں ہیں میرے وہ شریک؟ یہ کہیں گے، “ہم عرض کر چکے ہیں، آج ہم میں سے کوئی اِس کی گواہی دینے والا نہیں ہے


English (Sahih International)

To him [alone] is attributed knowledge of the Hour. And fruits emerge not from their coverings nor does a female conceive or give birth except with His knowledge. And the Day He will call to them, “Where are My ‘partners’?” they will say, “We announce to You that there is [no longer] among us any witness [to that]


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 47{ اِلَیْہِ یُرَدُّ عِلْمُ السَّاعَۃِ } ”اسی کی طرف لوٹتا ہے قیامت کا علم۔“ یعنی قیامت کا علم صرف اسی کے پاس ہے۔ { وَمَا تَخْرُجُ مِنْ ثَمَرٰتٍ مِّنْ اَکْمَامِہَا وَمَا تَحْمِلُ مِنْ اُنْثٰی وَلَا تَضَعُ اِلَّا بِعِلْمِہٖ } ”اور نہیں نکلتے کوئی پھل اپنے غلافوں سے اور نہ کسی مادہ کو حمل ہوتا ہے اور نہ ہی وہ اس کو جنتی ہے ‘ مگر اسی کے علم سے۔“ یعنی صرف قیامت ہی نہیں بلکہ تمام امور غیب کا علم اللہ ہی کے لیے مخصوص ہے۔ مزید برآں اللہ تعالیٰ جزئیات کا بھی اتنا تفصیلی علم رکھتا ہے کہ اس کی نگاہ سے کسی شخص کا کوئی چھوٹا سا عمل بھی مخفی نہیں رہ سکتا۔ واضح رہے کہ یہاں پر اُنْثٰی کا لفظ اپنے مفہوم کے اعتبار سے انسانوں کے علاوہ تمام حیوانات کی مادائوں کا احاطہ بھی کرتا ہے۔ { وَیَوْمَ یُنَادِیْہِمْ اَیْنَ شُرَکَآئِ } ”اور جس دن وہ ان کو پکارے گا کہ کہاں ہیں میرے وہ شریک ؟“ { قَالُوْٓا اٰذَنّٰکَ مَا مِنَّا مِنْ شَہِیْدٍ } ”وہ کہیں گے : ہم نے تو آپ سے عرض کردیا ہے کہ ہم میں سے کوئی بھی اس کی گواہی دینے والا نہیں۔“ اس وقت وہ بےبسی کے عالم میں یہ بھی نہیں کہہ سکیں گے کہ دنیا میں ہم نے واقعتا کچھ سہارے ڈھونڈ کر ان سے امیدیں وابستہ کر رکھی تھیں۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 47 and 48.

درخت سے ايك پھل كا نكلنا يا ماں كے پيٹ سے ايك زنده وجود كا پيدا هونا اپني نوعيت كے اعتبار سے ويسا هي واقعه هے جيسا موجوده دنيا كے اندر سے آخرت كي دنيا كا برآمد هونا۔

پھل كيا هے، وه بے پھل كا پھل ميں تبديل هونا هے۔ انسان كيا هے، وه بے انسان كا انسان كي صورت اختيار كرنا هے۔ يهي آخرت كا معامله بھي هے۔ آخرت بھي دراصل غير آخرت كا آخرت ميں تبديل هونے كا دوسرا نام هے۔ پهلي قسم كي تبديلي هر روز همارے سامنے واقعه بن رهي هے۔ پھر اسي نوعيت كے ايك اور واقعه (موجوده دنيا كا آخرت ميں تبديل هونا) ناقابل قياس كيوں هو۔

آخرت كا دن حقيقتوں كے آخري ظهور كا دن هوگا۔ جب وه دن آئے گا تو تمام جھوٹي بنياديں ڈھ پڑيں گي جن پر لوگوں نے موجوده دنيا ميں اپني زندگيوں كو كھڑا كرركھا تھا۔


Connections

  • Previous: 41_46
  • Next: 41_48
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes